عراق:پے درپے بم دھماکوں میں 56 افراد ہلاک،250 زخمی

عراق:پے درپے بم دھماکوں میں 56 افراد ہلاک،250 زخمی

بغداد (العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں) عراق کے دارالحکومت بغداد اور دوسرے شہروں اور قصبوں میں پے درپے بیس بم حملوں اور فائرنگ کے واقعات میں چھپن افراد ہلاک اور ڈھائی سو سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

 

اتوار کو سب سے تباہ کن حملہ عراق کے جنوبی صوبہ میسن میں کیا گیا جہاں امام علی الشرقی کے مزار کے نزدیک بازار میں دوکار بم دھماکے ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں چودہ افراد ہلاک اور ساٹھ سے زیادہ زخمی ہوگئے۔

بغداد کے شمال میں پچاس کلومیٹر دور واقع قصبے الدوجیل کے نزدیک مسلح افراد نے ایک فوجی اڈے پر مسلح افراد نے دھاوا بول دیا۔انھوں نے وہاں فائرنگ کی اور ایک خود کش بمبار نے بارود سے بھری کار دھماکے سے اڑا دی ۔اس حملے میں دو افسروں سمیت گیارہ فوجی ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔

شمالی شہر کرکوک کے نواح میں واقع عراقی نارتھ آئیل کمپنی کے مرکزی دروازے کے نزدیک کار پارک میں باردو سے بھری کار کو دھماکے سے اڑا دیا گیا جس کے نتیجے میں کمپنی میں پولیس گارڈز کے طور پر بھرتی کے لیے قطار میں کھڑے افراد میں سے آٹھ مارے گئے اور سترہ زخمی ہوگئے ہیں۔

بغداد سے تین سو کلومیٹر جنوب میں واقع شہر ناصریہ میں فرانسیسی قونصل خانے کے باہر ایک اور کار بم دھماکا ہوا ہے جس میں ایک پولیس محافظ ہلاک اور چارزخمی ہوئے ہیں۔ناصریہ ہی میں ایک اور کار بم دھماکے میں دو افراد مارے گئے اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔فرانس نے اپنے اعزازی قونصل خانے کے باہر دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

عراق کے شہروں کرکوک ،سامراء ،بصرہ ،طوزخرماتو، تل عفر، بعقوبہ اور التاجی میں بھی اتوار کو متعدد بم دھماکے ہوئے ہیں جن میں مجموعی طور پر بیس سے زیادہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

فوری طور پر کسی گروپ نے اتوار کو ہوئے ان پے درپے بم حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی۔البتہ کچھ عرصہ قبل عراق میں القاعدہ کے فرنٹ گروپ نے بم حملوں کی دھمکی دی تھی۔اس تنظیم نے خبردار کیا تھا کہ وہ اس ملک کے بعض علاقوں پر دوبارہ اپنا کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہے۔

ریاست اسلامی عراق نے مختلف جہادی ویب سائٹس پر پوسٹ کیے گئے اپنے بیان میں ججوں اور پراسیکیوٹرز کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی اور سنی قبائل سے اپنے زیر قبضہ سابقہ علاقوں پر دوبارہ کنٹرول کے لیے مدد کی اپیل کی تھی۔

عراق میں القاعدہ (ریاست اسلامی) کا 2007ء سے قبل ملک کے سنی آبادی والے علاقوں پر موثر کنٹرول تھا لیکن امریکی فوج اور عراقی حکومت نے سنی جنگجوؤں اور قبائل کو اپنے ساتھ ملا کر القاعدہ کی کمر توڑ دی تھی۔تاہم اس کے باوجود یہ جنگجو تنظیم اب بھی بڑے حملے کرنے کی صلاحیت کی حامل ہے۔

واضح رہے کہ عراق میں 2007ء کے بعد سے تشدد کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے۔البتہ وقفے وقفے سے سنی مزاحمت کار اور دوسرے جنگجو گروپ بم حملے کرتے رہتے ہیں۔ان کے علاوہ سابق حکمران اور اب کالعدم بعث پارٹی کے بچے کھچے وابستگان پر بھی دہشت گردی کے حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں۔

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین