گناہ بندے کو جنت سے محروم اور خدا سے دورکرتاہے

گناہ بندے کو جنت سے محروم اور خدا سے دورکرتاہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمیداسماعیل زہی نے اپنے تازہ ترین خطبہ جمعہ میں خالق کی اطاعت وبندگی پر زور دیتے ہوئے گناہوں کو جنت سے محرومی اور خدا سے دوری کا باعث قرار دیا جس کی وجہ سے انسان پریشان ہوتاہے۔

 

خطیب اہل سنت زاہدان نے پندرہ نومبر دوہزار تیرہ کے خطبہ جمعے کا آغاز قرآنی آیت: «وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ»، (اور جو کوئی خدا کی یاد سے آنکھیں بند کرکے (یعنی تغافل کرے) ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں تو وہ اس کا ساتھی ہوجاتا ہے) [زخرف: 36] کی تلاوت سے کیا۔

انہوں نے مزیدکہا: موجودہ حالات میں دنیا میں ہرسو گناہ ہی گناہ پھیل چکاہے۔ انسانی معاشرہ بری طرح قسماقسم گناہوں کے دلدل میں پھنس چکاہے۔ ان تمام گناہوں اور معاصی کی اصل علت غفلت ہے؛ لوگوں کو اپنی کرتوتوں کے سنگین نتائج کی پرواہ نہیں ہے۔ غفلت کی وجہ سے لوگ اللہ کی یاد سے غافل ہوچکے ہیں چنانچہ شیطان ان پر راج کررہاہے۔ لیکن اللہ کی یاد انسان کو شیطان سے دور کرتاہے اور قرب الہی اسی سے حاصل ہوتاہے۔

مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: آج کل اگر دنیا میں کشت وخون کا بازار گرم ہے اور انسان اپنے ہم نوعوں کو مارتاہے، حتی کہ مسلمان دوسرے مسلمان کا خون بہاتاہے تو اس کی بنیادی وجہ غفلت اور معاصی کا عام ہوناہے۔ گناہوں کی وجہ سے انسان اللہ سے دور ہوتاہے اور گمراہی کی وادی میں گرجاتاہے۔ گناہوں کی وجہ سے مسلمانوں کے دل اس قدر سخت ہوچکے ہیں کہ ذکر وتلاوت اور عبادت کا انسان پر کوئی اثر نہیں پڑتا، دین کی باتوں کا اثر نہیں ہوتا اور فکرآخرت کمزور پڑچکی ہے۔ لوگوں کی سوچ مزیدکمانے اور پیسہ بٹورنے تک محدود ہے۔

شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے اپنے خطاب میں ’جہالت ونادانی‘ کومعاصی کے ارتکاب کی ایک اور وجہ قرار دیتے ہوئے کہا: اگر کوئی گناہ کرے اور بظاہر عالم دین بھی ہو تو حقیقت میں وہ جاہل ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے ایک خطا سرزد ہوئی تو انہیں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں حضرت آدم وحوا علیہماالسلام کا تذکرہ کرتے ہوئے ہمیں یہ سبق یاد دلایاہے کہ گناہ کی وجہ سے بندہ جنت سے نکالاجاتاہے اور سخت پریشانیوں کاسامنا کرتاہے۔

توبہ کرنے پر تاکید کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: آدم علیہ السلام جب جنت سے نکالاگیا تو دوبارہ انہیں جنت میں بسایا گیا؛ اس کی وجہ ان کی خالص توبہ تھی۔ اگر ہم بھی توبہ واستغفار اور انابت سے کام لیں تو جنت ہماری جگہ ہوگی اور ہمیں اللہ کا قرب حاصل ہوجائے گا۔ لہذا طاعت وبندگی انسان کی سعادت وکامیابی کا باعث ہے جبکہ گناہ ومعصیت پریشانی کی جانب قدم بڑھانا ہے۔ آج کا مسلمان تمام تر گناہوں اور غفلتوں کے ساتھ توبہ کیے بغیر خود کو جنت کا مستحق سمجھتاہے اور اولیاءاللہ کا مقام حاصل کرنا چاہتاہے۔ حالانکہ اللہ تعالی کا قانون یہ ہے کہ اپنے بندوں کو طاعت وبندگی کی برکت سے قرب ونزدیکی نصیب فرماتاہے۔

فلپائن میں خطرناک اور تباہ کن ’طوفان ہیان‘ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے خطیب اہل سنت نے کہا: آج کا انسان اپنے اعمال کی وجہ سے عذاب الہی کا شکار ہوتاہے۔ فلپائن کا حالیہ طوفان بھی اسی قسم کا تھا جس میں ہزاروں افراد ہلاک وزخمی یا خانہ بدر ہوگئے۔ یہ اللہ کی سزا تھی۔ اسی طرح پاکستانی بلوچستان کا حالیہ زلزلہ ایک عذاب تھا۔ اللہ رب العزت مسلمان اور کافر دونوں کو سزا دلواتاہے تاکہ انسانیت کو یہ سبق سکھائے کہ تمام مصائب ومشکلات کی جڑ ان کے برے اعمال اور معاصی ہیں۔

قیام امن کیلیے بڑی طاقتوں سے مدد مانگنا فکری کمزوری کی نشانی ہے
ممتاز سنی عالم دین نے اپنے خطاب کے ایک حصے میں عراقی وزیراعظم نوری المالکی کی امریکا سے قیام امن کی خاطر مدد مانگنے کی خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: افسوس کا مقام ہے کہ عراق میں مسائل اپنے عروج کو پہنچ چکے ہیں اور وہاں کے مسلمان جو قومی ودینی لحاظ سے بھائی ہیں ایک دوسرے کی جانیں لے رہے ہیں۔ عراق میں بھائی چارہ اب پارہ پارہ ہوچکاہے۔ یہاں تک کہ عراقی وزیراعظم نے امریکا سے مدد مانگی ہے کہ عراق میں امن قائم کرنے کیلیے اس کی مدد کی جائے۔ یہ خبر میرے لیے چونکا دینے والی تھی۔ ایسے اقدامات مسلم حکام کی فکری کمزوری اور سوچ کی کمزوری کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں اور امریکا، روس اور یورپ جیسی طاقتوں سے وہ مدد مانگتے ہیں۔

صدر شورائے مدارس اہل سنت سیستان وبلوچستان نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا: انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ مسلم حکام اور عوام مل جل کر اپنے مسائل حل نہیں کرسکتے اور دوراندیشی ومکالمے سے کوئی حل نہیں نکال سکتے۔ اگر امریکا کو عراق میں امن کی خواہش ہوتی تو وہ عراقیوں کو آپس میں لڑاتے ہوئے نہ چھوڑ جاتا۔ عراق کے تمام مسائل کی جڑ دوہزار تین میں ناجائز امریکی قبضہ ہے۔ امریکا نے انتہائی چالاکی سے مختلف عراقی گروہوں میں پھوٹ ڈالا تاکہ ایک دوسرے کی گردنیں خود مارڈالیں۔ ہماری خواہش تھی کہ صدام حسین کے بعد یہ ملک مزید متحد ہوتا لیکن اب وہاں انتشار وتباہی ہی نظر آتی ہے۔

مصری حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا: مصری حکام بھی اغیار کے دامن میں امن تلاش کرتے ہیں؛ روس کا ایک اعلی سطحی وفد قاہرہ میں اسلحے کی فروخت کا معاہدہ کرتاہے۔ یہ اسلحہ اسرائیل کے مقابلے کیلیے نہیں بلکہ مصری عوام کو مزید دبانے کیلیے استعمال ہوتے ہیں۔ شام وعراق کے عوام کو اسلحہ سپلائی کی جاتی ہے تاکہ ایک دوسرے کو مار کر وہ اسرائیل کو بھول جائیں؛ ایسے مسلمان صہیونی ریاست کا کچھ نہیں بگاڑسکیں گے۔ تاریخ میں سامراجی قوتوں کی کوشش یہی رہی ہے کہ ایسے نااہل حکمران مسلمانوں پر مسلط کریں جو ان کے دلدادہ ہوں اور ہر کام میں انہی کے پیروکار ہوں؛ وہ ہرگز کسی مردحر اور اللہ ورسول پر ایمان لانے والے کو حکمرانی کے تخت پر نہیں دیکھنا چاہتے جو سچے دل سے اپنی قوم کی خدمت کرسکے۔

پاکستانی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین کے رکن نے کہا: پاکستانی سیاستدانوں اور حکام کو چاہیے آپس کے اختلافات کو بھلاکر مذاکرات ومکالمے سے اپنے مسائل حل کریں، عوام کی بات سنیں اور ان کے مسائل دور کرنے کی کوشش کریں۔

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے تمام مسلم حکام اور رہ نماوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: میں اس چھوٹے منبر سے تمام مسلمانوں سے اپیل کرتاہوں آپس کی لرائیاں بند کردیں، ایک دوسرے کو مارنے کے بجائے معافی و گذشت سے کام لیں۔ اصحاب حل وعقد سرجوڑ کر بیٹھیں اور مسائل حل کرائیں، مغرب ومشرق سے مدد مانگنے کے بجائے اپنے ہی بھائیوں پر بھروسہ کریں اور مذاکرات اور گفت وشنید سے کوئی حل نکالیں۔ تکفیر، فساد اور ایک دوسرے کی عبادت گاہوں پر حملے نہ کریں۔ اس حوالے سے تمام مسلم علمائے کرام، دانشور حضرات اور حکام اپنے کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا: اتحاد کسی بھی قوم کیلیے ضروری ہے؛ انتشار اور فرقہ واریت سے قوموں کی عزت اٹھ جاتی ہے، معیشت تباہ وبرباد ہوتی ہے اور ایسی قومیں تاریخ میں بدنام ہوتی ہیں۔ لہذا سعہ صدر اور فراخدلی سے اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین