پیرس(ایجنسیاں) فرانس کی ایک پولیس عدالت نے نقاب اوڑھنے کے الزام میں پہلی بار دو خواتین کو جرمانہ کیا ہے۔ اپریل میں پابندی کے بعد پولیس متعدد بار موقع پر ہی جرمانہ کرچکی ہے تاہم عدالت کی جانب سے جرمانہ ادا کرنے کا حکم پہلی بار جاری کیا گیا ہے۔
خواتین نے یورپین عدالت برائے انسانی حقوق میں اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 32 سالہ ہنداحماس کو120 یوروجرمانہ جبکہ36سالہ نجاتے نائت علی کو80 یورو جرمانہ کا حکم دیاگیا ہے تاہم استغاثہ کی جانب سے ان کیلئے شہریت کے کورس کی استدعا مسترد کردی گئی۔ دونوں خواتین عدالتی کارروائی میں شرکت کیلئے تاخیر سے پہنچیں۔
مئی میں ان میںسے ایک خاتون کو نقاب اتارنے سے انکار کے بعد عدالت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ ان خواتین کو مئی میں میاکس کے ٹائون ہال کے سامنے سے گرفتار کیاگیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اگر اعلیٰ عدالت نے ان کے جرمانے کی تصدیق کردی تو وہ اس مقدمہ کو سٹراس برگ میں حقوق انسانی کی یورپین عدالت میں لے جائینگے۔
فرانسیسی حکام کا اندازہ ہے کہ فرانس میں مقیم چار سے چھ ملین مسلم آبادی میں سے تقریباً دو ہزارخواتین مکمل چہرے کا نقاب اوڑھتی ہیں۔

آپ کی رائے