ممتاز سنی عالم دین شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید کے دفتر نے ایران کی انگریزی ٹی وی چینل پریس ٹی وی میں شائع رپورٹ کے دعووں کی تردید کی ہے جس میں مولانا عبدالحمید کے حوالے سے شام میں جاری خانہ جنگی پر رپورٹ نشر کی گئی ہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان مولانا عبدالحمید کے دفتر کی ویب سائٹ کے مطابق ایران کی سرکاری سیٹلائٹ ٹی وی چینل پریس ٹی وی نے چند دن پہلے ’انتہاپسندی اور تکفیر‘ کے موضوع پر مولانا عبدالحمید کا انٹرویو لیا تھا۔ مذکورہ ٹی وی نے اپنی تازہ رپورٹ میں جو جمعہ یکم نومبر دوہزار تیرہ کو شائع ہوئی، ایسا ظاہر کیا ہے کہ مولانا نے شام میں بشاراسد کے مسلح مخالفین کو تکفیری اور انتہاپسند قرار دیاہے حالانکہ مذکورہ انٹرویو میں حضرت شیخ الاسلام نے شام کا نام تک نہیں لیاہے۔
عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین کے رکن نے اپنی گفتگو میں عمومی انداز میں انتہاپسندی کی تنقید کرتے ہوئے کہاہے ’انتہاپسندی اور تکفیر‘ کوئی نئی چیز نہیں ہے، اسلام کی تاریخ میں ایسے عناصر گزرچکے ہیں اور شیعہ وسنی دونوں مسلکوں میں بعض لوگ اپنی غلط فہمی کی وجہ سے انتہاپسندی کے شکار ہوتے ہیں اور دوسرے مسلمانوں کی تکفیر کربیٹھتے ہیں۔
مہتمم دارالعلوم زاہدان کے دفتر نے اپنے بیان میں تمام ذرائع ابلاغ کو اصول صحافت اور اخلاق کی پاسداری کی ترغیب دیتے ہوئے میڈیا سے مطالبہ کیاہے جھوٹی خبروں اور غلط نسبتوں سے پرہیز کرے۔
یادرہے اس سے پہلے بھی بعض سرکاری ذرائع ابلاغ نے ذمہ دار سنی شخصیات کی باتوں کو اپنی مرضی کا رنگ دیکرغلط انداز میں شائع کیاہے جس پر علمائے کرام احتجاج کرچکے ہیں۔
دفترشیخ الاسلام مولانا عبدالحمید کے مطابق پریس ٹی وی سے مولانا کی گفتگو کے مکمل وڈیو دستیاب ہے جو دستاویزی شکل میں جلد ان کی ویب سائٹ پر شائع ہوجائے گا، ان شاءاللہ۔
AbdolHamid.net + SunniOnline.us

آپ کی رائے