مصر: ریفرنڈم میں کامیابی کے بعدصدر مرسی نے اسلامی دستور پر دستخط کر دیئے، اقتصادی اصلاحات متعارف کرانے کا اعلان

مصر: ریفرنڈم میں کامیابی کے بعدصدر مرسی نے اسلامی دستور پر دستخط کر دیئے، اقتصادی اصلاحات متعارف کرانے کا اعلان

مصرکے نئے دستور پر ہونے والے ریفرنڈم میں کامیابی کے بعدصدر مرسی نے ملک کے نئے اسلامی دستور کے مسودے پر دستخط کر دیئے ہیں جس کے بعد یہ باقاعدہ اسلامی قانون کی شکل اختیار کرگیا۔
ادھر مصر کی حکمران جماعت اخوان المسلمون نے آئینی ریفرنڈم میں کامیابی کے بعد اقتصادی اصلاحات متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔
بدھ کو ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر مرسی نے مصر کے نئے اسلامی دستور پر دستخط کے بعد کہا ہے کہ نیا آئین ملک میں جاری بحران اور سیاسی کشیدگی پر قابو پانے میں مدد گار ثابت ہوگا۔
ریفرنڈم میں کامیابی کے بعد اب یہ دستور ملک کا اسلامی قانون بن گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی پارٹیوں کو آئینی مسودہ بھیج دیا گیا ہے تاکہ وہ اس کا جائزہ لیں۔
مصر کی نئی اسلام پسند سینیٹ کے 90 اراکین بھی جلد عہدوں کا حلف اٹھائیں گے جن کا انتخاب مصری صدر محمد مرسی نے کیا ہے۔دریں اثناء صدر مرسی ہفتے کو پارلیمنٹ کے ایوان بالا(سینیٹ) سے خطاب کرینگے واضح رہے کہ نئے دستور کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ کے ایوان بالا کوقانون سازی کا مکمل اختیار مل گیا ہے۔
صدر مرسی کے آفس کے مطابق ریفرنڈم میں نئے دستور کی منظوری کے بعد صدر مرسی بدھ کو قوم سے خطاب کرینگے۔
مصر کے قومی الیکشن کمیشن کے مطابق حالیہ ریفرنڈم کے دو ادوار میں 64 فیصد عوام نے نئے آئین کے حق میں ووٹ دیا۔
دوسری جانب مصر کو سالانہ 1.3 ارب ڈالر امداد دینے والے امریکہ نے مصری صدر محمد مرسی پر زور دیا ہے کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ اپنے اختلافات کو کم کریں۔
ادھرمصر کی حکمران جماعت اخوان المسلمون نے آئینی ریفرنڈم میں کامیابی کے بعد اقتصادی اصلاحات متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ مصر کے ذرائع ابلاغ کے مطابق اخوان المسلمون کے سیاسی ونگ فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے ترجمان مراد علی نے بتایا کہ ابتدائی طور پر ہمیں قانون سازی کی ضرورت تھی، اب ملک میں اقتصادیات کے شعبے پر توجہ دی جائے گی اور اقتصادی اصلاحات کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا اس حوالہ سے شوریٰ کونسل کا اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں اہم فیصلے متوقع ہیں۔
ایک سوال پر انہوں نے کہامصر میں حالیہ ریفرنڈم کے دوران دھاندلی کے حوالہ سے الزامات بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں۔

جنگ نیوز


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین