کاہل نمازی اور شہوتوں کی پیروی؛ گذشتہ اقوام کی ناکامی کی اصل وجوہات

کاہل نمازی اور شہوتوں کی پیروی؛ گذشتہ اقوام کی ناکامی کی اصل وجوہات

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے تئیس اپریل دوہزار اکیس کے خطبہ جمعہ میں سورت مریم کی آیت 59 سے استدلال کرتے ہوئے ’نماز میں سستی و کاہلی‘ اور ’اتباع شہوات‘ کو سابقہ امتوں کی ناکامی کی اصل وجوہ قرار دی۔ انہوں نے اقامہ نماز، زکات کی ادائیگی، نفاذِ عدل، ترک معاصی اور اصلاح معاشرہ پر زور دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے ہزاروں فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اللہ تعالی نے قرآن پاک میں انبیا علیہم السلام کے تذکرے کے بعد فرمایا ہے کہ جو لوگ پیغمبروں کے بعد آئے، انہیں دو بڑے چیلنجز کا سامنا تھا: ایک انہوں نے نماز ضائع کی اور دوسرا یہ کہ شہوتوں کے پیچھے پڑگئے۔
انہوں نے مزید کہا: نماز اللہ کا فرض اور دین کا اہم ستون ہے۔ بہت سارے مسلمان نماز ہی نہیں پڑھتے؛ جو مسلمان نماز نہیں پڑھتا اس کا اسلام اور حضرت محمد ﷺ سے کیا نسبت؟ صرف درست عقیدہ نجات کے لیے کافی نہیں ہے، عمل صالح کی بھی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ ساتھ، عمل صالح کو بھی جنت جانے کے لیے شرط قرار دی ہے۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے زکات کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: زکات ارکانِ دین میں شامل ہے اور ہر مسلمان پر لازم ہے کہ دین کے تمام ارکان کا خیال رکھے؛ جو مسلمان نماز نہیں پڑھتا اور زکات ادا نہیں کرتا، وہ جہنم جانے کے لیے تیار رہے۔ جس مال کی زکات ادا نہ ہو، قیامت کے دن وہ گردن پر طوق بن کر لٹکایاجائے گا۔ زکات فقیروں، مساکین اور ناداروں کا حق ہے۔
امتوں کے دوسرے چیلنج (اتباع شہوات) کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا: انبیا ؑ کے بعد بہت سارے لوگ اپنی خواہشات کے پیچھے پڑگئے۔ اسی لیے وہ سحروجادو، زنا، شراب نوشی، سودخوری، جھوٹ، الزام تراشی، قتل ناحق اور دیگر گناہوں کے دلدل میں پھنس گئے۔ یہ ایسے گناہ ہیں جو انسان کی ہلاکت کا باعث ہیں اور اسے جہنم رسید کرتے ہیں۔
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا: لوگوں کا مال لوٹنا، بے گناہوں کا خون بہانا، کسی قاتل کے اعزہ و اقربا سے انتقام لینا اور اس طرح کے دیگر معاصی سب اتباع شہوات اور نفس کی خواہشات کی پیروی کے نتائج ہیں۔ قاتلوں کو ہمیں سزا دینے کی اجازت نہیں؛ بلکہ انہیں متعلقہ حکام کے حوالے کرنا چاہیے تاکہ وہ انہیں ٹرائل کرکے سزا دلوائیں۔
انہوں نے مزید کہا: منشیات کا کاروبار اور استعمال بھی گناہ اور نفس کی پیروی ہے۔ اسی منشیات سے معاشرہ خراب ہوتاہے اور لوگ لٹ جاتے ہیں۔ کس نے منشیات کے کاروبار کی اجازت دی ہے؟ جو لوگ اس دھندے میں ملوث ہیں خدا کو کیا جواب دیں گے؟
عدل و انصاف پر تاکید کرتے ہوئے صدر دارالعلوم زاہدان نے کہا: آج کل یتیموں اور خواتین کی میراث کا حصہ لوٹا جاتاہے۔ عدل دین کا حصہ ہے جو بہت کم نافذ ہوتاہے۔ عدل و انصاف سب سے پہلے حکام سے مطلوب ہے، لیکن حقیقت میں ہم سب اس کے مخاطب ہیں؛ اپنے اور دوسروں کے حق میں انصاف سے کام لیں۔ اپنے حق میں اس طرح کہ خود کو آفتوں اور بیماریوں سے بچائیں، خودکشی سے گریز کریں اور کاروبار یا عبادات میں حد سے زیادہ خود پر دباؤ نہ ڈالیں۔ عبادت بھی کریں، آرام بھی کریں۔
قرآن کی تعلیم اور تلاوت پر تاکید کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: قرآن کو دانتوں سے مضبوط پکڑلیں۔ قرآن کے بغیر معاشرے میں ہدایت نہیں آسکتی۔ قرآن پڑھیں اور سمجھیں، درس قرآن کی کلاسوں میں حصہ لیں اور اپنے بچوں کو بھی قرآن سکھائیں۔
انہوں نے مزید کہا: نماز قائم ہونی چاہیے؛ جب تک لوگ نماز نہیں پڑھیں گے، معاشرہ کی اصلاح نہیں ہوگی اور آفتیں ختم نہیں ہوں گی۔ اللہ ہی آفتوں کو لاتاہے جو سب مصائب میں حقیقی موثر ہے۔ جب تک اللہ کی مرضی نہ ہو، کورونا وائرس ختم نہیں ہوگا؛ اللہ چاہے ایک ہی لمحہ میں کورونا سمیت سب آفتیں ختم ہوجائیں گی۔ لہذا توبہ کرکے اللہ سے رجوع کرنا چاہیے۔
خطیب اہل سنت نے قرآن و سنت سے دوری کو عالم اسلام کے مسائل کی جڑ یاد کرتے ہوئے اپنے خطاب کے آخر میں نماز کی ترویج اور دیگر دینی احکام پر عمل کرنے کی ترغیب دی۔
انہوں نے کہا: لوگوں کو اقامہ نماز اور احکام شریعت کی دعوت و ترغیب دیں؛ تبلیغی جماعت اور علمائے کرام بھی محنت کریں اور عام مسلمان بھی اپنی حد تک لوگوں کو نماز کی ترغیب دیں۔ ہم سب مل کر گناہوں کا راستہ بند کریں اور اپنے آس پاس کے لوگوں کو اقامہ نماز کی ترغیب دیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں