ہم اپنے زمانے اور اپنے زمانے کی ساری برائیوں کا تذکرہ تو اس انداز سے کرتے ہیں، جیسے ہم نے تمام برائیوں سے معصوم اور محفوظ ہیں، لیکن اس تذکرے کے بعد جب عملی زندگی میں پہنچتے ہیں تو صبح سے لے کر شام تک ہم خود ان تمام کاموں کا جان بوجھ کر ارتکاب کرتے چلے جاتے ہیں، جن کی قباحتیں بیان کرنے میں ہم نے اپنے زور بیان کی ساری صلاحیتیں صرف کردی تھیں۔
یہ ہرگز نہ سوچیے کہ ہزارہا گناہوں میں سے ایک گناہ کی کمی واقع ہوگئی تو اس سے کیا فائدہ ہوگا؟ یاد رکھیے کہ اطاعت خداوندی ایک نور ہے اور نور کتنا ہی مدہم اور اس کے مقابلے میں تاریکی کتنی گھٹاٹوپ ہو، لیکن وہ بے فائدہ کبھی نہیں ہوتا۔ اگر آپ ایک ظلمت کدے میں ایک دم سرچ لائٹ روشن نہیں کرسکتے تو ایک چھوٹا سا چراغ ضرور جلاسکتے ہیں۔
مفتی محمدتقی عثمانی
’’زمانہ بڑا خراب آگیا ہے‘‘۔۔۔ بے دینی کا سیلاب بڑھتا جارہے۔۔۔ ’’لوگوں کو دین و ایمان سے کوئی واسطہ نہیں رہا‘‘۔۔۔ ’’مکر و فریب کا بازار گرم ہے‘‘ ۔۔۔ ’’عریانی و بے حیائی کی انتہاء ہوچکی ہے۔‘‘
اس قسم کے جملے ہم دن رات اپنی مجلسوں میں کہتے اور سنتے رہتے ہیں اور بلاشبہ یہ تمام باتیں سچی بھی ہیں۔ ہر سال کا موازنہ پچھلے سال سے کیجئے تو دینی اعتبار سے انحطاط نمایاں نظر آتا ہے، لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ ہم اپنی مجلسوں میں ان باتوں کا تذکرہ اس لیے نہیں کرتے کہ ہمیں اس صورتحال پر کوئی تشویش ہے اور ہم بدلنا چاہتے ہیں، بلکہ یہ تذکرہ محض برائے تذکرہ ہوکر رہ گیا ہے اور یہ بھی ایک سا بن چکا ہے کہ جب کوئی بات نکلے تو زمانہ اور زمانے کے لوگوں پر دوچار فقرے چلتے کرکے ان کی حالت پر محض زبانی اظہار افسوس کردیا جائے، لیکن یہ صورتحال کیوں پیدا ہوئی ہے؟ اور اسے بدلنے کے لیے ہم کیا کرسکتے ہیں؟ یہ سوالات ہم میں سے اکثر لوگوں کی سوچ سے یکسر خارج ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم لوگ زمانے کے بارے میں اس قسم کی باتیں پوری بے پروا ہی سے کہہ کر نہ صرف خاموش ہوجاتے ہیں، بلکہ خود بھی ان لوگوں کے پیچھے ہولیتے ہیں، جنہیں مختلف صلواتیں سنا کر فارغ ہوئے ہیں اور اگر آپ کو واقعتا ان حالات پر تشویش ہے اور آپ دل سے چاہتے ہیں کہ ان کا سد باب ہو تو پھر صرف دو چار جملے زبان سے کہہ کر فارغ ہوجانا کیسے درست ہوسکتا ہے؟
فرض کیجیے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ایک ہولناک آگ بھڑک رہی ہو اور ہم یقین سے جانتے ہوں کہ اگر اس کی روک تھام نہ کی گئی تو یہ پورے خاندان اور پوری بستی کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی تو کیا پھر بھی ہمارا طرز عمل یہی ہوگا کہ اطمینان سے بیٹھ کر صرف اظہار افسوس کرتے رہیں اور ہاتھ پاؤں ہلانے کی کوشش نہ کریں؟ اگر ذہن و دماغ عقل و ہوش سے بالکل ہی خالی نہیں ہیں تو ہم آگ کے بڑھنے پھیلنے کا تذکرہ اس بے پرواہی سے نہیں کرسکتے، ایسے موقع پر بے وقوف سے بے وقوف شخص بھی آگ کا قصہ لوگوں کو سنانے سے قبل فائربریگیڈ کو فون کرے گا اور جب تک وہ نہ پہنچے خود آگ پر پانی یا مٹی ڈالے گا اور دوسروں کو بھی اس کام میں شریک ہونے کی دعوت دے گا۔ اگر اس پر قابو پانا ممکن نہ ہو تو ایسی چیزیں آس پاس سے ہٹا لے گا، جن کو آگ پکڑسکتی ہو پھر بھی آگ بڑھتی نظر آئے تو لوگوں کی جان بچانے کے لیے انہیں دوسری جگہ منتقل کرنے کی کوشش کرے گا اور کسی کو وہاں سے ہٹا نہ سکے تو اپنے بچوں اور گھروالوں کو وہاں سے اٹھالے جائے گا اور اتنی بھی مہلت نہ ہو تو کم از کم خود تو بھاگ ہی کھڑا ہوگا، لیکن یہ بات کسی انسان سے ممکن نہیں ہے کہ آگ لگنے پر زبانی اظہار افسوس کرکے بدستور اپنے کام میں منہمک ہوجائے یا یہ سوچ کر کہ آگ بیشمار انسانوں کو نگل چکی ہے، خود بھی اس میں کود پڑے، یہ تو انسان کی فطرت ہے کہ آگ خواہ کتنی ہی تیز رفتار ہو اور اسے یقین ہو کہ میں اس سے بچ کر نہیں جاسکتا، تب بھی جب تک اس کے دم میں دم ہے، وہ اس کے آگے بھاگتا رہے گا، تا وقتیکہ وہ خود ہی آکر اسے دبوچ نہ لے۔
سوال یہ ہے کہ اگر واقعتا ہمارے ارد گرد بے دینی اور خدا کی نافرمانی کی آگ بھڑک رہی ہے اور ہم اپنے گھروں، اپنے خاندانوں اور اپنے بیوی بچوں پر اس کی آنچ محسوس کررہے ہیں تو پھر ہم اس آگ کا محض تذکرہ کرکے چپ ہو رہتے ہیں؟ بلکہ اس آگ پر کچھ مزید تیل چھڑکنے کی جرات ہمیں کیسے ہوجاتی ہے؟ ہم اگر اپنے گریبانوں میں منہ ڈال کر دیکھیں تو ہمارا طرز عمل اس کے سوا اور کیا ہے کہ ہم اپنے زمانے اور اپنے زمانے کی ساری برائیوں کا تذکرہ تو اس انداز سے کرتے ہیں، جیسے ہم ان تمام برائیوں سے معصوم اور محفوظ ہیں، لیکن اس تذکرے کے بعد جب عملی زندگی میں پہنچتے ہیں تو صبح سے لے کر شام تک ہم خود ان تمام کاموں کا جان بوجھ کر ارتکاب کرتے چلے جاتے ہیں، جن کو قباحتیں بیان کرنے میں ہم نے اپنے زور بیان کی ساری صلاحتیں صرف کردی تھیں اور جب اس طرز عمل پر کوئی تنبیہ کرتا ہے تو ہمارا جواب یہ ہوتا ہے کہ ساری دنیا بے دینی کی آگ میں جل رہی ہے تو ہم اس سے کس طرح بچیں؟ لیکن کیا اس طرز فکر میں ہماری مثال بالکل اس شخص کی سی نہیں ہے جو آگ بھڑکتی دیکھ کر اس سے بھاگنے کی بجائے خود جان بوجھ کر اس میں کود جائے؟
سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے بے دینی کی اس آگ کو بجھانے یا لوگوں کو اس سے بچانے کی کوئی ادنیٰ کوشش کی؟ اور لوگوں کو بھی چھوڑیئے، کیا کبھی اپنے گھر، بیوی بچوں، اپنے اہل خاندان اور اپنے دوست احباب ہی کو ایسی ہمدردی اور لگن سے دین پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دی جس ہمدردی سے ان کو آگ سے بچایا جاتا ہے؟ کیا کبھی ان کو دینی فرائض کی اہمیت سے آگاہ کیا؟ کیا کبھی انہیں گناہوں کی حقیقت سمجھائی؟ کیا کبھی ان کی توجہ مرنے کے بعد والے حالات کی طرف مبذول کرائی؟ کیا ان میں نیکیوں کا شوق اور گناہوں سے نفرت پیدا کرنے کے لیے کوئی اقدام کیا؟ اور گھروالوں کا معاملہ بھی پھر بعد کا ہے، کیا خود اپنے آپ کو بے دینی کی آگ سے محفوظ رکھنے کے لیے کچھ ہاتھ پاؤں ہلائے؟ اپنی حد تک دینی فرائض کی ادائیگی اور گناہوں سے بچنے کا کوئی اہتمام کیا؟ اگر تمام احکام پر عمل کرنے میں مشقت معلوم ہوتی ہے تو اپنے عمل میں جو کم سے کم تبدیلی پیدا کی جاسکتی تھی، کیا اس پھر کبھی عمل کیا؟ سینکڑوں گناہوں میں سے کوئی ایک گناہ خدا کے خوف سے چھوڑا؟ بیسیوں فرائض میں سے کسی ایک فریضے کی پابندی شروع کی؟ اگر ان تمام سوالات کا جواب نفی میں ہے تو اس کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہے کہ ہم خود اندر سے اس آگ کو بجھانا ہی نہیں چاہتے اور دنیا میں پھیلی ہوئی بے دینی کا شکوہ محض بہانہ ہی بہانہ ہے، پھر تو حقیقت یہ ہے کہ نہ تو زمانے کا کوئی قصور ہے، نہ دوسرے اہل زمانہ کا، قصور سارا ہماری اس نفسیات کا ہے جو خود بے دینی کی راہ اختیار کرکے اس کا سارا الزام زمانے کے سر ڈالنا چاہتی ہے۔ اس سلسلے میں ہمارا فریضہ یہ ہے کہ ہم زمانے کے طرز عمل پر محض زبانی اظہار افسوس کی بجائے اپنی مقدور حد تک اس کی اصلاح کی کوشش کریں۔ اللہ نے ہر انسان کو اس کے حالات کے مطابق ایک دائرہ اختیار دیا ہے، جس میں اس کی بات سنی اور مانی جاتی ہے ۔ لہذا ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں حکمت اور ہمدردی کے ساتھ دین کی تبلیغ کرے اور جو لوگ اللہ کی نافرمانی کے راستے پر گامزن ہیں، انہیں انتہائی دلسوزی کے ساتھ اس راستہ سے باز رہنے کی تلقین کرتا رہے۔ ماننا نہ ماننا تو ان لوگوں کا کام ہے اور تجربہ یہ ہے کہ اگر حکمت اور ہمدردی سے بات کہی جائے تو وہ کبھی بے نتیجہ نہیں ہوتی (لیکن اگر اسی فریضہ سے غفلت برتی جائے تو وہ آخرت میں قابل مواخذہ ہے، اسی حقیقت کی طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں ارشاد فرمایا ہے: ’’تم میں سے ہر ایک بااختیار نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی زیر اختیار رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔‘‘ اور بھی کچھ نہ ہوتو انسان کو اپنے گھروالوں اور بیوی بچوں پر کسی نہ کسی حد تک اختیار حاصل ہوتا ہے۔ لہذا اس کا فرض ہے کہ اگر وہ ان کو خدا کی نافرمانی میں مبتلا دیکھے تو اسی حکمت اور شفقت سے انہیں باز رکھنے کی کوشش کرے، جس طرح ان کو آگ سے بچایا جاتا ہے۔
قرآن کریم کا ارشاد ہے: ’’اے ایمان والو! اپنی جانوں کو اور اپنے گھروالوں کو آگ سے بچاؤ۔‘‘ تجربہ یہ ہے کہ حق بات اگر حق طریقے سے متواتر کہی جاتی رہے تو وہ کبھی نہ کبھی رنگ لاکر رہتی ہے اور اگر آپ اپنے گھروالوں میں کسی ایک شخص کو بھی کسی ایک گناہ سے باز رکھنے یا کسی ایک دینی فریضے پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یہ دنیا و آخرت دونوں کی عظیم کامیابی ہے۔
حدیث میں ہے: ’’اللہ تعالی تمہارے ذریعہ سے کسی ایک شخص کو ہدایت دے دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بھی بڑی نعمت ہے۔‘‘ لیکن خرابی کی جڑ در حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنے گھروالوں، اپنے بیوی بچوں اور اپنے عزیز دوستوں کو کھلی آنکھوں گناہوں کا ارتکاب کرتے دیکھتے ہیں تو انہیں راہ راست پر لانے کی تدبیریں سوچنے کی بجائے پہلے ہی قدم پر یہ کہہ کر مایوس ہوجاتے ہیں کہ نافرمانیوں کی اس طوفان میں ہدایت کی بات کون سنے گا؟ حالانکہ اگر ذرا ہمت کرکے انہیں سمجھانے اور راہ راست پر لانے کی تدبیر کی جائے اور نتائج سے بے پروا ہو کر یہ سلسلہ جاری رکھا جائے تو کبھی نہ کبھی کچھ نہ کچھ اثر ضرور ہوتا ہے اور کیوں نہ ہو؟ یہ تو قرآن کریم کا وعدہ ہے: ’’اور نصیحت کرتے رہو، کیونکہ نصیحت مومنوں کو فائدہ (ضرور) پہنچاتی ہے۔‘‘ اور اگر بالفرض اصلاح کی ساری تدبیریں ناکام ہوجائیں اور کوئی شخص ہماری بات نہ سنے تو ہر شخص کو کم از کم اپنے آپ پر تو اختیار حاصل ہے اور اگر وہ سچے دل سے چاہے تو کم از کم اپنی زندگی میں تو اللہ تعالی کے احکام کی پابندی کرسکتا ہے، لیکن یہاں بھی ہمارا یہی نفسانی بہانہ آڑے آتا ہے کہ جب ساری دنیا بے دینی کے راستہ پر دوڑی جارہی ہے تو ہم اس سے کٹ کر اپنے آپ کو کیسے اس کے اثرات سے بچائیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم نے دین پر عمل کرنے کے لیے اپنی ساری توانائی ساری کوششیں اور ساری تدبیریں صرف کرلی ہوتیں اور اس کے بعد ہم پر یہ ثابت ہوتا کہ معاذ اللہ دین پر عمل اس دور میں ناممکن ہے، تب تو کسی درجہ میں ہمارا یہ عذر قابل سماعت ہوسکتا تھا، لیکن ذرا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیے کہ اپنی ساری توانائی خرچ کرنا تو درکنار کیا کبھی ہم نے اس راہ میں کوئی ادنیٰ کوشش بھی کی؟ اگر ’’زمانے کی خرابی‘‘ کا شکوہ محض ایک بہانہ ہی نہیں ہے تو براہِ کرم اپنے اعمال و افعال سے اپنے اخلاق و کردار کا ذرا ایک جائزہ تو لے کر دیکھیے کہ ان میں کتنے کام اللہ کی مرضی اور اس کے احکام کے خلاف ہم سے سرزد ہورہے ہیں؟ پھر ذرا انصاف اور حقیقت پسندی سے کام لے کر یہ سوچیے کہ ان میں سے کتنے کام آسانی سے چھوڑے جاسکتے ہیں؟ کتنے کاموں کے چھوڑنے میں قدرے دشواری ہے؟ اور کتنے کاموں کا چھوڑنا بہت مشکل نظر آتا ہے؟ پھر جو کام آسانی سے چھوڑنے کی تدبیریں تو سوچیے اور جو کام بالکل نہیں چھوٹتے، ان پر کم از کم اللہ تعالی سے استغفار تو کیا ہی جاسکتا ہے۔ نیز یہ دعا تو آپ کرہی سکتے ہیں کہ یا اللہ ہمیں ان گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرما۔
اگر اس تدبیر پر عمل کیا جاتا رہے تو یہ ناممکن نہیں کہ رفتہ رفتہ انسان کے اعمال بد میں نمایاں کمی نہ آتی چلی جائے، مثلاً کوئی شخص بیک وقت سودخوری، مکر و فریب، جھوٹ، غیبت، بدنگاہی، بدزبانی اور اس طرح کے سوگناہوں کو بیک وقت نہیں چھوڑ سکتا، لیکن کیا یہ بات اس کی قدرت میں نہیں ہے کہ وہ ان گناہوں میں سے کسی ایک آسان چیز کا انتخاب کرکے اسے چھوڑنے کا عزم کرلے اور باقی پر استغفار کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی کے حضور ان سے نجات کی دعا کرتا رہے؟اگر وہ دن بھر میں پچاس جگہوں پر جھوٹ بولتا ہے تو آئندہ کم از کم دس مقامات پر جھوٹ چھوڑدے، اگر روزانہ پانچ سو روپے ناجائز طریقوں سے حاصل کرتا ہے تو ان میں سے جتنے کم سے کم آسانی سے چھوڑ سکتا ہو، کم از کم انہیں چھوڑدے۔ اگر دن بھر میں کبھی ایک نماز نہیں پڑھتا تو پانچوں اوقات میں سے جو وقت آسان تر معلوم ہو، کم از کم اس میں نماز شروع کردے اور باقی کے لیے دعا و استغفار کرتا رہے۔
مطلب یہ ہے کہ جس طرح بھڑکی ہوئی آگ سے بھاگتے وقت انسان یہ نہیں دیکھتا کہ بھاگ کر میں کتنی دور جاسکوں گا؟ بلکہ وہ بے ساختہ بھاگ ہی پڑتا ہے اور اگر آگ اسے دبوچ ہی لے تو جب تک اس کے دم میں دم ہے، وہ جسم کے جتنے زیادہ سے زیادہ حصے کو اس سے بچاسکتا ہے، بچاتا ہی رہتا ہے، اسی طرح دین کے معاملے میں بھی فکریہ ہونی چاہیے کہ جس گناہ سے جس وقت بچ سکتا ہوں، بچ جاؤں اور جس نیکی کی توفیق جس وقت مل رہی ہے، کرگزروں، اگر ہم اور آپ اس طرز پر عمل پیرا ہوجائیں تو ان شاء اللہ ایک نہ ایک دن اس آگ سے نجات مل کررہے گی، لیکن ہاتھ پاؤں ہلائے بغیر اس آگ کو زبانی صلواتیں ہی سناتے رہیں تو پھر اس سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں۔
یہ ہرگز نہ سوچیے کہ کروڑوں بدعمل انسانوں کے انبوہ میں کوئی ایک شخص سدھر گیا تو اس سے کیا فرق پڑے گا؟ یہ ہزارہا گناہوں میں سے ایک گناہ کی کمی واقع ہوگئی تو اس سے کیا فائدہ ہوگا؟ یاد رکھیے کہ اطاعت خداوندی ایک نور ہے اور نور کتنا ہی مدہم اور اس کے مقابلے میں تاریکی کتنی گھٹا ٹوپ ہو، لیکن وہ بے فائدہ کبھی نہیں ہوتا۔ اگر آپ ایک ظلمت کدے میں ایک دم سرچ لائٹ روشن نہیں کرسکتے تو ایک چھوٹا سا چراغ ضرور جلاسکتے ہیں اور بعید نہیں کہ اس چھوٹے سے چراغ کی روشنی میں آپ وہ سوئچ تلاش کرلیں، جس سے سرچ لائٹ روشن ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جو احمق سرچ لائٹ سے مایوس ہوکر چھوٹا سا دیا بھی نہ جلائے اس کی قسمت میں ابدی تاریکیوں کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا۔ انبیاء علیہم السلام جب دنیا میں تشریف لاتے ہیں تو بالکل تنہا ہوتے ہیں اور ان کے چاروں طرف گمراہی کا اندھیرا چھایا ہوا ہوتا ہے، لیکن اسی اندھیرے میں وہ ہدایت کا چراغ جلاتے ہیں، پھر چراغ سے چراغ جلتا ہے، یہاں تک کہ رفتہ رفتہ تاریکیاں کافور ہوجاتی ہیں اور اجالا پھیل جاتا ہے۔ لہذا خدا کے لیے اپنی مجلسوں میں یہ مایوسی کے جملے بولنا چھوڑیے کہ ’’بے دینی کا سیلاب ناقابل تسخیر ہوچکا ہے‘‘ اس کے بجائے اس سیلاب کو روکنے اور اس سے بچنے کے لیے جو کچھ آپ کرسکتے ہیں، کرگزریے، کوئی بڑی خدمت اگر بن نہیں پڑتی تو جو چھوٹی سے چھوٹی نیکی آپ کے بس میں ہے، اس سے دریغ نہ کچے اور باقی کے لیے کوشش اور دعا سے ہمت نہ ہاریے، قوم اور ملک افراد ہی کے مجموعے کا نام ہے اور اگر ہر فرد اپنی جگہ یہ طرز عمل اختیار کرلے تو بہت سے چھوٹے چھوٹے چراغ مل کر سرچ لائٹ کی کمی یوں بھی ایک حدتک پوری کردیتے ہیں اور پھر عادت اللہ یوں ہے کہ جس قوم کے افراد اپنے آپ کو مقدور بھر بدلنے کا عزم کرلیتے ہیں، اللہ تعالی کی حمایت و نصرت ان کے شامل حال ہوجاتی ہے اور اللہ تعالی اس میں سدھار پیدا کرہی دیتا ہے۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے: ’’ اور جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کریں گے، ہم انہیں ضرور اپنے راستوں کی ہدایت دیں گے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں مایوسی کے عذاب سے بچا کر اپنی حقیقی اصلاح کی طرف متوجہ فرمائے اور زمانے کو طوفانوں سے مرعوب ہونے کے بجائے ہمیں ان کے مقابلے کا حوصلہ اور اس کی توفیق عطا فرمائے۔‘‘ آمین ثم آمین۔
مفتی محمدتقی عثمانی دامت برکاتہم
بشکریہ دین اسلام ڈاٹ کام

آپ کی رائے