شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید:

مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل سے دنیا پرامن ہوجائے گی

مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل سے دنیا پرامن ہوجائے گی

خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے اکیس مئی دوہزار اکیس کے خطبہ جمعہ میں غزہ شہر پر حالیہ صہیونی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کو امنِ عالم کے لیے ضروری قرار دیا۔ انہوں نے عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ اسرائیل کو اپنی قبضہ گیری ختم کرنے پر رضامند کریں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں ہزاروں فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے کہا: عدل و انصاف کا تذکرہ مختلف آسمانی کتابوں میں آیاہے اور تمام مذاہب میں عدل کی اہمیت واضح ہوئی ہے۔ انبیا علیہم السلام اسی کے لیے مبعوث ہوئے اور توحید جو تمام دینی امور میں سب سے اہم عقیدہ ہے، وہ بھی عدل و انصاف ہی کے سلسلے میں ہے۔اللہ تعالیٰ کی توحید پر اقرار، عدل کا سب سے بڑا درجہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا: اللہ رب العزت اپنے بندوں سے چاہتاہے کہ وہ اس طرح زندگی گزاریں کہ وہ نہ کسی کے حق میں ظلم کا ارتکاب کریں، نہ ہی کوئی ان کے خلاف ظلم اور ناانصافی سے کام لے۔ سب لوگ چاہے وہ نبی و پیغمبر ہوں، یا ماں باپ، اولاد، حکومتیں یا عوام، عدل و انصاف کے بارے میں سارے حکمِ الہی کے مخاطب ہیں۔ ہر شخص مامور ہے کہ اپنے ماتحت لوگوں کے ساتھ عدل و انصاف کا معاملہ کرے۔

حکومتیں عسکری اور سکیورٹی بجٹ بڑھانے کے بجائے نفاذِ عدل کے لیے محنت کریں
ممتاز سنی عالم دین نے دنیا میں امن اور سکون کو نفاذِ عدل کا یقینی نتیجہ یاد کرتے ہوئے کہا: اگر دنیا میں سب انصاف سے کام لیں، یقینا پوری دنیا پرامن ہوجائے گی۔ دہشت گردی اور ہر قسم کی بدامنی اور لڑائیوں کا خاتمہ نفاذِ عدل سے ممکن ہے۔ جب عدل نافذ ہوتاہے، سب پریشانیاں اور رنجشیں ختم ہوجائیں گی۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: دنیا کی حکومتیں اور ریاستیں اپنے عسکری اور سکیورٹی اداروں کی قوت میں اضافہ کرنے، لوگوں کی مانیٹرنگ سخت کرنے اور نیوکلیئر اور ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کے بجائے اپنے امن کے حصول کے لیے عدل و انصاف سے کام لیں۔ جب عدل نافذ ہوجائے، پھر عسکری اور سکیورٹی اداروں کی تقویت کے لیے ان پر بھاری بجٹس خرچ کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: افسوس ہے کہ آج ہم ایک ایسے دور سے گزررہے ہیں کہ جنگیں، جھڑپیں، تشدد اور عسکری مقابلے دنیا میں اپنے عروج پر ہیں اور ان سب لڑائیوں اور تنازعات کی اصل وجہ عدل و انصاف کا عدمِ نفاذ ہے۔
خطیب اہل سنت نے کہا: آج کل دنیا میں عدل و انصاف ناپید ہے اور سب حکومتیں کسی نہ کسی انداز میں تکبر اور غرور کا شکار ہیں۔ دنیا کی طاقتیں نفاذِ عدل کے لیے محنت کے بجائے، اپنی ایٹمی اور عسکری قوت بڑھانے کی پیہم کوششوں میں مصروف ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: افسوس کی بات ہے کہ اقوام متحدہ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور دیگر بین الاقوامی ادارے عالمی طاقتوں کے زیراثر ہیں۔ یہاں تک کہ اگر کوئی مظلوموں کے حق میں قرارداد پیش کرے، ان اداروں کے کچھ ممبرز انہیں ویٹو کرتے ہیں۔

اسرائیل ایک دہشت گرد، شدت پسند اور قابض ریاست ہے
دارالعلوم زاہدان کے صدر نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا: امریکا اور یورپ میں اگرچہ بعض اچھائیاں مثلا بعض مسائل میں آزادی اور ڈیموکریسی پائی جاتی ہے، لیکن ان کی سامراجی اور تکبر پر مبنی رویہ اور بلاقید و شرط اسرائیل کی حمایت بہت برا اور ناپسند ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا: یہ بہت برا ہے کہ امریکی اور پورپی حکام کہتے ہیں اسرائیل اپنے دفاع کا حق رکھتاہے اور اسی بنا پر اس کی پشت پناہی کرتے ہیں، حالانکہ اسرائیل ایک قابض اور شدت پسند ریاست ہے جو کئی عشروں سے بیت المقدس اور فلسطینی مسلمانوں کی سرزمین پر قبضہ رکھا ہوا ہے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: یہ انتہائی تعجب کی بات ہے کہ امریکی اور یورپی حکام اسرائیل کی جارحیت اور قبضہ گیری کو ’اپنے آپ کے دفاع‘ قرار دیتے ہیں، لیکن جب فلسطینی اسرائیل کی قبضہ گیری کے مقابلے میں خود سے دفاع کرتے ہیں، تو انہیں دہشت گرد کہاجاتاہے۔ بہت سارے علاقوں میں وہ پتھر سے مزاحمت کررہے ہیں، لیکن اسرائیلی انہیں گولی سے جواب دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: اسرائیلیوں نے اہل فلسطین کی سرزمین پر اپنا قبضہ جمایاہے، انہیں ان کے گھروں سے نکالا ہے اور کئی عشروں سے وہ بے گھر اور مہاجر ہوکر دنیا میں ٹھوکریں کھارہے ہیں۔ فلسطینی مسلمانوں کو بیت المقدس میں نماز و عبادت کی آزادی حاصل نہیں، یہاں تک کہ ماہ رمضان میں ان پر مسجد الاقصیٰ میں ان پر حملہ کیا گیا؛ اب سوال یہ ہے کہ ان میں کون سا فریق خود سے دفاع کا حق رکھتاہے؟!
سنی عالم دین نے سوال اٹھایا: اسرائیل نے متعدد ایرانی نیوکلیئر سائنسدانوں کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے قتل کیاہے، اس کے بعض ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا ہے؛ اگر یہ دہشت گرد نہیں پھر کون دہشت گرد ہے؟ دہشت گردی کے لیے کیوں دنیا میں ایک درست اور جامع تعریف نہیں پائی جاتی ہے؟
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا: حالیہ جنگ میں پوری دنیا نے دیکھ لیا کہ اسرائیل نے کیسے اہل غزہ کو مختلف قسم کے خطرناک اور تباہی مچانے والے ہتھیاروں سے ہدف بنایا، بہت سارے فلسطینی شہید ہوئے، ان کے مکانات مسمار کیے گئے اور بعض خاندان پوری طرح شہید ہوئے۔
انہوں نے کہا: اسرائیل اس حال میں ایک تنظیم سے لڑائی میں داخل ہوا کہ اس تنظیم کے پاس محض چند میزائل تھے جو انہوں نے ہاتھ سے بنائے تھے یا دوسروں نے انہیں پہنچایا تھا اور ان کا مقصد صرف دھمکانا تھا۔ دفاع ہر مظلوم کا بلاچوں و چرا حق ہے۔ قرآن پاک نے ان لوگوں کو اپنے دفاع کا حق دیا ہے جن کی سرزمینوں پر دشمن نے قبضہ کیا ہے۔
مولانا عبدالحمید نے امریکی و یورپی حکام پر تنقید کرتے ہوئے کہا: مسٹر بایڈن نے اسرائیل سے بلاشرط حمایت کرکے کہا ہے اسرائیل کا جائز حق ہے کہ خود سے دفاع کرے، کیوں اس نے یہی جملہ فلسطینی لوگوں کے حق میں نہیں بولا؟ کیوں اس نے مظلوم کے حق سے دفاع نہیں کیا؟ کیوں اسرائیلوں اور فلسطینیوں میں مصالحت نہیں کراتے ہیں اور عادلانہ صلح قائم نہیں کرتے ہیں؟ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل مظلوموں سے دفاع میں کیوں عاجز ہیں؟
خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: ہمارا یہ دعویٰ نہیں کہ یہودیوں اور اسرائیلیوں کا حق مسلمانوں اور فلسطینیوں کو دیا جائے، بلکہ ان میں عادلانہ فیصلہ کرکے ہر فریق کو اس کا جائز حق دلوایاجائے۔ ہر قوم اپنی سرزمین اور سرحد تک محدود رہے۔

فلسطین کی سرزمین امریکا، ایران، سعودی عرب کی نہیں اہلِ فلسطین ہی کی ہے
انہوں نے مزید کہا: مسئلہ فلسطین اور بیت المقدس کا تعلق سب مسلمانانِ عالم سے ہے، لیکن اس سرزمین کا مالک امریکا، ایران، سعودی عرب یا کوئی اور ملک نہیں؛ یہ اہل فلسطین ہی کی سرزمین ہے اور اقوام متحدہ سمیت عالمی طاقتوں کو چاہیے اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ اپنی سرحدوں میں واپس لوٹے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: امریکا اور یورپین ممالک انسانی حقوق کے دفاع کا دعویٰ کرتے ہیں اور بعض جگہوں پر اقلیتوں کی حمایت بھی کرتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ مسئلہ فلسطین میں وہ کیوں انسانی حقوق کے حامی نہیں ہیں؟ کیا فلسطینی لوگ ’انسان‘ نہیں ہیں؟ ان کی سرزمین پر اسرائیلی قبضہ نہیں ہے؟
انہوں نے گیارہ دن کی شدید جھڑپ کے بعد جنگ بندی کے فیصلے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں مستقل صلح کی فضا قائم ہونے کی دعا مانگی۔ انہوں نے امید ظاہر کی سب انسان سکون سے رہیں اور اپنی عبادتگاہوں میں عبادت کرکے انتہاپسندوں کے حملوں سے محفوظ رہیں۔
مولانا عبدالحمید نے اپنے بیان کے آخری حصے میں کہا: بندہ نے بارہا کہاہے اور اب بھی میری یہی رائے ہے کہ مسئلہ فلسطین کے عادلانہ حل کی صورت میں دہشت گردی کی عالمی سطح پر بیخ کنی ہوگی۔ مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل، افغانستان، یمن اور شام میں مصالحت اور نفاذِ عدل دنیا کے سب ملکوں کے عین مفاد میں ہے۔
انہوں نے کہا: اسلام صلح کا مذہب ہے اور رواداری کا سبق دیتاہے، چنانچہ نبی کریم ﷺ نے مشرکینِ مکہ اور مدینہ کے یہودیوں سے صلح کی قراردادوں پر دستخظ فرمایا اور جب تک وہ معاہدے پر پابند رہے، آپﷺ بھی پابند رہے۔ جو مسلمان یہ سمجھتاہے کہ اسلام ہر غیرمسلم اور کافر سے لڑتاہے، اس نے دین کو سمجھا ہی نہیں اور وہ ’انتہاپسند‘ ہے۔
مولانا عبدالحمید نے نفاذِ عدل پر تاکید کرتے ہوئے کہا: سب حکومتیں بشمول ہماری حکومت کو چاہیے اقلیتوں اور اپنے مخالفین سمیت سب کے حقوق کا خیال رکھیں اور ان کے حوالے سے انصاف کا معاملہ کریں۔ وہ حکومت جو اپنے مخالفین کی بات سنتی ہے، انہیں برداشت کرتی ہے اور کچلنے کے بجائے ان کے ساتھ بیٹھتی ہے، وہ خراجِ تحسین کے مستحق ہے۔ قوموں اور حکومتوں کو چاہیے ایک دوسرے کی باتیں سنیں اور سب انصاف اور عدل کی راہ پر گامزن ہوجائیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں