گاؤ کشی کی آڑ میں ذبیحہ پر پابندی عائد کرنے والی مہاراشٹر کی بی جے پی سرکار نے مسلمانوں کے آئینی حقوق پر ایک اور ڈاکہ ڈالا ہے ۔اس مرتبہ ان دینی مدارس کو نشانہ بنایا گیا ہے جنہیں ہندوستان میں اسلام کے قلعے قرار دیا جاتا ہے اور جن کی موجودگی اسلامی شریعت کی بقا اور تسلسل کیلئے لازمی ہے ۔یہ فرقہ پرست اور فسطائی طاقتوں کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے کہ جب بھی مسلمان آرام اور سکون کی زندگی گذارتے ہیں تو کہیں سے ایک ایسا شوشہ چھوڑا جاتا ہے جس کی ضرب ان کے وجود پر جاکر لگتی ہے ۔رمضان کے مقدس مہینے میں جب کہ مسلمان نہایت سکون اور خاموشی کے ساتھ عبادت و ریاضت میں مشغول ہیں، انہیں ہراساں کرنے کی پے در پے کوششیں کی جارہی ہیں ۔ جس وقت ہم یہ سطریں تحریر کر رہے ہیں بی جے پی کے اقتدار والی ایک اور ریاست ہریانہ کے اٹالی گاؤں میں ایک بار پھر مسلمانوں کو شرپسندوں کی یلغار کا سامنا ہے ۔وہاں نمازیوں کے ساتھ ایک بار پھر مارپیٹ کی گئی ہے اور مسلمانوں کے گھروں میں گھس کر ایسا تانڈو کیا گیا ہے کہ اٹالی کے مسلمان ہجرت پر مجبور ہوگئے ہیں ۔ابھی ایک ماہ قبل ہی اٹالی میں مسلمانوں کو ایک پرانی مسجد کی تعمیر نو کی ایسی خوفناک سزا دی گئی تھی کہ اٹالی کے 500سے زیادہ مسلمانوں نے اپنے گھر بار چھوڑ کر بلب گڑھ کے پولیس اسٹیشن میں پناہ لی تھی کیونکہ شرپسندوں نے اٹالی میں مسلمانوں کے گھر بار کو بری طرح لوٹا اور جلایا ہی نہیں تھا بلکہ سارے مال واسباب کو لوٹ لیا گیا تھا۔ اگرچہ تب سے وہاں مسلسل پولیس اور فساد شکن فورس تعینات تھی لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کو دوبارہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔مہاراشٹر کی طرح ہی ہریانہ کی بی جے پی سرکار مسلمانوں کے وجود کی دشمن بنی ہوئی ہے اور مسلمانوں کو کسی قسم کا تحفظ فراہم نہیں کیا جارہا ہے ۔
اب مہاراشٹر کی بی جے پی سرکار نے ان مدرسوں کو باقاعدہ تعلیمی اداروں میں شمار کرنے سے انکار کردیا ہے جو ریاست میں دینی تعلیم کا کام انجام دے رہے ہیں ۔ حکومت کا کہنا ہے کہ انہی مدرسوں کو اسکولوں کے زمرے میں رکھا جائے گا جہاں عصری موضوعات یعنی حساب ،سائنس اور سماجیات کی تعلیم دی جائے گی ۔ جو مدرسے اس کی پابندی نہیں کریں گے، وہ باقاعدہ تعلیمی ادارے کی حیثیت سے تسلیم نہیں کئے جائیں گے اور نہ ہی انہیں سرکاری سطح پر کوئی گرانٹ ملے گی ۔ گوکہ دینی مدرسے سرکاری گرانٹ کے محتاج نہیں ہیں اور پورے ملک میں پھیلے ہوئے لاکھوں دینی مدرسوں کی کفالت خود مسلمان اپنے ذرائع سے کرتے ہیں ۔ ان مدرسوں میں نہ صرف دینی تعلیم کا بندوبست ہے بلکہ طلباء کے قیام و طعام کا بھی نظم کیا جاتا ہے ۔ اس طرح مسلمان اس ملک کی واحد اقلیت ہیں جو اپنے طور پر قائم شدہ مدرسوں میں اپنے ہی صرفے پر بچوں کو پڑھاکر ملک کی پیشانی سے ناخواندگی کا داغ مٹا رہے ہیں لیکن عقل کے اندھے فرقہ پرست اور فسطائی عناصر ان مدارس کے وجود کو ہی مٹانے پر آمادہ نظر آتے ہیں ۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ ملک میں دینی مدرسوں کیخلاف سازش رچی جارہی ہے۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ اس سازش میں اب آئینی طور پر منتخب ایک صوبائی حکومت شامل ہوگئی ہے ۔اس سے قبل فرقہ پرست اور فسطائی عناصر مدرسوں کو دہشت گردی کی نرسریاں قرار دے کر انہیں مٹانے کی کوششیں کرتے تھے لیکن جب تمام تحقیقات اورخفیہ ایجنسیوں نے یہ ثابت کردیا کہ ان دینی مدارس کا دہشت گردی اور تخریبی کارروائیوں سے کوئی واسطہ نہیں ہے بلکہ یہ مدارس غریب بچوں کو خواندہ بنانے کی ایک بڑی لیکن خاموش مہم کا حصہ ہیں تو انہیں ختم کرنے کیلئے ایک دوسرا راستہ اختیار کیا گیا ہے ۔ مہاراشٹر کی تنگ نظر اور کوتاہ اندیش حکومت کو دستور ی تحفظات کا علم ہی نہیں ہے کیونکہ دستور کی دفعہ 30 کے تحت اس ملک میں اقلیتوں کو اپنی مرضی کے تعلیمی ادارہ جات کھولنے کی پوری آزادی حاصل ہے ۔ سپریم کورٹ کے مطابق ان ادارہ جات میں مدرسے سے لے کر اسکول تک سبھی تعلیمی ادارے آتے ہیں لہٰذا مہاراشٹر حکومت کا یہ اقدام نہ صرف آئین کی خلاف ورزی ہے بلکہ سپریم کورٹ کی بھی توہین کے مترادف ہے ۔ مہاراشٹر کے کوتاہ اندیش ارباب اقتدار کو اتنا بھی نہیں معلوم کہ عربی لفظ مدرسے کے معنی اسکول کے ہیں اور ان کے کسی فرمان سے الفاظ کے معنی تبدیل نہیں ہوسکتے ۔
ایک طرف تو مودی سرکار ’سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘کی بات کرتی ہے لیکن عملی طور پر وہ اس ملک کی سب سے بڑی اقلیت کو دیوار سے لگانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتی ۔ وزیر اعظم کئی مرتبہ یہ اعلان کرچکے ہیں کہ وہ اس ملک میں مسلم بچوں کے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں کمپیوٹر دیکھنا چاہتے ہیں لیکن جہاں کہیں بی جے پی کی صوبائی حکومتوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں میں قرآن اور حدیث نظر آتے ہیں وہاں ان کے راستے میں کانٹے بچھانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے ۔ خود مرکزی حکومت ایک سے زیادہ مرتبہ مدرسوں کی جدید کاری کا شوشہ چھوڑ چکی ہے اور ان میں عصری تعلیم کا بندوبست کرنے کی باتیں بھی کی جاتی ہیں لیکن جب تک ان مدرسوں کے اپنے بنیادی وجود کو تسلیم نہیں کیا جاتا اس وقت تک ان کی جدید کاری کا تصور کیسے ممکن ہے ۔مدرسوں کو بہتر تعلیم ،ماحول اور بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے کی کوششوں کے بجائے ان کے بنیادی مقصدپر ضربیں لگانا بھگوا سرکاروں کیلئے یوں بھی ضروری ہے کہ وہ اس ملک میں اسلامی تعلیم اور تبلیغ کے نظام کو تہس نہس کرنا چاہتی ہیں ۔ حکومت ایک طرف تو مرکزی بجٹ میں مدرسوں کی جدید کاری کے لئے سو کروڑ روپے مختص کرتی ہے اور دوسری طرف ان کے وجود سے انکار کرتی ہے ۔
یہ کیسا عجیب مذاق ہے کہ ایک طرف تو ملک کے بیشتر بڑے دینی مدارس سے فارغ ہونے والے طلباء کی ڈگریوں کو کئی مرکزی یونیورسٹیوں میں گریجویشن کے مساوی تسلیم کرکے انہیں ماسٹر کورسوں میں داخلہ دیا جاتا ہے اور یہ طلباء اردو ، عربی اور فارسی کے علاوہ دیگر عصری موضوعات پر یونیورسٹیوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور دوسری طرف صوبائی حکومتیں ان مدرسوں کو مین اسٹریم کا تعلیمی ادارہ یا اسکول تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہیں ۔بی جے پی سرکار کے قول و فعل میں جو تضاد ہے اسے سمجھنا عام ذہنوں کا کام نہیں ہے ۔ یہ دراصل عیاری اور مکاری سے تیارکیا گیا مکڑی کا جالا ہے جس میں مسلمانوں کو پھنسانے کی کوششیں قدم قدم پر کی جاتی ہیں ۔
مہاراشٹر حکومت نے ایک انتہائی متنازعہ قدم اٹھاتے ہوئے ایسے مدرسوں کی منظوری کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جہاں صرف مذہبی تعلیم دی جاتی ہے اور طلباء کو انگریزی ،حساب اور سائنس جیسے موضوعات نہیں پڑھائے جاتے ۔ صوبائی حکومت کے تازہ فرمان کے مطابق بنیادی موضوعات کی تعلیم نہ دینے والے رجسٹرڈ مدرسوں کو بھی غیر رسمی اسکول (نان اسکول)کے زمرے میں رکھا جائے گا اور ان میں پڑھنے والے بچوں کو اسکولی تعلیم کے دائرے سے باہر مانا جائے گا ۔اقلیتی امور کے صوبائی وزیر ایکناتھ کھڑسے کا کہنا ہے کہ مدرسے اپنے طالب علموں کو مذہبی تعلیم دے رہے ہیں اور مروجہ تعلیم نہیں دیتے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ ہمارے آئین میں سبھی بچوں کومروجہ تعلیم کا حق دینے کی بات کہی گئی ہے لیکن مدرسے طلباء کو مروجہ تعلیم کے بجائے دینی تعلیم دیتے ہیں ۔ وزیر موصوف کا کہنا ہے کہ اگر ایک ہندو یا عیسائی بچہ مدرسے میں پڑھنا چاہتا ہے تو اسے وہاں پڑھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ اسلئے مدرسے ایک اسکول نہیں ہیں بلکہ مذہبی تعلیم کے مرکزہیں ۔اسلئے ہم نے ان سے طلبا ء کو دوسرے موضوعات بھی پڑھانے کو کہا ہے بصورت دیگر ان مدرسوں کو اسکولوں کے زمرے سے خارج کردیا جائے گا اور انہیں نان اسکول مانا جائے گا ۔ ‘‘
مہاراشٹر حکومت کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس میں ایک بھی مسلمان وزیر شامل نہیں ہے، لہٰذا مسلمانوں کے مسائل اور موضوعات کو صوبائی حکومت بڑے عجیب و غریب اور کسی حد تک جارحانہ انداز میں ڈیل کر رہی ہے ۔اتنا ہی نہیں اس حکومت کے وزیر آئین سے بھی پوری طرح واقف نہیں ہیں۔ ورنہ وہ یہ ادھوری معلومات ہرگز فراہم نہ کرتے کہ آئین میں سبھی بچوں کو مروجہ تعلیم کا حق دینے کی بات کہی گئی ہے اور مدرسے ان کی نگاہ میں اس ضرورت کو پورا نہیں کرتے ۔مہاراشٹر کے اقلیتی امور کے وزیر کو آئین کا بغور مطالعہ کرنا چاہئے کیونکہ اسی آئین میں اقلیتوں کو اپنی مرضی کے تعلیمی ادارے قائم کرنے کی پوری چھوٹ ملی ہوئی ہے جس کا ذکر ہم نے اوپر کی سطروں میں دستورکی دفعہ 30کے حوالے سے کیا تھا ۔ مہاراشٹر حکومت کی طرف سے مدرسوں کو اسکولوں کے زمرے سے خارج کرنے کا اعلان ایک غیر دستوری قدم ہے جو اپنے آپ دم توڑ دے گا۔ مسلمانوں کو اس سلسلے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں میں زیادہ چوکنا اور ہوشیار رہنا ضروری ہے کیونکہ ان حکومتوں کا بنیادی مقصد ہی اقلیتوں کو ان کے بنیادی آئینی حقوق سے محروم کرنا ہے تاکہ ملک میں ہندو راشٹر کا پرچم بلند کیا جاسکے ۔
معصوم مرادآبادی
(بصیرت فیچرس)

آپ کی رائے