اسلامی دنیا میں عالم عرب اور عالم عرب میں مملک سعودیہ عربیہ کو مسلمانان عالم کے دلوں میں عقیدت و احترام کا امتیازی درجہ حاصل ہے، اور حرمین شریفین کی نسبت سے ہر مسلمان کا دل نہ صرف حجاز مقدس بلکہ پوری مملکت کے لئے محبت و عقیدت کے دینی جذبات سے دھڑکتا ہے، محبت و احترام کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جب سے اس علاقہ میں آل سعود کی حکمرانی قائم ہوئی ہے اس خاندان نے حرمین شریفین کی تعمیر و ترقی، حسن انتظام، دنیا بھر سے حج اور عمرے کے لئے آنے والے لاکھوں فرزندان توحید کے آرام و راحت اور بے فکری و آسانی کے ساتھ مناسک حج و عمرہ کی ادائیگی میں عمدہ انتظامات میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے جس کے لئے یہ حکمران مسلمانان عالم کی طرف سے ممنون احسان ہیں، پاکستان کے ساتھ بھی سعودی حکمرانوں کا حسن سلوک ہمیشہ مثالی رہا ہے اور ملک و قوم کو در پیش ہر مشکل وقت میں، پڑوسی دشمن کے ساتھ جنگی معرکے ہوں، ارضی و سماوی آفات ہوں یا معاشی و سیاسی مسائل و مشکلات، غرض قومی ضرورت و مصلحت کے ہر نازک موڑ پر مملکت سعودی عربیہ کے ارباب بست و کشاد، ہمیشہ مثالی تعاون میں پیش پیش رہے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان بھی ہر مشکل گھڑی میں دینی و ایمانی جذبات اور ذمہ داری کے ساتھ مؤثر تعاون کرتا رہا ہے، پاک فوج کے حوصلہ مند جوانوں کی طرف سے ماضی بعید و قریب میں، عقیدت و احترام پر مبنی ایسا عسکری تعاون جو فوجی مہارت اور ایمانی جذبات پر مبنی ہو، پاکستان کے علاوہ شاید ہی کوئی دوسرا ملک پیش کرسکتا۔
رپورٹوں کے مطابق اب بھی ہمارے فوجی دستے سعودی فوج کے جوانوں کی تربیت اور عسکری امور سے متعلق مقامی سطح پر خدمات فراہم کر رہے ہیں جبکہ لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی باشندے (مزدور سے لے کر ڈاکٹر اور انجینئر تک) مملکت کے ہر شعبے میں اہم اور مفید خدمات انجام دے رہے ہیں، کچھ عرصے سے علاقے میں پیش آنے والے خانہ جنگی کے تشویشناک حالات صرف سعودی بھائیں کے لئے ہی پریشان کن نہیں ہیں عالمی سطح پر بھی ہر مسلمان ان حالات سے مضطرب ہے اور پاکستان بطور خاص (حکومت اور عوام دونوں ہی) مضبوط دینی، تاریخی اور برادرانہ رشتوں کی وجہ سے نہ صرف فکرمند بلکہ متاثر ہیں۔
مشرق وسطی کا پورا خطہ ایک عرصہ سے جنگ کے خوفناک شعلوں کی لپیٹ میں ہے، اور لوہے و بارود کی تباہ کاری نے اس علاقے میں جان و مال اور حکومت و سیاست کے بہت سے قیمتی اثاثوں کو خاکستر کر ڈالا ہے، عراق کو تباہ کیا گیا، لیبیا برباد ہوا، مصر اور تیونس میں اضطراب اور بے چینی کے جھکّڑ چلنے لگے، اب یمن میں خوفناک افراتفری ہے جبکہ اس خانہ جنگی اور لاقانونیت سے دیگر پڑوسی ممالک میں بھی خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں، بالخصوص مملکت سعودی عربیہ کے ساتھ طویل ترین سرحد رکھنے کی وجہ سے یمن میں اٹھنے والے باغیانہ اور فرقہ وارانہ فتنے کی تپش کے پڑوس میں پہنچنے کے خطرات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
مسلم ممالک میں پیش آنے والے ان تباہ کن حالات کے پیچھے یقیناً اُس سازشی ذہنیت کا دخل ہے جو اسلام اور مسلمانوں کی ترقی اور چین و سکون کا دشمن ہے لیکن یہ دشمن خود لشکرکشی نہیں کرتا بلکہ ان ممالک کے باشندوں میں سے ہی افراد اور گروہوں کو ساتھ ملاکر پہلے آگ بھڑکاتا ہے اور پھر اس کو زیادہ سے زیادہ تباہ کن بنانے کے لئے اس پر تیل چھڑکتا ہے، یوں ایک عرصہ سے اندر کا ’’نادان‘‘ دوست اور باہر کا ’’شاطر‘‘ دشمن دونوں مل کر مسلم خطوں میں آباد شہروں، پر سکون بستیوں اور معاشی اور سیاسی اداروں کو ملیامیٹ کرنے کا تباہ کن کھیل کھیل رہے ہیں، جس کے نتیجے میں دہشت گردی، جان و مال کی تباہی اور وحشتناک افراتفری کے انسانی المیّے جنم لے رہے ہیں۔
مسلم ممالک میں بر سر اقتدار بطقہ بالعموم مغرب کا پروردہ ہے، محدود مادہ پرستانہ سوچ کا غلام یہ طبقہ، اپنی تہذیبی اور ایمانی قدروں کی پاسداری اور قومی زندگی کے نشیب و فراز میں اپنے مقاصد حیات کو اہمیت دینے اور اپنا قبلہ درست کرنے کی بجائے، مغرب کا تابع مہمل بنا ہوا ہے اور شامت اعمال سے حکومت ہو، ریاستی ادارے ہوں یا معاشرہ، ہر جگہ مغرب کی چھاپ نظر آتی ہے بدعنوانی، عیش پرستی اور آرام طلبی کو دوڑ لگی ہوئی ہے، نوجوان نسل ہر دینی و اخلاقی پابندی سے آزاد آوارگی کی راہ پر ہے جبکہ دشمن پر نظر رکھنے، دینی اور تہذیبی اقدار کی حفاظت کرنے، تعلیم کا معیار بلند کرنے، علم و ہنر میں کمال حاصل کرنے اور سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھنے کی طرف خاطر خواہ توجہ نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس طرح کے ماحول میں جب کسی قوم پر آزمائش کا وقت آتا ہے تو ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں اور قوم و ملک کا استحکام لرزنے لگاتے ہے، عالمی میڈیا پر مشرقی وسطیٰ کے ممالک اور ان میں قائم حکومتوں کی کمزوریوں کا چرچہ جس طریقہ سے ہورہا ہے اُس کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے اور شرم سے گردن جھک جاتی ہے، یمن مشرق وسطیٰ کا اہم ملک ہے اور عدن کی بندرگاہ کی وجہ سے عالمی سطح پر اس کی بڑی اہمیت ہے، یہاں کی آبادی مختلف قبائل پر مشتمل ہے جن کے درمیان عشروں سے رسہ کشی ہے، ایک زمانے میں یہاں علاقائی تقسیم سے دو حکومتیں قائم تھیں، پھر دونوں حصے یکجا ہوگئے اور صنعاء پورے ملک کا دارالحکومت قرار پایا لیکن حکومت و سیاست کا مستحکم نظام قائم ہونے کی بجائے قبائل کے درمیان منافرتوں نے سر اٹھایا اور امن و امان درہم برہم ہوگیا، اب کچھ عرصے سے حوثی قبائل نے مسلح بغاوت کرکے اور قانونی حکومت کا خاتمہ کرکے دارالحکومت صنعا پر بھی قبضہ کرلیا ہے جس کے نتیجے میں سیاسی نظام کی جگہ لاقانونیت، خانہ جنگی اور طوائف الملو کی پھیل گئی ہے، حالیہ صورتحال اس لئے زیادہ تشویشناک ہے اس بغاوت میں اب فرقہ وارانہ عنصر بھی شامل ہوگیا ہے، عالمی رپورٹوں کے مطابق حوثی قبائل کا اصل تعلق زیدی فرقے سے تھا جو اہل تشیع کے فرقوں میں سے نسبۃً اعتدال پسند سمجھا جاتا ہے کہ جارحانہ مزاج نہیں رکھتا، لیکن کہا جاتا ہے کہ ایران کی موجودہ حکومت نے یہاں اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا، حوثی قبائل کی مرکزی شخصیات کو بلا کر ان کی ذہن سازی کی جس کے نتیجے میں یہ فرقہ اثنا عشریہ میں تبدیل ہوا اور بالآخر بیرونی پشت پناہی سے معاملہ اقتدار پر قبضے اور مسلح بغاوت تک پہنچ گیا۔
حکومت ایران، ایرانی انتظام اور ایران کی عام شیعہ آبادی کا تعلق اثنا عشری فرقے سے ہے، موجودہ حکومت سابق شاہ ایران کی بادشاہت کا خاتمہ کرکے تقریباً ۳۵ سال پہلے ایرانی عوام کے مذہبی پیشوا امام خمینی کی سرپرستی میں قائم ہوئی تھی، چنانچہ اس مسلکی انقلاب کی چھاپ، حکومت، سرکاری اداروں اور معاشرے کے مختلف طبقات میں باقاعدہ فرقہ وارانہ مزاج کے ساتھ نمایاں نظر آتی ہے، یہاں تک کہ اندرون ایران، سیستان و بلوچستان، خراسان اور کردستان سمیت جہاں جہاں اہل سنت ہیں وہ ایرانی ایجنسیوں کے زیر نظر اور دباؤ میں ہیں، ایران کے اہل سنت حکومتی رویوں کی وجہ سے اپنے آپ کو دوسرے درجے کے شہری سمجھتے ہیں کہ حکومت و ریاست میں ان کا حصہ بس نمائشی حد تک ہے، حالانکہ بعض رپورٹوں کے مطابق اس ملک کی آبادی میں اہل سنت ۲۰ تا ۲۵ کی نسبت میں ہیں، یہ بھی کس قدر تعجب خیز صورتحال ہے کہ ایرانی دارالحکومت تہران جہاں لاکھوں کی تعداد میں اہل سنت سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں، یہاں ان کو نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے باقاعدہ جامع مسجد میّسر نہیں ۔نہ صرف اندرون ایران بلکہ دیگر ممالک میں جہاں جہاں ایران کے سفارتخانے، کلچرل سنٹرز اور ڈوپلمیٹک مشن کام کر رہے ہیں وہ بھی اپنے اس رنگ کو نہ صرف یہ کہ چھپانے کی فکر نہیں کرتے بلکہ آگے بھی منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہر ملک میں موجود شیعہ آبادی اور ایران کی موجودہ حکومت و انتظامیہ کے درمیان مضبوط اور عمیق روابط قائم ہیں۔ مسلک کا یہ فکری تعلق بجائے خود معیوب نہیں ہے لیکن ان روابط کے نتیجے میں فرقہ وارانہ انتہا پسندی اور جارحانہ طرز عمل کا پیدا ہونا ہر لحاظ سے خطرناک ہے، تشیع بطور مکتبہ فکر کے تاریخی حقیقت ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ امت مسلمہ بحیثیت سواد اعظم اور مین اسٹریم Main Stream دین کی اس تعبیر سے وابستہ ہے جس کو مسلک ’’اہل سنت و الجماعت‘‘ کہا جاتا ہے سواد اعظم کے فکر و عمل کے اساسی مآخذ قرآن و سنت ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جاں نثار صحابہ کی صداقت و عدالت پر اعتماد اس کا لازمی حصہ ہے، کہ دین کے یہ مآخذ انہین کے ذریعے محفوظ ہوئے اور ہم تک پہنچے ہیں چنانچہ چودہ سو سال سے امت مسلمہ کا حضرات صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے معیار حق ہونے پر اتفاق ہے، کسی بھی گروہ کا اپنے فکری نقطہ نظر سے وابستگی کا حق قابل قبول ہے لیکن جمہور امت کے اساسی فکری دھارے میں رخنہ ڈالنا نامعقول بھی ہے اور واقعاتی طور پر سعی لاحاصل بھی، جمہور امت کے معتقدات کو چیلنج کرکے فرقہ وارانہ سوچ مسلط کرنا اور اس غرض کے لئے منافرت کے شعلے بھڑکانا سواد اعظم کے لئے ناقابل قبول طرز عمل ہے ۔ اس لئے نہایت دردمندانہ اور خیرخواہانہ گزارش ہے کہ (الدین النصیحہ، دین خیرخواہی کا ہی نام ہے) اس طرز عمل پر نظر ثانی کی جائے اور جمہور امت کے فکری اثاثوں کو مجروح کرنے سے گریز کیا جائے، اپنے ملک و قوم کے لئے مثبت کاموں کا بڑا وسیع دائرہ موجود ہے، منفی اور جارحانہ اقدامات سے ماضی میں بھی مسلمانوں عالم کو ناقابل تلافی نقصانات پہنچے ہیں آئندہ بھی کسی فائدے کی توقع نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مملکت سعودیہ عربیہ کے ارباب حل و عقد سے بھی عاجزانہ التماس ہے کہ خدمت حرمین شریفین کے جس اعزاز سے وہ سرفراز ہیں اور عالمی سطح پر ہر مسلمان ان کو احترام کی نظر سے دیکھتا ہے اس کا واضح سبب حرمین کے ساتھ خدمت کی یہ مبارک نسبت ہے اس لئے انہیں اس اعتماد کو مجروح نہیں کرنا چاہیئے، مہبط وحی، حجاز مقدس جس طرح صدیوں سے عقاید و شرائع کا سرچشمہ رہا ہے، آج بھی ہونا چاہئے، بعض حالات دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ ریاستی اداروں اور باشندگان مملکت میں معاملات و معاشرت و غیرہ شعبہ جات میں آسمانی تعلیمات کا عکس بہت دھندلا ہے، رحمۃ للعالمین کی ذات سے ایمانی اور مکانی قربت رکھنے والوں کو معاملات کی صفائی، رحمدلی، زندگی کے نشیب و فراز میں تصنع و تکلف اور اغیار کی نقالی کی جگہ، وقار اور اعتدال کا حامل ہونا چاہئے، یہاں کے ارباب اقتدار کو معروف کے لئے ماحول سازگار بنانے، منکرات کا راستہ روکنے، دعوت دین میں معاون بننے اور زمینی و فکری سرحدات کی حفاظت کے لیے تیقظ، تدبر اور تحمّس جیسے اوصاف کا حامل بننے کی نبوت سیرت کا حامل ہونا چاہئے، مسلمانان عالم کو ان کی ذات میں اُن مردان صدق و صفا کی تلاش ہے جن کی منافست سامان آسائش کے حصول میں نہیں، دین حنیف کا عکس جمیل بننے میں ہو، وہ اسلام کا بول بالا کرنے، ظلمتوں کے شکار بندگان خدا کو حق و صداقت کی راہ دکھانے اور دشمنان اسلام کی سازشوں سے مسلم ممالک میں فکری و عملی ارتداد کے جو جھکڑ چل رہے ہیں، ان کے سامنے بند باندھنے کی تڑپ رکھتے ہوں۔
سعودی انتظامیہ کی مغربی دنیا سے غیر معمولی قربت اور نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کے لئے، ۔آنکھیں بند کرکے۔ امریکا کا انتخاب، نیز عسکری، سیاسی، معاشرتی اور معاشی مسائل و معاملات تک مغربی دنیا کی رسائی و دخل اندازی اور بعض عرب ملکوں کے بارے میں نامناسب فیصلے جیسا طرز عمل خوش آئند قرار نہیں دیا جاسکتا۔ مناسب ہوگا کہ مملکت اور قوم کے وسیع تر مفاد میں ماضی کا پوری سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لے کر خامیوں کی اصلاح کی جائے ۔۔ خطرات کے جو بادل منڈلا رہے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے، اس تجویز پر بھی غور کیا جائے کہ مملکت سعودی عربیہ کے تعلیمی اداروں میں عسکری تربیت لازمی قرار دی جائے بلکہ مملکت کی سطح پر ہر بالغ مرد کو ناگزیر فوجی تربیت سے آراستہ کیا جائے، نوجوانوں کی زندگی کو منظم اور با مقصد بنایا جائے، اس طرح کے اقدامات سے ان شاء اللہ آوارگی اور آزادروی کے اس رجحان کی بھی حوصلہ شکنی ہوگی جس کی طرف نوجوان راغب ہو رہے ہیں۔
ہماری رائے میں اس مقصد کے حصول کے لئے پاک فوج کے ریٹائرڈ ۔آفیسرز اور جوان۔ نہ صرف یہ کہ بہترین معاون ثابت ہوسکتے ہیں، بلکہ جہاد کے جذبہ سے سرشار یہ جوان، امید ہے کہ اپنی پوری قابلیت اور حربی مہارت سے مملکت سعودیہ کے لئے بہترین فوج تیار کرکے اس کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنادیں گے۔
مولائے کریم پاکستان اور عالم اسلام کو ہر طرح کے فتنوں سے پناہ عطا فرمائے۔ آمین
مولانا عزیزالرحمن سواتی
اداریہ ماہنامہ البلاغ، کراچی
رجب 1436

آپ کی رائے