حقوق اللہ ضائع کرنے سے انسانی معاشرے خطرناک نتائج سے دوچارہوجاتے ہیں

حقوق اللہ ضائع کرنے سے انسانی معاشرے خطرناک نتائج سے دوچارہوجاتے ہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں ہزاروں فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے ’قوانین الہی کی پاسداری‘ اور ’اللہ کی اطاعت‘ پر زور دیتے ہوئے اللہ کے حقوق ضائع کرنے کو انسانی معاشرے کے لیے انتہائی خطرناک یاد کیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے چوبیس ستمبر دوہزار اکیس کے خطبہ جمعہ میں گناہ اور اللہ کی نافرمانی سے گریز کرنے پر زور دیتے ہوئے توبہ اور رجوع الی اللہ پر تاکید کی۔
انہوں نے سورت النسا کی آیت نمبر 31 کی تلاوت سے اپنے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے کہا: افسوس ہے کہ آج کل دوسروں کی عزت اور احترام کو پامال کرنا عام ہوچکاہے؛ سب سے بڑی پامالی اللہ تعالیٰ کے حقوق کے حوالے سے دیکھنے میں آتی ہے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: اگر کوئی شخص انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کی خلاف ورزی کرے اور حکومتوں کے اصول پامال کرے، اس کا ٹرائل ہوتاہے اور اسے سزا مل جائے گی۔ لیکن اللہ کے حقوق اور احکامات پامال کرنے پر کسی کی گرفت نہیں ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: اللہ تعالیٰ کو ہماری بندگی کی کوئی ضرورت نہیں ہے، لیکن وہ کفر اور نافرمانی سے ناراض ہوتاہے اور جو شخص اس کے قوانین کی خلاف ورزی کرتاہے، اسے سزا ملے گی۔
مولانا نے کہا: جب انسان کے اپنے بنائے ہوئے قوانین کا احترام کیاجاتاہے، پھر خدا کے قوانین کیوں قابل احترام نہ ہوں جو انسانی قوانین سے کہیں زیادہ درست اور عیب سے خالی ہیں۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے معاشرے میں مختلف قسم کے گناہوں اور جرائم عام ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: چوری اور ڈاکہ زنی ہمیشہ بھوک اور افلاس کی وجہ سے نہیں ہے، بہت سارے لوگ گمراہی اور دین سے دوری کی وجہ سے چوری کرتے ہیں۔مومن فاقہ کی حالت میں بھی دوسروں کے مال پر ہاتھ نہیں ڈالتاہے۔
انہوں نے کہا: اگر انسان بندوں پر ظلم اور ان سے تاوان لینے کی عادت چھوڑدے اور حلال روزی کمانے کی محنت کرے، اللہ تعالیٰ ضرور اسے روزی دے گا۔ لیکن جو شخص اللہ پر بھروسہ نہ کرے اور حرام کے پیچھے پڑجائے، اس کا پیٹ بھی حرام سے بھر جائے گا اور اس کی نسل اور آخرت تباہ و برباد ہوجائیں گی۔ وہ کیسے آرام و سکون سے رہے گا جب لوگوں کی بددعائیں اور آہیں اس پر برستی رہتی ہیں!؟
مولانا عبدالحمید نے خشکسالی، قلت پانی، زلزلہ، سیلاب اور کورونا جیسی آفتوں کو قیامت کی نشانیاں یاد کرتے ہوئے کہا: ان علامات کو دیکھ کر ہمیں توبہ کرنی چاہیے۔ لیکن افسوس ہے کہ لوگ توبہ کی بجائے ظلم و ستم کا بازار گرم رکھتے ہیں۔گناہوں سے پرہیز نہیں کرتے رہتے ہیں۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اس حصے کے آخر میں کہا: آج کل دنیا میں انسان اور جانوروں کے حقوق دفاع کرنے کے لیے مختلف تنظیمیں ہیں، لیکن اللہ کے حقوق کا دفاع کرنے کے لیے کوئی تنظیم نہیں ہے۔ لہذا ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کا دفاع کریں، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا اہتمام کیا کریں۔

افغانستان کے اثاثے منجمد کرنا افغان عوام پر ظلم ہے
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے بیان کے دوسرے حصے میں امریکا سمیت دیگر مغربی ممالک کی جانب سے افغانستان کے اربوں ڈالرز کے انجماد پر تنقید کرتے ہوئے اس اقدام کو ایک قوم پر پابندی لگانے اور افغان عوام پر ظلم قرار دیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا: امریکا اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان کے اثاثوں کو منجمد کیا ہے، حالانکہ یہ اثاثے افغان قوم ہی کے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: افغانستان نے ایک طویل جنگ کا تجربہ کیا ہے اور اب بھی قحط سے دوچار ہے۔ لاکھوں افغان مختلف ملکوں میں بشمول پاکستان اور ایران کے مہاجر بن کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ایسے حالات میں جب جنگ ختم ہوچکی ہے، ہجرت کا کوئی بہانہ نہیں اور ملک کی ترقی کے لیے راہ ہموار ہوچکی ہے، دوسری طرف عوام اپنی بنیادی ضروریات کے لیے پیسوں کے محتاج ہیں، افغان قوم کے حق میں ظلم ہے۔
صدر جامعہ دارالعلوم زاہدان نے کہا: کسی ملک پر پابندی عائد کرنا، اس ملک کی حکومت پر پابندی نہیں، بلکہ ایک قوم کو پابندی کے شکنجے میں ڈالنا ہے۔ ایسی پابندیوں سے عوام ہی اذیت میں مبتلا ہوجائیں گے، مارکیٹس اور کاروبار کو نقصان پہنچے گا جیسا کہ ایران پر عائد معاشی پابندیوں کا بوجھ عوام ہی اٹھارہے ہیں۔
انہوں نے کہا: امریکا سمیت دیگر عالمی طاقتیں جو تہذیب کا دعویٰ کرتی ہیں، ان سے سوال ہے کیا قوموں پر پابندی عائد کرنا کوئی تہذیب ہے؟ یہ صرف تکبر اور گھمنڈ ہے۔ ان ممالک کو چاہیے زبردستی کرنے اور پابندی عائد کرنے کے بجائے، بات چیت، مذاکرات اور تعمیری اور درست پالیسیوں کے ذریعے سے مسائل حل کرائیں۔

عوام کے گھروں کو مسمار کرنے کے بجائے قوانین کی خلاف ورزی کی روک تھام کے لیے کوشش کریں
مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ سے پہلے اپنے خطاب میں زاہدان شہر کے قاسم آباد ٹاؤن میں کچھ مکانات کے مسمار کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: قاسم آباد میں لوگوں کے گھروں کو مسمار کرنے اور ایک بہن کے ساتھ پولیس کی بدسلوکی سے بہت رنج و غم ہوا۔ پولیس کی لیڈی اہلکار جس نے ایسی حرکت کی ہے، اس کی خلاف ضابطے کی کارروائی ہونی چاہیے۔
انہوں نے مختلف اداروں اور محکموں کے ذمہ داران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: گھروں کو مسمار کرنا بہت بری اور قبیح حرکت ہے۔ اس سے پہلے کہ مسمار کی نوبت آجائے، قانون کی خلاف ورزی روکنے کے لیے کوشش کریں۔ اپنے ملازمین کو مزید تنخواہ دیں تاکہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کرسکیں۔
مولانا عبدالحمید نے عوام کو قانون کے احترام کی دعوت دیتے ہوئے کہا: عوام سے ہماری پرزور درخواست ہے کہ قوانین کا احترام کریں اور قانونی راستوں سے مسائل حل کرانے کی کوشش کریں۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ بعض جگہوں پر قوانین بند ہیں اور عوام کے خلاف، اسی لیے غیرقانونی تعمیرات کی طرف لوگ جاتے ہیں؛ ایسے قوانین کی اصلاح ضروری ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں