شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید:

جو حکومتیں خود کو اسلام کے نمائندے سمجھتی ہیں، اسلامی اور نبوی اخلاق کو دنیا میں زندہ رکھیں

جو حکومتیں خود کو اسلام کے نمائندے سمجھتی ہیں، اسلامی اور نبوی اخلاق کو دنیا میں زندہ رکھیں

خطیب اہل سنت زاہدان نے چودہ جنوری دوہزار بائیس کے بیان میں رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرامؓ کے اخلاق اور عمل کے اسلامی پھیلنے میں کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے سب مسلمانوں خاص کر اسلامی حکومتوں کو نصیحت کی کہ اسلامی اور نبوی اخلاق کو دنیا میں زندہ کرکے اپنی برداشت بڑھائیں۔
زاہدان میں ہزاروں فرزندانِ توحید سے نماز جمعہ سے قبل خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے سورت الغافر کی آیات 37-40 کی تلاوت سے بیان کا آغاز کیا۔
انہوں نے اخلاقی کمزوری کو آج کے معاشرے کے سب سے بڑے چیلنج یاد کرتے ہوئے کہا: آج کل ہمارا معاشرہ نبی کریم ﷺ کی سیرت خاص کر اخلاق کے بارے میں کمزوری کا شکار ہے؛ ہم مسلمان اسلامی احکام پر عمل کرنے کے بجائے اسلام کے نام سے آگے نہیں جاتے اور عقائد، اعمال، معاملات اور اخلاقیات میں اسلام کی خوبصورت تعلیمات کو نظرانداز کرتے ہیں۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے مزید کہا: نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ نے اسلامی اخلاق ہی کی بدولت دنیا کے کونے کونے میں اسلام کو پہنچایا۔ لوگ نبی کریمﷺ کے اخلاق حسنہ سے متاثر ہوکر مسلمان ہوئے۔ صحابہ ؓ کو دیکھ کر انہوں نے لڑائی کو چھوڑکر اسلام کے حلقہ بگوش ہوئے۔
انہوں نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا: اسلام تلوار کے زور پر نہیں، سچائی، دیانتداری اور فاشعاری سے عالمگیر ہوا۔ اسی اخلاق نے لوگوں کو آتش کدوں، بت خانوں اور گناہوں سے نجات دلائی۔ اسلام نے لوگوں کے عقائد اور اعمال ٹھیک کردیے اور ان کی نگاہوں میں وسعت پیدا کردی۔ ان کا صبر و حوصلہ بڑھ گیا۔
مولانا عبدالحمید نے مثال دیتے ہوئے کہا: رسول اللہ ﷺ اخلاق اور اعلی ظرفی میں مثال ہیں اور ہم سب کو ان ہی کی پیروی کرنی چاہیے۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں میں نے دس سال نبی کریمﷺ کی خدمت کی، لیکن ایک مرتبہ بھی انہوں نے میری غلطیوں کی وجہ سے مجھے نہیں ڈانٹا۔ آپﷺ سب لوگوں کی باتیں سنتے جن میں غلام، باندیاں، بوڑھی خواتین کی بھی سنتے تھے۔ بعض اوقات باجماعت نماز کی اقامت ہوتی اور اسی وقت کوئی شخص آپﷺ کا دستِ مبارک پکڑ کر انہیں ایک طرف لے جاتے اور اپنی بات سناتے۔
انہوں نے مزید کہا: نبی کریم ﷺ نہ صرف مسلمانوں بلکہ غیرمسلموں اور منافقین کی باتیں بھی سنتے اور ان کی بری باتوں کو برداشت فرماتے تھے۔ یہاں تک کہ منافق لوگ آپﷺ کا مذاق اڑاتے کہ آپﷺ اذن ہیں، یعنی سب کی باتیں سنتے ہیں اور اللہ تعالیٰ آپﷺ کی اس صفت کی تعریف فرمائی۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے کہا: آپﷺ کی نگاہ بہت وسیع تھی؛ جب کچھ صحابہؓ نے رسول اللہ ﷺ کو مشورہ دیا کہ ان منافقین کو قتل کیا جائے جو مسلمانوں کی معلومات دشمن کو دیتے ہیں اور اسلام دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں، لیکن نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر میں ایسا کروں لوگ کیا کہیں گے کہ محمدﷺ نے اپنے ہی لوگوں کو قتل کرڈالا۔ کسی حاکم کے لیے برا ہے کہ وہ اپنے ہی شہریوں کوبلا حکم شریعت قتل کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے منافقین کو برداشت کی، حتی کہ اس وقت بھی جب منافقوں نے ان کی زوجہ گرامی پر غلط الزام لگایا۔
مولانا عبدالحمید نے حکام کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: حاکم کو چاہیے اپنے شہریوں کی باتیں سن کر ان پر توجہ دے؛ یہ برداشت اور فراخدلی کی نشانی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ آج کل معاشرت میں برداشت اور فراخدلی کمزور ہے اور کریمانہ اخلاق ناپید ہے۔ لوگ جلد غصے میں آتے ہیں اور مخالف بات کو سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ حالانکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ حکومتیں جو خود کو اسلام کا نمائندہ سمجھتی ہیں، وہ اسلامی اخلاق کو زندہ کرکے اپنی برداشت بڑھائیں۔

ایرانی حکام برین ڈرین کی روک تھام کے لیے ملکی حالات بدلنا چاہیے
خطیب اہل سنت زاہدان نے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کے ملک چھوڑنے کی نئی لہر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: آج کل ملک میں بحرانی کیفیت قائم ہے اور معاشی مسائل نے سب طبقوں کے لیے جینا مشکل کردیاہے۔
برین ڈرین کی نئی لہر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: کسی بھی ملک کے لیے سب سے بڑا سرمایہ اس ملک کی افرادی قوت اور خاص کر علم و دانش اور مہارت حاصل کرنے والے افراد ہیں۔ یہ بہت سنگین نقصان ہے کہ وہ لوگ جن کی تعلیم اور تربیت کے لیے بیت المال سے پیسہ خرچ ہوا ہے تاکہ وہ اپنے وطن کی خدمت کریں، لیکن اب وہ ملک چھوڑرہے ہیں۔ یہ ناقابل تلافی نقصان ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ملکی حالات بحرانی ہیں اور بڑے پیمانے پر اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد ملک سے بھاگ رہے ہیں۔ حکام کو چاہیے اس مسئلے کا حل نکال کر حالات میں تبدیلی لائیں۔ کسی قابل شخص سے میں نے برین ڈرین کے رجحان کے بارے میں پوچھا؛ انہوں نے جواب دیا کہ ایک زمانہ تھا کہ میری تنخواہ پندرہ ہزار ڈالر کے برابر تھی۔ اب میری تنخواہ دوگنی کردی گئی ہے لیکن اس کی قدر ایک ہزار ڈالر تک گرچکی ہے؛ ایسے حالات میں قابل اور مستعد افراد کیسے یہاں رہ سکتے ہیں؟!
مولانا عبدالحمید نے کہا: آج اگر مختلف طبقے کے لوگ بشمول مزدور، اساتذہ، ججز، ریٹائرڈ افراد احتجاج کررہے ہیں، اس کی وجہ معاشی دباؤ ہے۔ یہ لوگ کسی دشمن کے اشتعال کی وجہ سے سڑکوں پر نہیں نکلے ہیں، پورا معاشرہ معاشی مشکلات سے دوچار ہے۔
انہوں نے کہا: معاشی بحران پوری قوم کا مسئلہ ہے اور یہ ایک عوامی مطالبہ ہے کہ حکام معاشی مسائل کے حل کے لیے کوشش کریں۔
نامور عالم دین نے قومی کرنسی کی قدر میں شدید کمی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ایران کی قومی کرنسی دنیا کے بہت سارے غریب ممالک کی کرنسیوں سے بھی نیچے گرچکی ہے۔ ہماری کرنسی کی قدر میں اضافہ ہونا چاہیے۔

نوجوانوں اور خواتین کی دینی تعلیم اور اصلاح کے لیے علمائے کرام منصوبہ بندی کریں
خطیب اہل سنت نے اپنے خطاب کے آخر میں نوجوانوں کی دینی تعلیم اور اصلاح کے لیے مناسب منصوبہ بندی پر زور دیتے ہوئے کہا: علمائے کرام سے میری درخواست ہے کہ نوجوانوں کی تعلیم اور اصلاح کے لیے محنت کریں اور ان کے لیے اصلاحی و تربیتی نشستوں کا اہتمام کریں۔ محلوں کی سطح پر نوجوانوں اور خواتین کے لیے اخلاق، عقائد، احکام اور سیرت کلاسیں منعقد کرائیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں