قندھار(خبرايجنسياں) افغانستان میں حکام نے کہا ہے کہ جنوبی شہر قندھار کی مرکزی جیل سے لگ بھگ پانچ سو قیدی فرار ہو گئے ہیں جن میں زیادہ تر کا تعلق طالبان سے ہے۔
طالبان کے ایک ترجمان قاری یوسف احمدی نے میڈیا کو اطلاع دی ہے کہ ایک منظم منصوبے کے تحت فرار ہونے والے قیدیوں میں لگ بھگ ایک سوطالبان کمانڈر جبکہ دیگر افراد میں بھی زیادہ تر اُن کے جنگجو شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تین سو بیس میٹر یا ایک ہزار پچاس فٹ لمبی اس سرنگ کو انہیں کھودنے میں پانچ ماہ کا عرصہ لگا۔
قندھار جیل میں قیدیوں کی کل تعداد بارہ سو بتائی گئی ہے اور جیل کے ایک نگران غلام دستگیر معیارنے صحافیوں کو بتایاکہ زیر حراست زیادہ تر افراد کا تعلق افغانستان میں جاری شورش یا پھر منشیات کے اسمگلروں سے ہے۔
مقامی حکام نے کہا ہے کہ جیل توڑنے کا واقعہ اتوار کی شب گیارہ بجے پیش آیا اور تما م قیدی خفیہ طور پرجیل کی جنوب سے اندر کی طرف کھودی گئی کئی سو میٹر طویل ایک سرنگ کے راستے فرار ہوئے۔
تین سالوں میں قندھار جیل سے قیدیوں کے فرار کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے۔
2008ء میں تقریباََ ایک ہزار قیدی اُس وقت فرار ہونے میں کامیا ب ہوگئے تھے جب طالبان جنگجوؤں نے بارود سے بھرے ایک ٹرک کو قندھار جیل کے داخلی دروازے سے ٹکرا دیا اور طاقتور دھماکے سے عمارت کا کچھ حصہ منہدم ہوگیا۔ فرار ہونے والے قیدیوں میں طالبان جنگجو بھی شامل تھے.
انہوں نے کہا کہ تین سو بیس میٹر یا ایک ہزار پچاس فٹ لمبی اس سرنگ کو انہیں کھودنے میں پانچ ماہ کا عرصہ لگا۔
قندھار جیل میں قیدیوں کی کل تعداد بارہ سو بتائی گئی ہے اور جیل کے ایک نگران غلام دستگیر معیارنے صحافیوں کو بتایاکہ زیر حراست زیادہ تر افراد کا تعلق افغانستان میں جاری شورش یا پھر منشیات کے اسمگلروں سے ہے۔
مقامی حکام نے کہا ہے کہ جیل توڑنے کا واقعہ اتوار کی شب گیارہ بجے پیش آیا اور تما م قیدی خفیہ طور پرجیل کی جنوب سے اندر کی طرف کھودی گئی کئی سو میٹر طویل ایک سرنگ کے راستے فرار ہوئے۔
تین سالوں میں قندھار جیل سے قیدیوں کے فرار کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے۔
2008ء میں تقریباََ ایک ہزار قیدی اُس وقت فرار ہونے میں کامیا ب ہوگئے تھے جب طالبان جنگجوؤں نے بارود سے بھرے ایک ٹرک کو قندھار جیل کے داخلی دروازے سے ٹکرا دیا اور طاقتور دھماکے سے عمارت کا کچھ حصہ منہدم ہوگیا۔ فرار ہونے والے قیدیوں میں طالبان جنگجو بھی شامل تھے.

آپ کی رائے