امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو با ضابطہ اسرائیل کا نیا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے امریکی سفارتخاجہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
دنیا بھر کے مسلمانوں میں امریکی اقدام کے خلاف شدید اشتعال پیدا ہوگیا ہے، جس کا اظہار مختلف صورتوں میں سامنے آرہا ہے۔ صورت حال پر مشترکہ ردعمل تیار کرنے کے لیے ترک صدر نے اور آئی سی کا اجلاس طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ خطے کو لامتناہی آگ میں دھکیل دے گا۔
بالآخر انتہاپسند اور صہیونت نواز امریکی صدر نے اپنے انتخابی وعدوں اور نعروں پر عمل درآمد کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کو نئے خلفشار کی طرف دھکیل دیا ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ عشرے کے دوران استعماری طاقتوں کی جانب سے افغانستان، یمن، لبنان، کویت، بحرین، سعودی عرب، شام، عراق، پاکستان کو عدم استحکام سے اسی لیے دو چار کیا گیا کہ اسرائیل کو اپنے مفادات سمیٹنے میں کسی قسم کی دشواری اور مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے اور قبلۂ اول کو بآسانی ہتھیا کر معاذاللہ مزعومہ ہیکل سلیمانی تعمیر کیا جاسکے۔ حالیہ امریکی اقدام نے واضح کردیا کہ دنیا میں جنگل کا قانون نافذ ہے اور انسانیت تیسری جنگ عظیم کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ اس موقع پر انسانیت نواز حلقوں نے فوری اور جاندار ردعمل ظاہر نہ کیا تو پیدا ہونے والی تباہی و بربادی کسی خاص مذہب اور نسل سے متعلق نہ ہوگی بلکہ اس کا دائرہ اثر پوری انسانیت کو محیط ہوگا۔ امریکا اور اس کے ہم نوا خود کو امن پسند باور کراتے ہیں اور انہی کی سرپرستی میں قیام امن کے نام پر انسداد دہشت گردی کی عالمی جنگ جاری ہے، مگر یہ کتنی حیران کن بات ہے کہ امریکی حکمران اپنے لے پالک اسرائیل کی توسیع اور استحکام کی خاطر مسلمانوں کے انسانی، مذہبی، ثقافتی، معاشی، سیاسی، تاریخی اور سماجی حقوق پر ڈاکا ڈال رہے ہیں اور تاریخ کی بدترین دہشت گردی، مسلم نسل کسی اور جنگی جرائم کے مرتکب بن رہے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف جاری امتیازی اور جارحانہ سلوک و اقدامات کی کہیں شنوائی نہیں ہو رہی۔ ٹرمپ کے اشتعال انگیز فیصلے پر دنیا کے باشعور اور غیرجانب دار حلقوں کا احتجاج اور مذمت حق بجانب ہے۔ اگر موجودہ امریکی صدر نے اسلامی دنیا کے مفادات اور مطالبات کو درخور اعتنا نہ جانا تو دنیا بھر میں امریکی عوام اور امریکی مفادات غیرمحفوظ ہوجائیں گے نیز امریکی معیشت کو بھی ناقابل بیان نقصانات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اس بنا پر امریکی عوام کو احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور جمہوری و قانونی طریقوں سے دباؤ ڈال کر ٹرمپ پالیسیوں کو سختی سے مسترد کردینا چاہیے۔ امریکی قانون سازوں کو ایسی پالیسی وضع کرنی چاہیے کہ آئندہ کوئی غیر سنجیدہ اور تلون مزاج شخص صدارتی منصب پر فائز نہ ہوسکے جو امریکی عوام کو اپنے نظریات کی بھینٹ چڑھائے۔
بیت المقدس شروع دن سے آسمانی تعلیمات کا مرکز و گہوارہ بنا چلا آرہا ہے۔ قرآن کریم نے مسجد اقصیٰ اور اس کے اردگرد علاقے کو بابرکت قرار دیا ہے۔ قبل از اسلام اس مقدس سرزمین کی تولیت یہود کے پاس رہی، لیکن اسلام کی آمد پر سابق آسمانی مذاہب منسوخ ہوگئے اور یہود سے یہ حق تاقیامت واپس لے لیا گیا اور اب قرآن و سنت کی واضح ترین تعلیمات و ہدایات کی روشنی میں کرہ ارض کے تیسرے مقدس ترین مقام کی نگرانی اور تولیت کے حق دار صرف اور صرف مسلمان ہیں۔ گو مسلمانوں کے خلاف طویل سازش اور دجل و فریب کے بعد ۱۹۴۸ء میں قیام اسرائیل کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے قبلہ اول پر ناجائز اور ظالمانہ تسلط حاصل کرنا تھا اور اسی وجہ سے اسرائیل کے قیام کے ساتھ ہی تمام تر اہم سرکاری، انتظامی اور ریاستی عمارتیں و دفاتر بیت المقدس میں قائم کیے گئے، تا ہم اقوام متحدہ کی قراردادوں نے شہر پر اسرائیلی قبضے کو ’’متنازع‘‘ قرار دے کر حد فاصل قائم کردی۔ جس کی بنا پر اسرائیل سے سفارتی تعلقات رکھنے والے ممالک نے سفارت خانے مقبوضہ بیت المقدس کی بجائے تل ابیب میں کھولے۔ جبکہ ۱۹۹۵ء سے امریکا میں یہ قرداد پاس ہوئی کہ امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کیا جائے تا کہ اسرائیل کے بیت المقدس پر ناجائز اور غاصبانہ قبضے کو سند جواز فراہم کی جاسکے۔ مگر ۲۲ برس کے دوران آنے والے ہر امریکی صدر نے معاملے کو خواہی نہ خواہی ملتوی رکھا، یہاں تک کہ قرعہ فال شدت پسند اور متعصب ڈونلڈ ٹرمپ کے نام نکلا۔ اس تناظر میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ امریکی سفارت خانے کی منتقلی کا معاملہ کس قدر حساسیت اور نزاکت کا حامل ہے اور اس پر عالم اسلام کا بے چین و مضطرب ہونا فطری امر۔ ترکی نے اور آ سی اجلاس طلب کر کے ذمہ داری کا ثبوت پیش کیا ہے۔ تمام اسلامی ممالک پر لازم ہے کہ وہ مشترکہ پلیٹ فارم کے توسط سے امریکا کو دو ٹوک انداز میں پیغام پہنچائیں کہ عالم اسلام تمام تر داخلی کمزوریوں کے باوجود قبلہ اول کی سلامتی اور دفاع کے نکتے پر متحد ہے۔ خدانخواستہ اس موقع پر اسلامی ممالک کی سیاسی و عسکری قیادت نے اپنے حصے کا کام ذمہ داری اور سنجیدگی کے ساتھ انجام نہ دیا تو اسے عوامی غیظ و غضب کا نشانہ بننا پڑے گا۔
یہ ایک تلخ سچائی ہے کہ اب تک اسلامی دنیا نے مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے زبانی جمع خرچ سے بڑھ کر کوئی اقدام نہیں کیا۔ فلسطینی مسلمانوں کو بیت المقدس کے تحفظ و دفاع کے محاذ پر تنہا چھوڑ دیا گیا، ان کے دکھ اور کرب کو کماحقہ محسوس نہ کیا گیا جس کے نتائج سامنے آچکے ہیں۔ المیہ ہے کہ گزشتہ دنوں اسرائیلی حکومت ببانگ دہل کہہ چکی کہ بہت سے مسلم ممالک سے ہمارے خفیہ سفارتی تعلقات قائم ہیں اور وہ اس راز کے انکشاف کو پسند نہیں کرتے۔ حالات و واقعات کی برق رفتاری خبر دے رہی ہے کہ عن قریب صہیونی و طاغوتی طاقتیں مسلمانوں کے خلاف کسی نئے منصوبے پر عمل پیرا ہونے جارہی ہیں۔ ایسے میں امہ کے اجتماع زوال و ادبار اور خستہ حالی کہ ذمہ داری کسی ایک طبقے کے سر ڈالنا دانش مندی کا تقاضا نہیں۔ راسخ فی العلم و العمل علماء کرام اور مشایخ عظام کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہو رہا ہے کہ وہ اس نازک موڑ پر امت کی درست سمت راہ نمائی کا فریضہ انجام دیں اور حزم و احتیاط کے راستوں کی نشان دہی کریں، کیوں کہ یہ طے ہے کہ مادیت و دجالیت کے سیلاب بلاخیز کے آگے روحانیت اور تعلق مع اللہ کا ہتھیار ہی مؤثر اور کارگر ثابت ہوگا۔

آپ کی رائے