شام کی صورت حال کے لبنان پر منفی اثرات

شام کی صورت حال کے لبنان پر منفی اثرات

بيروت(ايجنسياں) شام میں داخلی صورت حال کے خراب ہونے کے اثرات اب لبنان میں دیکھے جا رہے ہیں۔ لبنان میں شام مخالفین اور حامیوں میں شدید تناؤ پایا جا رہا ہے۔ یورپی یونین، امریکہ اور اقوام متحدہ نے اس صورت حال پر تشویش ظاہر کی ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور کی چیف کیتھرین ایشٹن کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ یونین لبنان میں حال ہی میں رونما ہونے والے واقعات پر مسلسل نگاہ رکھے ہوئے ہے۔ ایشٹن نے اس صورت حال پر تشویش کا بھی اظہار کیا ہے۔ کیتھرین ایشٹن نے لبنانی فوج کے سپاہیوں کے ہاتھوں عکار علاقے میں مقامی افراد کی ہلاکت پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے باعث پریشانی قرار دیا۔ ایشٹن نے ان ہلاکتوں کی شفاف تفتیش کو اہم خیال کیا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ لبنانی طرابلس اور بیروت میں پرتشدد حالات میں ہلاکتوں کے علاوہ کئی افراد زخمی ہیں۔ اس کشیدگی کے لبنان کے طول و عرض میں پھیلنے کا خطرہ محسوس کیا جا رہا ہے۔
لبنان میں شام مخالفین اور حامیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے بعد کی کشیدہ صورت حال پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مُون نے فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و تحمل سے کام لیں۔ سیکرٹری جنرل کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں متحارب گروپوں سے کہا گیا کہ وہ امن و سلامتی کی صورت حال کو بگاڑنے سے گریز کریں۔ بان کی مون نے کہا ہے کہ لبنان کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ڈیرک پلمبلی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس مناسبت سے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ امریکا نے بھی لبنان کی صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے گروپوں کو احتیاط برتنے کے لیے کہا ہے۔
شام کے صدر بشار الاسد کے کھلے مخالف اور سنی مذہبی عالم شیخ احمد عبدالوحید کی تدفین کے موقع پر سینکڑوں سنی لبنانیوں نے مسلسل ہوائی فائرنگ جاری رکھی۔ ان کی تدفین پیر کے روز شمالی لبنان میں کی گئی۔ اسی علاقے میں ایک فوجی چیک پوسٹ کے قریب وہ اتوار کے دن کسی سپاہی کی گولی کا نشانہ بنے تھے۔ فیوچر موومنٹ کے رکن پارلیمنٹ خالد ظاہر کا کہنا ہے کہ مذہبی عالم دین شیخ احمد کی ہلاکت میں وہ بین الاقوامی قاتل شامل ہیں جو لبنانی فوج کا حصہ ہیں لیکن دمشق سے وابستگی رکھتے ہیں۔
ان کے قتل کے بعد شمالی لبنان کے عکار علاقے میں مظاہریں نے سڑکوں کو بلاک کرنے کے علاوہ ٹائر بھی جلائے۔ کچھ ایسی صورت حال دارالحکومت لبنان میں بھی پائی گئی۔ بیروت میں شامی صدر بشار الاسد کی مخالف اور مقتول وزیر اعظم سعد الحریری کی حامی فیوچر موومنٹ اور شامی صدر کی حامی پارٹی کے مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کا بھی تبادلہ ہوا۔
لبنان کے شمالی شہر طرابلس میں بھی اشتعال کی فضا پائی جاتی ہے۔ لبنان کے علاقے جبل محسن میں دو افراد کے ایک راکٹ کی زد میں آ کر زخمی ہونے کو رپورٹ کیا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران لبنانی طرابلس میں علوی شیعہ مسلمانوں، سنیوں اور فوجیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم آٹھ افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین