جمعیت علماء اسلام کے صد سالہ اجتماع کا آغاز آج سے ہو رہا ہے جس میں امام کعبہ سمیت 52ممالک کے وفود شرکت کر رہے ہیں۔
اجتماع میں شرکت کیلئے امام کعبہ گزشتہ روز پشاور پہنچے جن کا مولانا فضل الرحمان، وفاقی وزیر بر ائے مذہبی امورسردار یوسف ، گورنر ظفر اقبال جھگڑااور وفاقی وزیر اکرام خان درانی نے باچا خان ائیرپورٹ پر پر تپاک استقبال کیا آج سے شروع ہونے والے اجتماع اتوار تک جاری رہے گا اجتماع میںملک کے مختلف حصو ں سے جمعیت کارکنوں اور عام لوگوں کے علاوہ ہندوستان سمیت دیگرممالک سے وفود بھی اجتماع میں شرکت کررہے ہیںجس کے پہلے مرحلہ میں سعودی عرب، بنگلہ دیشن، بحرین، قطر، عمان، برطانیہ سمیت نو ممالک سے شرکاء صد سالہ اجتماع میں شرکت کے لئے پہنچ چکے ہیں اجتماع کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلا م پاک سے کیا جائے گا جبکہ اس موقع پر قومی ترانہ اور نعتیں بھی پیش کی جائے گی جبکہ مولانا غفور حیدری کی جانب سے اجتماع میں شریک شرکاء کا استقبال کیا جائے گا ۔ اجتماع سے وفاقی مذہبی امور کے وزیر بھی خطاب کریں گے جبکہ مولانا فضل الرحمان کے خطبہ صدارت کے بعد نائب امام کعبہ شیخ صالح بن محمد ابراہیم خطبہ دیں گے اور ان کی امامت میں نماز جمعہ بھی ادا کی جائے گی اس کے بعد وقفہ وقفہ سے اکابرین اجتماع سے خطاب کرتے رہیںگے جو کہ عشاء تک جاری رہے گا۔ اجتماع آج سے شروع ہوکر 9اپریل نمازظہر تک جاری رہے گا اجتماع کیلئے 10ہزارکنال اراضی پر انتظامات کئے گئے ہیں جس میں سے دو ہزار کنال میں پنڈال مسجد کی طرز پر بنایا گیا ہے۔ مین جی روڈ سے پنڈال کی جانب چار راستے بنائے گئے ہیں ایک راستہ وی آئی پی افراد کیلئے مختص کیا گیا ہے گیارہ ڈسپنسریوں کے ساتھ ایک ہسپتال کا انتظام بھی ہے ایک لاکھ گاڑیوں کی کارپارکنگ کیلئے جگہ مختص کی گئی ہے ستر سی سی ٹی وی کیمرے، پچیس ہزار سالارز پر مشتمل سکیورٹی اور ایک ہزار سالارز ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے ڈیوٹی سرانجام دیں گے۔اجتماع میں یورپی یونین کے سفیروں کوبھی شریک ہونے کی دعوت دی گئی ہے جبکہ خواتین کے انتظامات نہ ہونے کے باعث انہیں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔
جمعیت علماء اسلام کی صدسالہ یوم تاسیس کی تین روزہ عالمی اجتماع کی تیاریاں مکمل سیکورٹی کے فل پروف انتظامات 52ممالک میں سے اکثریتی ممالک کے وفود پاکستان پہنچ گئے اس اجتماع میں قطر، جنوبی افریقہ، انڈونیشا، نیپال، بنگلہ دیش، ہندوستان، سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک کے وفود شرکت کے لیے پہنچ گئے ہیں۔اجتماع میں وزیراعظم پاکستان میاں محمدنوازشریف اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا اپنی اپنی پارٹیوں کے وفود کے ہمراہ شرکت متوقع ہے اجتماع میں صدارتی خطبہ قائدجمعیت مولانا فضل الرحمن دیں گے اجتماع میں تیس لاکھ سے زائد افراد کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ جبکہ اجتماع گاہ میں سیکورٹی کے فرائض 25ہزار انصار السلام کے رضاکاروں اور 1300 پولیس جوانوں کے حوالے کردی گئی ہے اب اجتماع گاہ میں مختلف علاقے کے 50ہزار افراد پہنچ چکے ہیں ان خیالات کااظہار جمعیت علماء اسلام کا تین روزہ عالمی اجتماع کے میڈیا اور انتظامی کمیٹی کے سربراہ حاجی عبدالجلیل جان اراکین قاری رضوان، آغا ایوب ، تاج نعیم اور ارباب محمدفاروق خان نے عالمی اجتماع کے تیاریوں اور انتظامات کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کے زیراہتمام جمعیت کی صدسالہ یوم تاسیس کا تین روزہ عالمی اجتماع آج سے دس بجے شروع ہوگا اور یہ اجتماع تین روز تک جاری رہے گا اس اجتماع میں امام کعبہ شیخ صالح محمد بن ابراہیم ، سعودی عرب کے مذہبی امور کے وزیر شیخ صالح بن عبدالعزیز، قطر، جنوبی افریقہ ، انڈونیشا، بنگلہ دیش، ہندوستان اور دیگر ممالک کے وفود خصوصی طورپر شرکت کریں گے جبکہ اجتماع میں امام کعبہ نماز جمعہ اور خطبہ بھی پڑھائیں گے انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کی صدسالہ اجتماع پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم اجتماع ثابت ہوگا جو پاکستان اور بلخصوص پوری امت مسلمہ پر گہرے نقوش چھوڑے گا۔ انھوں نے کہا کہ یہ اجتماع دہشت گردی کے خلاف اہم سنگ میل ثابت ہوگا اور خطے میںا من کا پیغام پھیلے گا۔ انھوں نے کہا کہ جمعیت کے پچیس ہزار رضا کار سیکورٹی کے فرائض سرانجام دیں گے۔ ہسپتال اور ڈسپنسریاں قائم کردی گئی جو چوبیس گھنٹے سہولیات فراہم کرے گی۔ اجتماع گاہ میں 60سے 70تک سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے 7ہزار واش روم وضوخانے تعمیر کئے گئے کوریج کیلئے چھ سے سات تک بڑی سکرینیں لگائی گئی ہے جبکہ مختلف جگہوں پر بک سٹالز اور خوراک کیلئے سٹالز بنائے گئے ہیں اجتماع گاہ میں ایمرجنسی کیلئے ایک بڑا ہسپتال اور بارہ ڈسپنسریاں بنائی گئی ہے پینے کی صاف پانی کی فراہمی کیلئے ٹیوب ویلز اور جدیدسسٹم کے لائٹس اور ساؤنڈ سسٹم نصب کئے گئے ہیں پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ جمعیت علماء اسلام کا یہ اجتماع پاکستان میں ملی وحدت اور پوری امت مسلمہ میں نظام عدل کیلئے ایک سنگ میل ثابت ہوگا اس وقت پوری دنیا میں استعماری قوتیں اسلام اور امت مسلمہ پر حملہ آور ہے لیکن ہم اس اجتماع کے ذریعے پوری دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اسلام امن وسلامتی کا مذہب ہے انہوں نے مزید کہا کہ اجتماع گاہ کو دو الگ الگ راستوں پر محیط کیاگیا ہے ایک کو شاہراہ مفتی محمود اور دوسری شاہراہ شیخ الہند کے ناموں سے منسوب کئے گئے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ اجتماع گاہ سے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تمام الیکٹرانک میڈیا ہاؤسز کو فریکونسز دی جائے گی تاکہ کوریج میں مشکلات کاسامنانہ کرنا پڑے اجتماع میں نمازوں اور کھانے کیلئے وقفہ ہوگا جبکہ اجتماع کی اختتامی دعا 9اپریل بروز اتوار کو بعدازنماز ظہر امام کعبہ پڑھائیں گے۔انھوں نے کہا کہ اجتماع گاہ کے چاروں طرف بازار کینٹین لگا دئیے گئے ہیں۔ اور اٹھارہ کینٹین بنائے گئے جس میں بیک وقت پچاس ہزار افرادکھانا کھا سکیں گے۔ اسی طرح وی ائی وی ائی پیز کے لیے خصوصی بندوبست بھی کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ عالمی اجتماع کے دور رس نتائج نکلیں گے۔
اضاخیل صد سالہ اجتماع کو فول پروف سکیورٹی فراہم کریں گے۔ گاڑیوں کی پارکنگ کیلئے جامعہ پلان تیار اجتماع گاہ میں سپیشل کمبٹ یونٹ اور ایلیٹ فورس پر مشتمل دو ہزار پولیس اہلکار تعینات کردیے ہیں۔ پانچ اضلاع کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی۔ جبکہ تمام میونسپل ایڈمنسٹریشن کے ملازمین اور ڈاکٹرز کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں۔ اجتماع گاہ میں صفائی ستھرائی۔ سینٹیشن، اور اسپرے کابندوبست کردیا اور ایمرجنسی ہسپتال بھی قائم کرکے صوبائی حکومت کی جانب سے ادویات فراہم کردی گئی ہیں۔ ان خیالات کااظہار ڈپٹی کمشنر نوشہرہ خواجہ محمد سکندر ذیشان اور ڈی پی او نوشہر واحد محمود نے اضاخیل اجتماع گاہ میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انھوں نے کہا کہ اضاخیل صد سالہ اجتماع JUI (ف)کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کریں گے ۔اجتماع گاہ کی سیکیورٹی کیلئے دوہزارپولیس اہلکار بشمول ایلیٹ فورس ،ضلعی پولیس، سپیشل کمبٹ یونٹ،بم ڈسپوزل یونٹ ،K.9 یونٹ ،سپیشل برانچ جبکہ ٹریفک برقرار رکھنے کیلئے ٹریفک وارڈن ،نیشنل ہائی و ے و موٹروے پولیس خصوصی طور پر تعینات کئے گئے ہیں ۔ ڈپٹی کمشنر نوشہر ہ خواجہ محمد سکندر ذیشان نے کہا کہ تمام تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کے عملے کے چھٹیاں منسوخ کردی گئی اور اجتماع گاہ کی صفائی اور ستھرائی کے لے مربوط انتظام کیا گیا وبائی امرض سے بچنے کے لئے صبح شام سپرے کیے جائیں ۔ اجتماع کے اندر بیس بستروں کاہسپتال قائم کرددیا۔ اور تمام ایمرجنسی ادویات صوبائی حکومت نے فراہم کردی گئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ چارسدہ پشاور مردان نوشہرہ صوابی میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔انھوں نے کہا کہ پولیس اور جمعیت کی سیکورٹی ارکان کے ہمراہ تمام گیٹ پر فول پروف سیکورٹی کو یقینی بنائیں گے۔ انشاء اللہ پرامن اجتماع کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائینگے۔

آپ کی رائے