ایمان اور ذکر سے پرسکون زندگی نصیب ہوتی ہے

ایمان اور ذکر سے پرسکون زندگی نصیب ہوتی ہے

خطیب اہل سنت زاہدان شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے تازہ ترین خطبہ جمعہ میں ایمان اور اللہ تعالی کی یاد کو انسان کے لیے سکون وامن کا باعث یاد کرتے ہوئے خواہشات نفسانی کی پیروی کو اس کے لیے تباہ کن قرار دیا۔

 

بائیس نومبر دوہزار تیرہ کے خطبہ جمعے کا آغاز قرآنی آیت: «وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ» [عنکبوت: 69]، (اور جو لوگ ہماری راہ میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں ہم ان کو اپنی (قرب و ثواب یعنی جنت کے) رستے ضرور دکھا وینگے اور بے شک الله تعالیٰ (کی رضا و رحمت) ایسے خلوص والوں کے ساتھ ہے۔)  کی تلاوت سے کرتے ہوئے انہوں نے کہا: اللہ رب العزت نے اس آیت مبارکہ میں جہاد اور مجاہدے کا تذکرہ فرمایاہے؛ جہاد اور مجاہدے کا مطلب ہے ایسی کوشش اور کاوش جو انسان کو اللہ تک پہنچادے اور رب العالمین کی رضامندی کاحصول اس کا ثمرہ ہو۔

مولانا عبدالحمید نے جہاد کی تقسیم کرتے ہوئے کہا: ایک جہت سے جہاد کی دو قسمیں ہیں؛ پہلی قسم وہ ہے جو حق کی بات نہ ماننے والے قابض، جبار اور ظالم دشمن کے خلاف لڑنے سے ممکن ہے۔ جہاد کی دوسری نوع نفس امارہ اور شیطان سے مقابلے میں ہے۔

خطیب اہل سنت نے ’جہادبالنفس‘ پر زورد یتے ہوئے مزید گویاہوئے: اسلامی شریعت کے نقطہ نظر سے جہادبالنفس انتہائی اہم ہے یہاں تک کہ بعض روایات میں اسے ’جہاد اکبر‘ قرار دیاگیاہے۔ آخری دم تک نفس امارہ کی سرکشیوں اور بغاوتوں کے خلاف لڑائی جاری رہتی ہے۔ ہرانسان کو اپنے نفس کو لگام لگانے کی کوشش ومحنت کرنی چاہیے۔

انہوں نے مزیدکہا: حدیث شریف میں آتاہے ”المجاہد من جاہد نفسہ فی طاعة اللہ“، مجاہد وہی ہے جو اللہ کی اطاعت کی راہ میں اپنے نفس کے خلاف جہاد کرے۔ اسی حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ سچا مہاجر بھی وہی ہے جو اپنے گناہوں کو چھوڑدے؛ لہذا جو شخص اللہ کی پیروی کے سلسلے میں اپنے نفس پر قابو پانے کی محنت کرتارہتاہے یا گناہوں سے جان چھڑاکر پاکیزہ زندگی بنانے میں کامیاب ہوتاہے وہ ایک حقیقی مجاہد اور مہاجر بن جاتاہے۔

شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے مزیدکہا: اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جو شخص کسی قابض یا جابر دشمن کے خلاف لڑتاہے وہ غازی اور مجاہد ہے، لیکن جو اپنے نفس کی خواہشات سے لڑتاہے تو اس کا کام نہ ختم ہونے والاہے؛ اسی لیے یہ بڑا مجاہدہ کہلاتاہے۔ نفس امارہ کی تباہ کاریوں کی مزاحمت کے نتیجے میں انسان شریعت کے خلاف امور سے دور رہتاہے۔ اس نفس کا مقابلہ کرنا چاہیے جو انسان کو رشوت ستانی، سودخوری، بدنظری، غیبت، زنا، دروغ گوئی اور نماز میں سستی جیسے گناہوں کی ترغیب دیتاہے۔ بزرگوں نے ’نفس انسانی‘ کو ایک دودھ پیتا اور شیرخوار بچے سے تشبیہ دی ہے جو دودھ پینے کے عادی بن چکاہے؛ اس بچے کو اس کی عادت سے چھڑانا ضرور مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں ہے۔ اسی طرح جو نفس گناہوں کے عادی بن چکاہے اسے گناہوں سے دور رکھنا اور اس کی خواہشات کوکنٹرول کرنا ضرور مشکل ہے لیکن ممکن بھی ضرور ہے۔

بات آگے بڑھاتے ہوئے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا: ہماری زندگی اور حیات کی بقا کا راز نفس سے مقابلے میں ہے۔ اگر ہم نفس کے خلاف مجاہدہ نہ کریں تو اللہ تعالی تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ جو اللہ کی راہ میں مجاہدہ کرتاہے اللہ اس کے سامنے راہیں کھول دیتاہے جن کا انجام خالق حقیقی ہے۔ جو دل گناہوں اور معاصی کے دلدادہ ہو وہاں اللہ کی محبت مجاہدے کے بغیر جگہ نہیں پاتی۔ اگر ہمیں اللہ اور اس کی رضامندی درکار ہے تو نفس امارہ کے خلاف لڑنے کو جاری رکھیں اور شیطان سے دور رہیں۔

انہوں نے ایمان اور ذکر الہی کو پرسکون زندگی تک پہنچنے کے اسباب قرار دیتے ہوئے کہا: قرآن مجید کا سورت الرعد آیت اٹھائیس میں ارشاد ہے کہ پرسکون زندگی کا راز ایمان اور ذکراللہ میں ہے۔ آرام دہ اور پرسکون زندگی وہی ہے کہ انسانی نفس خواہشات سے دور رہے اور اللہ کی محبت دل میں بس جائے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس اسباب تعیش وراحت کم تھے، کھانے پینے کیلیے ان کے پاس بقدر ضرورت بھی کوئی چیز میسر نہ تھی، لیکن قوی ایمان اور اللہ سے تعلق کی برکت سے ان کی زندگیاں پرسکون تھیں۔

ممتازسنی عالم دین نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: آج کا انسان خواہشات نفسانی کی راہ پرچل کر سکون وآرام حاصل کرنا چاہتاہے، لیکن یہ ناممکن ہے۔ جس طرح ’استسقائے شکمی‘ میں مبتلا بیمار جس قدر پانے پی لے اس کی پیاس نہیں بجھ سکتی، بالکل اسی طرح نفس انسانی کی خواہشوں کی جتنی پیروی کی جائے پھر بھی وہ گناہ سے سیراب نہیں ہوتا بلکہ انسان کو تباہی وہلاکت تک پہنچاکر چھوڑدیتاہے۔ لہذا نفس امارہ سے مقابلہ ہر انسان کے ذمے پرفرض ہے۔

مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے پہلے حصے کو دیانتداری کی اہمیت واضح کرنے سے ختم کرتے ہوئے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی خطبوں میں دیانتداری وامانتداری پر تاکید کرتے ہوئے کہاہے جو عہدشکنی کرتاہے وہ بے دین ہے اور جو امین و دیانتدار نہیں ہے وہ بے ایمان ہے! ’ایمان ‘اور ’امانت‘ کی جڑ ایک ہی کلمہ ہے۔ دیانتداری صرف آپ کے پاس چھوڑی گئی اشیا تک محدود نہیں ہے؛ اس کے علاوہ اگر کسی نے آپ سے مشورہ لیا تو اس میں بھی دیانتداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ دوسروں کا راز بھی فاش نہ کرنا امانتداری کی ایک قسم ہے۔ لہذا لوگوں کا راز فاش نہ کریں اور ان کی عزت کا بھی خیال رکھیں۔

 نئے گورنر کی آمد سے ہمارے مسائل حل ہونے چاہییں

خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے بیان کے ایک حصے میں صوبہ سیستان بلوچستان کے لیے نئے گورنر ’علی اوسط ہاشمی‘ کی تقرری کی رپورٹس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: اگرچہ ہماری شناخت نئے نامزد گورنر کے بارے میں محدود ہے، لیکن چونکہ نئی حکومت کی کوششوں کے بارے میں ہم واقف ہیں کہ وہ کسی قابل اور معتدل شخص کو چنے گی، اسی لیے ہمیں امید ہے کہ نئے گورنر صدرمملکت کی پالیسیوں کی روشنی میں کام کریں گے۔

انہوں نے مزیدکہا: ہم نئے گورنر کی تقرری کو صوبے کیلیے اچھا اقدام سمجھتے ہیں، امید یہی ہے کہ منفی نگاہیں بدل جائیں اور بہت سارے مسائل کا کوئی مستقل حل نکالاجائے۔ صوبے میں اتحاد و بھائی چارہ، لوگوں کی آرام اور سکیورٹی مضبوط ہونے صوبہ سیستان بلوچستان کی ترقیاتی سرگرمیاں تیز ہوں گی۔ اس صوبے کی ترقی میں تمام اکائیوں کو شریک بنانا چاہیے۔

اپنے خطاب کے آخر میں شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے لبنانی دارالحکومت بیروت میں ایرانی سفارتخانے پر خوفناک حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا: عالمی معاہدوں اور شریعت کی رو سے دیگر ممالک کے سفیروں اور سفارتخانوں کی حفاظت کرنی چاہیے، انہیں سکیورٹی دینی چاہیے، ان پر حملہ کرنا ممنوع اور قابل مذمت ہے۔ امید ہے آیندہ ایسے حملے رک جائیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین