ریاض (العربیہ ڈاٹ نیٹ)
انٹرنیٹ کی معروف کمپنی ‘گوگل’ نے توہین اسلام پر مبنی امریکی فلم کے سماجی رابطے کی ویب سائٹ یو ٹیوب پر لوڈ کردہ تمام لنکس سعودی عرب میں بلاک کرنا شروع کر دیے ہیں۔
گوگل نے یہ اقدام ریاض حکومت کی جانب سے اس مطالبے کے بعد اٹھایا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ مملکت میں انٹرنیٹ صارفین کے لیے جلد از جلد گستاخانہ فلم تک رسائی بند کرے۔
العربیہ کے مطابق وزارت مواصلات اور سائنس وٹیکنالوجی نے گوگل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ سعودی عرب میں انٹرنیٹ صارفین کے لیے گستاخانہ فلم کے صفحات تک رسائی بلاک کرے، جس کے بعد یو ٹیوب پر فلم تک رسائی کی کوشش کرنے والوں کو یہ پیغام ملتا ہے کہ ’’متعلقہ مواد تک رسائی آپ کے ملک میں دیکھنا ممنوع ہے۔
قبل ازیں وزارت مواصلات کی جانب سے میڈیا کو جاری ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ وہ گستاخانہ فلم کے تمام رابطہ لنکس بند کرانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ یو ٹیوب اور دیگر سوشل ویب سائیٹس سمیت کسی بھی سائیٹ پر اب متنازعہ فلم کا کوئی کلپ سعودی عرب میں نہیں دیکھا جاسکے گا۔
اس سلسلے میں انٹرنیٹ کے سرچ انجن گوگل کی انتظامیہ سے کہا گیا تھا کہ وہ یو ٹیوب اور دیگر ویب سائیٹس پر متنازعہ فلم کے لوڈ کردہ تمام لنکس بلاک کر دے، اگر ایسا نہیں کیا جائے گا تو سعودی عرب میں یو ٹیوب بلاک کر دی جائے گی۔
سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘ ایس پی اے’ نے بھی اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ محکمہ مواصلات نے گوگل کو دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ وہ یو ٹیوب پر موجود فلم کے تمام لنکس تک رسائی روک دے ورنہ یوٹیوب کو مکمل طور پر بند کر دی جائے گی۔
وزارت مواصلات کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلمان گستاخانہ فلم کی اپنے معاشرے میں ترویج کی اجازت نہیں دیں گے۔ شر انگیز فلم کے ذریعے مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل اور اسلام اور پیغمبر اسلام کا مذاق اڑا کر مسلمانوں کی غیرت کو للکارا گیا ہے۔ جس کے بعد جوابی کارروائی ہمارا دینی فریضہ ہے۔
خیال رہے کہ نائن الیون کی گیارہویں برسی کے موقع پر امریکا میں قبطیوں مسیحیوں کے تعاون سے بنائی گستاخانہ فلم کے منظر عام پر آنے کے بعد عالم اسلام میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ اسی ردعمل کے نتیجے میں انٹرنیٹ پر موجود اس فلم کو دکھائے جانے پر پابندی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ متنازعہ مواد انٹرنیٹ سے نہ ہٹانے پر پاکستان میں یو ٹیوب مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔

آپ کی رائے