مولاناعبدالحمید: صدر روحانی اپنے وعدے پورے کریں

مولاناعبدالحمید: صدر روحانی اپنے وعدے پورے کریں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے تازہ ترین خطاب میں کہاہے ایرانی اہل سنت بھائی چارہ کی خیال داری کے ساتھ ساتھ صدر روحانی سے توقع رکھتی ہے وہ ایرانی قومیتوں اور مسالک کے حقوق کے بارے میں اپنے وعدے پورے کریں۔

ایران کے طول وعرض سے تعلق رکھنے والے ایک لاکھ سے زائد سنی مرد وخواتین سے خطاب کرتے ہوئے انتیس مئی دوہزار چودہ میں انہوں نے کہا: ایران کے سنی شہریوں نے صدر روحانی کو ووٹ دے کر واضح کیا کہ وہ آئین کی بالادستی چاہتے ہیں اور آئین پوری طرح کسی امتیازی رویے کے بغیر نافذ ہونا چاہیے۔ سنی شہری ہر سطح پر امتیازی سلوک کے خاتمے کے خواہاں ہیں؛ کسی کو اپنے طور پر ذاتی فیصلہ کرکے ہمیں پابندیوں میں جکڑنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

خطیب اہل سنت زاہدان نے دارالعلوم زاہدان کی تقریب دستاربندی وختم بخاری شریف کے موقع پر اپنے خطاب کے ایک حصے میں کہا: ایرانی سنیوں نے صدر روحانی کو اس لیے ووٹ دیا کہ اپنے ملک میں آزادی دیکھ لیں اور آئین میں مذکور آزادیوں اور حقوق پر دسترسی حاصل کریں۔ ان کا مطالبہ ہے اپنے ملک کی تقدیر میں حصہ لے لیں اور روزگار کی تقسیم میں امتیازی سلوک کی وجہ سے انہیں نظرانداز نہ کیاجائے۔ یہ ہمارے جائز اور قانونی حقوق ہیں؛ ہم زیادہ طلبی نہیں کرتے ہیں۔ اگرہم اپنے حقوق اور مناسب عزت حاصل کریں یہ موجودہ حکومت اور رجیم کے مفاد میں ہوگا۔ شیعہ و سنی میں بھائی چارہ اور قومی سلامتی کی تقویت واستحکام اسی طریقے سے ممکن ہے۔ ’امید اور تدبیر‘ کی حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے قومیتوں اور مسالک کے بارے میں اپنے وعدے پورے کرے۔ ماضی کی طرح، مستقبل میں بھی ایرانی سنی برادری قومی امن اور بھائی چارہ مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

مہتمم وشیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے مسلم فرقوں کے پیروکاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: تمام مسلم مسالک اسلام پر ایمان رکھتے ہیں اور اسلام سب کا نقطہ اشتراک ہے۔ لہذا اہل سنت اور اہل تشیع کو فرقہ وارانہ لڑائیوں اور نزاعات سے بچنا چاہیے۔ سب کو اپنے مشترکہ عقائد اور اعمال پر زور دینا چاہیے۔ قرآن پاک نے اہل کتاب کو اس بات کی جانب بلایاہے جو مسلمانوں اور غیرمسلمانوں میں مشترک ہے یعنی توحید۔ ایسے میں مسلمان فرقوں میں اشتراک و اتحاد کے لیے مزید چیزیں ہیں اور وہ بہت زیادہ اتحاد کے مستحق اور حاجتمند ہیں۔

ممتاز سنی عالم دین نے بعض مسائل کے حوالے سے ایرانی اہل سنت کے نقطہ نظر اور موقف پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: اہل سنت ایران چند نکات پر متفق ہیں؛ شیعہ سنی بھائی چارہ اور فرقہ واریت سے بیزاری پر وہ متفق ہیں۔ ہمارے خیال میں اتحاد کی جڑیں اسلامی تعلیمات میں ہیں۔ اتحاد بین المسلمین کوئی سیاسی اتحاد یا عارضی منصوبہ نہیں ہے جس طرح یورپی یونین میں متعدد ممالک متحد ہیں۔ مسلمانوں میں اتحاد ’اسلامی‘ ہے جس کی جڑیں قرآن پاک میں ہیں۔

مولانا عبدالحمید نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: ایران کے سنی شہری اس بات پر بھی متفق ہیں کہ آئین کی بالادستی یقینی بنانے سے انہیں ان کا جائز مقام ملک میں حاصل ہوجائے گا۔ اگرچہ موجودہ آئین لوگوں کے ذہن سے بنایاگیاہے اور اس میں بعض کمزوریاں بھی ہیں جنہیں رفرنڈم کے ذریعے اصلاح کرائی جاسکتی ہے، لیکن پھر بھی یہ دنیا کے سب سے بہترین قوانین میں شمار ہوتاہے۔

انہوں نے مزید کہا: ایرانی اہل سنت کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے مطالبات جائز اور پرامن طریقوں سے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم مذاکرات اور باہمی گفت وشنید کے ذریعے اپنے حقوق حاصل کریں گے۔ ہماری نظر میں ہدفی قتل، تشدد اور رہزنی ناقابل قبول ہے۔ ہم جیل اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن پرتشدد طریقوں سے مطالبات کی پیروی کو جائز نہیں سمجھتے ہیں۔ تمام سنی علمائے کرام تشدد کی مذمت کرتے ہیں۔ لہذا میں تمام افراد سے جو ملک کے اندر یا باہر مسلح جدوجہد سے اپنے مطالبات پیش کرتے ہیں، مطالبہ کرتاہوں اپنے ہتھیار زمین پر رکھ دیں اور مذاکرات کے راستے سے اپنے مطالبات کی پیروی کریں۔

عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین کے رکن نے مزیدکہا: ہماری نظر میں بلوچ اور غیربلوچ کا کوئی فرق نہیں ہے؛ اگر کوئی بلوچ شہری ماراجائے یا فارسی ہماری نظر میں دونوں کے خون برابر ہیں۔ ہم اپنے اس نظریے کی درستی و سچائی پر یقین رکھتے ہیں۔

ایران میں سنی مسلمانوں کی دینی تعلیم اور عبادت کی مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: ایران میں سنی شہری مختلف صوبوں اور شہروں سمیت بعض بڑے شہروں میں رہتے ہیں، انہیں دینی تعلیم اور نماز قائم کرنے کے لیے مناسب جگہوں کی ضرورت ہے۔ ہمارے بچوں کی دینی تعلیم پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ میں اپنے سنی بھائیوں اور بہنوں سے بھی درخواست کرتاہوں آزادی سے اپنی نمازیں قائم کریں اور بھائی چارہ کا خیال رکھیں۔ آئین ہمیں اس کی اجازت دیتاہے۔

ممتاز سنی عالم دین نے کردستان اور گلستان سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام اور عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: صوبہ کردستان وگلستان کے علمائے کرام اور عوام کے نام میرا پیغام ہے کہ خواتین کی دینی تعلیم کے لیے سنجیدہ کوششیں تیز کردیں۔ معاشرے میں متعدد برائیوں اور مشکلات کی جڑ تعلیم کے مسئلے سے جا ملتی ہے۔ ہم اس سلسلے میں علمائے کرام سے تعاون اور مشورہ دینے کے لیے تیار ہیں۔

اپنے خطاب کے آخر میں شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے علما کی عزت واحترام پر زور دیتے ہوئے کہا: علمائے کرام چاہے ان کا تعلق کسی بھی مسلک سے ہو قابل احترام ہیں اور ان کی عزت محفوظ ہونی چاہیے۔ کسی کو ان کی توہین نہیں کرنی چاہیے۔ ایک عالم دین کی توہین دراصل تمام علمائے کرام کی توہین ہے۔ تمام مسلمان فرقوں اور مسالک کی عزت محفوظ ہونی چاہیے؛ جب مقدسات کا احترام ہوگا تب بھائی چارہ کو تقویت حاصل ہوجائے گا۔

 

 

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین