مولانا عبدالحمید:

اسلام انسان کو بہترین عقیدہ، عمل، اخلاق اور زندگی کی جانب رہنمائی کرتاہے

اسلام انسان کو بہترین عقیدہ، عمل، اخلاق اور زندگی کی جانب رہنمائی کرتاہے

خطیب اہل سنت زاہدان نے بارہ اگست دوہزار بائیس کے خطبہ جمعہ میں اللہ کی توحید، نماز، زکات، صلہ رحمی، سچائی اور اعتدال و آسانی کو اسلام کی نمایاں خصوصیات یاد کرتے ہوئے ان منصوبوں سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا۔
مولانا عبدالحمید نے سورت الفرقان کی آیت نمبر 72 سے اپنی تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا: اگر کرہ ارض پر موجود مذاہب اور ثقافتوں کو تجزیہ کیاجائے، پتہ چلے گا کہ اسلامی زندگی سے بڑھ کر کوئی زندگی بشر کے لیے موجود نہیں ہے۔ اسلام ایسا دین ہے جس کی خصوصیات میں اللہ تعالیٰ پر ایمان، توحید، نماز، زکات، صلہ رحمی، سچائی و دیانتداری، خوش اخلاقی اور اچھے کام کرنا شامل ہیں۔ اسلام بہترین عقیدہ جو توحید ہے کی دعوت دیتاہے۔
انہوں نے مزید کہا: نماز اور زکات اسلام کے سب منصوبوں میں سب سے اونچے درجے پر ہیں۔ نماز اللہ کے ساتھ رازونیاز اور اپنی درماندگی کا اظہار اس کے دربار میں ہے؛ یہ نہایت ادب اور احترام ہے جو انسان اپنے رب کے سامنے ظاہر کرتاہے۔ زکات سب سے بڑی مالی عبادت اور اخلاق ہے۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: قرآن پاک حقوق اللہ کے بعد والدین کے حقوق اور ان کے احترام پر زور دیتاہے۔ بندوں کے حقوق میں یتیم، مسکین، نادار اور قیدیوں کے اہل خانہ آتے ہیں جن کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ زکات جو کل مال کا چالیسواں حصہ یعنی ڈھائی فیصد ہے، اجر کا باعث ہے؛ اس سے گناہ معاف ہوتے ہیں، انسان کی ہدایت میں اضافہ ہوتاہے اور اس کے مثبت اثرات دنیا و آخرت میں ظاہر ہوتے ہیں۔
انہوں نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا: اسلام سچائی، یکرنگی اور دیانتداری کا دین ہے۔ قول و عمل میں سچا ہونا اسلام کے سب سے اہم امور اور تعلیمات میں شامل ہے۔ اسلام نے ہمیں حکم دیاہے کہ سچ بولیں، امانت میں خیانت نہ کریں اور زندگی میں تقویٰ اختیار کریں۔ کسی کا حق ضائع نہ کریں اور کسی کا دل نہ ٹوٹیں۔ لوگوں کا دل توڑنا اور ان پر ظلم کرنا مکافات سے دوچار کردیتاہے۔
ممتاز عالم دین نے کہا: اسلام نفاق اور دورخی کا دشمن ہے۔ ایک مرتبہ آپﷺ بڑے گناہوں کو گنتے ہوئے فرمایا: سب سے بڑا گناہ شرک ہے۔ اس کے بعد والدین کی نافرمانی اور پھر جھوٹی گواہی اور جھوٹی بات آتی ہیں۔ قرآن نے کنجوسی اور جھوٹ سے دشمنی کا اعلان کیا ہے؛ ہم بھی شرک، والدین کی نافرمانی اور جھوٹ سے دشمنی کریں۔ سچ بولیں اور جھوٹ سے گریز کریں؛ سچ میں نجات ہے اور جھوٹ میں ہلاکت۔
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا: اسلام نے واضح طورپر جھوٹ، دورخی، قتل، رشوت ستانی، سودخوری، ظلم، چوری ڈکیتی،فساد اور شراب نوشی سے منع کیاہے جو عقل کو ختم کردیتی ہے۔ شراب پینے والا غلط باتیں کرتاہے، غلط کام کرتاہے اور بے پرواہ ہوکر لوگوں کو قتل کرنے کے لیے بھی تیار ہوجاتاہے۔ اسلام نے ان سب برائیوں سے منع کیاہے۔
انہوں نے کہا: اسلام نے جس چیز سے منع کیا ہے، بشر کا مفاد اسی میں اور عقل سالم بھی اس کی تصدیق کرتی ہے۔ اسلامی تعلیمات مشکل نہیں ہیں، اسلام ایک درمیانہ اور معتدل راستہ ہے جس میں افراط و تفریط نہیں ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ بہت سارے مسلمانوں نے دین کو اچھی طرح نہیں سمجھاہے اور ان کا رویہ ایسا ہے کہ لوگ اور معاشرہ بدفہمی کا شکار ہوتے ہیں اور دین سے بیزار ہوجاتے ہیں۔ دین درست ہے اور اس میں کوئی کمزوری نہیں ہے۔
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا: اسلام کے تمام منصوبے پاک اور معتدل ہیں جو انسان کو جنت پہنچادیتے ہیں۔ پوری دنیا میں ڈھونڈیں تو قرآن اور دین سے بڑھ کر کوئی بہتر پروگرام آپ کو نہیں ملے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت بڑی نعمت عطا کی ہے؛ کاش ہم اس کی قدر کریں۔اس کا شکر ادا کریں اور سختی سے اسلام کی تعلیمات پر عمل کیا کریں۔

خواتین کی ترقی اور عزت اسلامی پردہ اور علم سیکھنے میں ہے
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے بیان کے ایک حصے میں پردہ کو خواتین کے لیے ایک قدر اور ویلیو یاد کرتے ہوئے کہا: اسلام مکمل پردہ اور کامل لباس پر تاکید کرتاہے اور حجاب و پردہ کو خواتین کے لیے قدر اور قیمت سمجھتاہے۔ کچھ لوگوں کا عجیب حال ہے؛ جب خواتین اپنے جسم کا اکثر حصہ کھلا رکھتی ہیں انہیں کوئی شکوہ نہیں، لیکن جب کوئی خاتون اپنے سر، بال اور جسم ڈھانپتی ہے، تو آسمان سر پر اٹھالیتے ہیں اور اس کو شرم کی بات سمجھتے ہیں۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا: بہت سارے لوگ عریانیت کو خواتین کی ترقی کا راز اور ان کے پردے کو پس ماندگی کا باعث سمجھتے ہیں، حالانکہ خواتین کی ترقی علم سیکھنے اور تعلیم میں ہے، عریانیت میں نہیں! خواتین کی عزت، شرف اور احترام اپنے جسم ڈھانپنے میں ہے۔ خواتین اپنی خوبصورتی اور میک اپ صرف شوہر کے لیے ظاہر کریں؛ اپنا جسم دوسروں کے سامنے ظاہر نہ کریں۔ کالج، مدرسہ اور بازار میں میک اپ کے ساتھ نہ جائیں۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: اسلام ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے، بلکہ خواتین سمیت سب کو ترقی، تعلیم اور حکمت سیکھنے کی ترغیب دیتاہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں