نوٹ: استاذالعلما شیخ التفسیر مولانا محمدیوسف رحیم یارخانی کا شمار پاکستان کے اجل علمائے کرام، ماہر فقہا اور سیاستدانوں میں ہوتاہے۔ آپ کے دینی ادارہ ’جامعہ عثمانیہ رحیم یارخان‘ وفاق المدارس العربیہ سے منسلک ممتاز مدارس میں ایک ہے جس میں سینکڑوں طلبا اپنی علمی و دینی پیاس بجھارہے ہیں۔ اہل سنت ایران کے علمی حلقوں میں بھی انہیں خاص مقام ہے۔ کچھ مہینے پہلے دارالعلوم زاہدان میں ان کی آمد کے موقع پر ’سنی آن لائن‘ نے ان سے خصوصی گفتگو کی تھی جو دو قسطوںمیں شائع ہوگئی تھی۔
ذیل میں حد رجم (سنگسار) کی ضرورت اور قرآن و سنت سے اس کے ثبوت کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور جامع مضمون پیش خدمت ہے۔
حدِ رجم کے بارے میں تفصیلات میں جانے سے پہلے چند باتوں کا جاننا ضروری ہے۔
۱۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: “أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللّهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللّهِ مِن وَلِيٍّ وَلاَ نَصِيرٍ”
(سورۃ البقرۃ:۱۰۷)
ترجمہ: ’’کیا تم کو معلوم نہیں ہے کہ حق تعالیٰ ایسے ہیں کہ خاص انہی کی ہے سلطنت آسمان کی اور زمین کی اورتمہارا ابھی اللہ تعالی کے سوا کوئی یار مدد گار نہیں‘‘۔
اس ساری کائنات ارضی و سماوی کی بادشاہت صرف اللہ تعالی کی ہے اور اس میں قانون بھی صرف اسی کا چلتا ہے۔ اللہ کی اس بادشاہت میں جب لوگوں نے حدود کو تجاوز کیا تو انہیں اللہ تعالی کی طرف سے سخت سزائیں ملیں۔ قرآن پاک میں عموماً سات اقوام کی تباہی کا ذکر اجمالا یا تفصیلا بار بار ملتا ہے انہی اقوام میں حضرت لوط علیہ السلام کی قوم بھی شامل ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے ان کی بداعمالی اور پھر تباہی کا تذکرہ یوں فرمایا ہے:
“وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِّن الْعَالَمِينَ* إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّن دُونِ النِّسَاء بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُونَ* فَأَنجَيْنَاهُ وَأَهْلَهُ إِلاَّ امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ* وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِينَ”
(سورۃ اعراف ۸۰ تا ۸۴)
ترجمہ: ’’اور ہم نے لوط علیہ السلام کو بھیجا جب انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسا فحش کام کرتے ہو جس کو تم سے پہلے کسی دنیا جہاں والوں میں سے نہیں کیا یعنی خواہش نفسانی پورا کرنے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں پر گرتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ حد سے نکل جانے والے ہو تو ان سے اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا اور بولے تو یہ بولے کہ ان لوگوں (لوط اور ان کے گھر والوں) کو اپنے گاؤں سے نکال دو (کہ) یہ لوگ پاک بننا چاہتے ہیں اور ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بچالیا مگر ان کی بی بی (نہ بچی) کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں سے تھی اور ہم نے ان پر ایک نئی طرح کا مینہ برسایا سو دیکھو تو سہی ان مجرموں کا انجام کیا ہوا‘‘۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’ھم اول من ظھر علی ایدیھم اللواطۃ السحاق‘‘ (تفسیر قرطبی، جلد ۱۳، ص۳۰۴) کہ لواطت اور سحاق کا آغاز کرنے والے یہی لوگ تھے۔
قرآن کریم میں ان کے جرائم کی جو تفصیل بیان کی گئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے تمام جرائم کا اصل محور اجتماعی بے حیائی تھا اور اس کی وجہ سے وہ ایسے برے افعال کا ارتکاب کررہے تھے جو اللہ کے غضب کو دعوت دینے والے تھے مثلاً لواطت یعنی مردوں کی آپس میں بدفعلی اور سحاق یعنی عورتوں کی آپس میں بدکاری و غیرہ اور ان برائیوں میں اس حد تک بے باک ہوگئے تھے کہ کسی راہ گزر کو بھی معاف نہیں کرتے تھے۔ میاں بیوی کا ان میں صرف تصور رہ گیا تھا اور عملاً ایک دوسرے سے مکمل طور پر بے زار ہوچکے تھے۔ ان کی بے حیائی اور بے باکی اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ جب چند فرشتے حضرت جبرئیل کی معیت میں حضرت لوط علیہ السلام کے پاس خوبصورت لڑکیوں کی شکل میں آئے تو اطلاع ملنے پر پوری قوم حضرت لوط علیہ السلام کے گھر کی طرف چڑھ دوڑی اور لوط علیہ السلام بے بسی کے عالم میں ان کو سمجھانے کی کوشش کررہے تھے جبکہ جبرئیل امین بھی ان کی اس بے باکی کا مشاہدہ کررہے تھے اور اللہ کا غیض و غضب بھی بادل کی طرح ان کی سروں پر منڈلا رہا تھا لیکن وہ اپنی بے حیائی اور سرکشی سے باز نہیں آرہے تھے اور فرشتوں کی، جو مہمانوں کی صورت میں تھے، بے حرمتی پر تلے ہوئے تھے۔ حضرت لوط علیہ السلام کی اس شہر سے روانگی کی بعد رات کے آخری حصے میں ان پر سنگ باری شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں کی آبادی کو جڑ سے اکھیڑ کر زمین کو ان پر اوندھا کردیا گیا۔
“……جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ مَّنضُودٍ* مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ”
(سورۃ ھود: ۸۲۔۸۳)
ترجمہ: ’’سو جب ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے اس زمین کا اوپر کا تختہ نیچے کردیا اور اس سرزمین پر کنکر کے پتھر برسانا شروع کئے جو لگا تار گررہے تھے جن پر آپ کے رب کے پاس سے خاص نشان بھی تھا اور یہ بستیاں ان ظالموں سے کچھ دور نہیں ہیں‘‘۔
بہت سی کافر اور مشرک قومیں جو الہ کی باغی ہوچکی تھیں ان پر مختلف عذاب نازل ہوئے کچھ پانی میں غرق ہوئیں اور کچھ کو زمین میں دھنسا دیا گیا لیکن اس قسم کا عذاب کہ آسمان سے پتھر برسیں اور زمین کو اوندھا کردیا جائے، سوائے اس قوم کے کسی قوم پر نازل نہیں ہوا اور ایک مسموم بحیرہ کے گندے اور کالے پانی کی صورت میں اس کو بے حیاء قوموں کیلئے عبرت بنا کر رکھ دیا گیا۔ سفر تبوک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جب یہاں سے گزر ہوا تو فرمایا کہ اب بھی ان پر عذاب اسی طرح نازل ہورہا ہے اور ہدایت کی کہ عاجزی کے ساتھ سرجھکا کر اس مقام سے گزر جاؤ۔ القصہ لواطت ہو یا سحاق، اس واقعہ سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ ان کی تشریعی سزائیں بھی اسی نوعیت کی ہوں گی جس نوعیت کی تکوینی سزائیں تھیں۔
۲۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر دس ذوالحجہ کو اپنے خطبہ میں امت کو جو اہم احکام جاری فرمائے ان میں جان، مال، عزت و آبرو کی حرمت و حفاظت کو انتہائی تاکید کے ساتھ ذکر کیا فرمایا کہ:
’’ان دماء کم و اموالکم و اعراضکم حرام علیکم کحرمۃ یومکم ھذا فی شھرکم ھذا فی بلد کم ھذا‘‘ (بخاری، ص۱۶، ج اول)
ترجمہ: ’’تمہارے خون اور مال اور عزتیں آپس میں اسی طرح محترم ہیں جس طرح تمہارا یہ دن اس مہینہ اور اس شہر میں محترم ہے‘‘۔
لہذا جان و مال اور عزت کی حفاظت ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ جان کا تعلق حقوق العباد سے ہے اور اس کی بے حرمتی پر قصاص مشروع کیا گیا ہے۔ مال کی بے حرمتی میں سرقہ اور راہزنی شامل ہیں اور اس پر قطع ید و غیرہ کی سزائیں ہیں اور اسی طرح عزت و آبرو کی پامالی پر حد قذف یا سو کوڑے اور یا رجم کی سزا رکھی گئی ہے۔ ان تمام سزاوں کو حدود کہا جاتا ہے جن کی نوعیت فوجداری جرائم کی ہے اور یہ خلافت کے دائرہ کار میں آتی ہیں اور اس کا فرض ہے کہ بغیر کسی رعایت کے ثابت ہونے پر ان سزاؤں کو نافذ کرے۔ بحرالرائق شرح کنزالدقائق میں علامہ ابن نجیم یوں رقم طراز ہیں:
’ففی حد الزنا صیانۃ الانساب و فی حد السرقۃ صیانۃ الاموال و فی حد الشرب صیانۃ العقول و فی حد القذف صیانۃ الاعراض و الحدود اربعۃ‘۔
ترجمہ: ’’حد زنا کا مقصد انساب کی حفاظت ہے اور حد سرقہ کا مقصد اموال کی حفاظت ہے اور حد شرب میں عقل کی حفاظت ہے اور حد قذف میں عزت کی حفاظت ہے اور اس طرح سے حدود کل چار ہوتی ہیں‘‘۔
۳۔ اللہ تعالی نے زنا سے انسانوں کو بڑی تاکید سے روکا ہے حتی کہ دائرہ اسلام میں داخلے کیلئے عہد اسلام میں بطور شرط اس کو شامل کیا گیا۔ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے کہ:
” وَلاَ تَقْرَبُواْ الزِّنَى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاء سَبِيلًا” (سورة الاسراء:32)
’’کہ زنا کے قریب تک نہ جاؤ بے شک یہ فحش کام ہے اور برا راستہ ہے‘‘
یعنی ایسے اسباب جو انسان کو زنا تک لے جاتے ہیں ان سے بھی پرہیز کرو۔
اسی بارے فرمایا:
’’ يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ ‘‘ (سورۃ غافر:19)
’’کہ وہ اللہ آنکھوں کی خیانت اور بدنیتی سب سے واقف ہے اور ان سب کا حساب ہوگا۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
فزنا العین النظر و زنا اللسان المنطق و النفس تمنی و تشتھی و الفزج یصدق ذلک اور یکذب (مشکوۃ، جلد اول، ص۲۰)
ترجمہ: ’’آنکھ کا زنا دیکھنا ہے اور زبان کا زنا بات کرنا ہے اور نفس خواہش کرتا اور چاہتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا اسے جھٹلاتی ہے‘‘۔
یہی بات دوسری حدیث میں ان الفاظ کے ساتھ بیان کی گئی ہے:
العینان زناھما النظر و الاذنان زناھما الاستماع و اللسان زناہ الکلام و الید زناھا البطش و الرجل زناھا الخطا و القلب یھوی و یتمنی یصدق ذلک الفرج او یکذب۔ (رواہ مسلم بحوالہ مشکوۃ، ص۲۰، جلد اول)
ترجمہ: ’’آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے اور کانوں کا زنا سننا ہے اور زبان کا زنا بات کرنا ہے اور ہاتھ کا زنا پکڑنا ہے اور پاوں کا زنا چل کرجانا ہے اور دل خواہش و آرزو کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق و تکذیب کرتی ہے‘‘۔
اسی طرح وہ تمام آلات موسیقی جو انسان میں غلط خواہشات پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں ان پر بھی اسلام نے پابندی عائد کی ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
’’ وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ ‘‘(سورۃ لقمان:۶)
ترجمہ: ’’اور ایک وہ لوگ ہیں جو خریدار ہیں کھیل کی باتوں کے تا کہ گمراہ کریں اللہ کی راہ سے بن سمجھے اور ٹھہرائیں اسی کو ہنسی وہ لوگ جو ہیں ان کو ذلت کا عذاب ہے‘‘۔
قال الحسن لھو الحدیث المعارف و الغنی (تفسیرقرطبی، ص۴۸، جلد ۱۴) کہ ’’لھو الحدیث سے مراد ساز، گانے ہیں‘‘۔ چنانچہ راگ و ساز اور موسیقی کے تمام آلات جو جنسی خواہشات کو جنم دیتے ہیں اسلام نے ان سے سختی سے منعکیا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں:
’’ قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ‘‘ (سورہ نور: ۳۰)
ترجمہ: ’’آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں‘‘۔
اسی طرح ارشاد فرمایا:
“وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ”
ترجمہ: ’’اور مسلمان عورتوں سے کہہ دیں کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں‘‘ْ
کہ شرم گاہوں کی حفاظت صرف اسی صورت میں ہوسکتی ہے جب مرد و عورت کی نگاہیں نیچی رہیں اور ایک دوسرے سے نہ ملیں۔
ایک اور مقام پر فرمایا:
ترجمہ: ’’اور اپنی پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہوجاوے‘‘۔
کہ یہ نہ ہو کہ زیوروں کی چھنکار کسی بدنیت آدمی کے کانوں تک جاپہنچے جس سے اس کے دل میں گناہ سے متعلق خیالات پرورش پانا شروع کردیں اس لئے مخفی زینت کے اظہار سے بھی منع فرمادیا۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ اس قسم کے احکامات کا مقصد عورت کو اپنے گھر میں محصور کرنا نہیں ہے بلکہ اس کی زینت کو مخفی رکھ کر اس کی خوبصورتی کو مزید جلوہ گر بنایا جارہا ہے کہ یہ جتنا مستور ہیں گی اتنی ہی زیادہ محفوظ رہیں گی اور اتنا ہی زیادہ ان کے خاوند وں کیلئے ان میں کشش کا سامان ہوگا۔ اسی لئے ارشاد فرمایا:
’’ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاء الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِي ‘‘ (سورۃ احزاب: ۵۹)
ترجمہ: ’’اے نبی کہہ دے اپنی عورتوں کو اور اپنی بیٹیوں کو اور مسلمانوں کی عورتوں کو کہ نیچے لٹکالیں اپنے اوپر تھوڑی سی اپنی چادریں اس میں بہت قریب ہے کہ پہچانی پڑیں تو کوئی ان کو نہ ستائے اور ہے اللہ بخشنے والا مہربان‘‘۔
اور ارشاد فرمایا:
’’….وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاء وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ‘‘ (سورۃ النحل: 90)
ترجمہ: ’’اور وہ (اللہ) کھلی برائی اور مطلق برائی اور ظلم کرنے سے منع فرماتے ہیں۔ اللہ تعالی تم کو اس لئے نصیحت فرماتے ہین کہ تم نصیحت قبول کرو‘‘۔
مزید فرمایا:
…’’إِنَّ اللّهَ لاَ يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاء أَتَقُولُونَ عَلَى اللّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ ‘‘ (سورۃ الاعراف: ۲۸)
ترجمہ: ’’ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالی فحش بات کی تعلیم نہیں دیتا۔ کیا خدا کے ذمے ایسی بات لگاتے ہو جس کی تم سند نہیں رکھتے‘‘۔
القصہ لواطت، زنا، سحاق اور ان کے مبادی جن میں گلوکاری موسیقی اور وہ تمام گناہ جن کاتعلق دل و دماغ یا آنکھوں سے ہے، یہ سب سابقہ تمام شریعتوں میں یکساں طور پر ممنوع اور حرام رہے ہیں کیونکہ اللہ تعالی نے کبھی فحشاء یا فاحشہ کی اجازت نہیں دی۔ یہ تمام شیطانی اعمال ہین جن پر آمادہ کرنے والا شیطان ہوتا ہے۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے کہ:
’’ إِنَّمَا يَأْمُرُكُمْ بِالسُّوءِ وَالْفَحْشَاء وَأَن تَقُولُواْ عَلَى اللّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ ‘‘ (سورۃ البقرۃ: ۱۶۹)
ترجمہ: ’’وہ (شیطان) تم کو ان ہی باتوں کی تعلیم کرے گا جو کہ بری اور گندی ہیں اور یہ کہ اللہ کے ذمے وہ باتیں لگاؤ جس کی تم سند نہیں رکھتے‘‘۔
لہذا یہ اشیاء تمام ادیان میں برابر کے گناہ ہیں۔ اس لئے سب سے پہلی بڑی آسمانی کتاب توراۃ میں جس پر عمل کرانے کیلئے ہزاروں انبیاء مبعوث ہوئے اس کے بارے قرآن میں ارشاد ہوتا ہے کہ:
’’ إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُواْ لِلَّذِينَ هَادُواْ وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُواْ مِن كِتَابِ اللّهِ وَكَانُواْ عَلَيْهِ شُهَدَاء… ‘‘ (سورۃ مائدہ: ۴۴)
ترجمہ: ’’ہم نے توراۃ نازل فرمائی جس میں ہدایت تھی اور وضوح تھا۔ انبیاء جو کہ اللہ تعالی کے مطیع تھے اس کے موافق حکم دیا کرتے تھے اور اہل اللہ اور علماء بھی بوجہ اس کے ان کو اس کتاب اللہ کی نگہداشت کا حکم دیا گیا تھا اور وہ اس کے اقراری ہوگئے تھے‘‘۔
اور اسی طرح تمام آسمانی کتب سے آخری اور سب سے بڑی کتاب یعنی قرآن میں تمام بے حیائی کے کاموں سے روکنے اور ان جرائم کے صادر ہونے پر سزا دینے میں کوئی لچک نہیں ہے۔
چنانچہ توراۃ میں فرقان کے حوالے سے جن دس چیزوں کو حرام کیا گیا قرآن میں بھی بعینہ انہی دس چیزوں سے منع کیا گیا ہے ان میں سی ایک یہ ہے:
” وَلاَ تَقْرَبُواْ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ “۔
’’کہ بے حیائی کے ظاہر اور پوشیدہ کاموں کے قریب تک نہ جاؤ‘‘۔
موجودہ دور میں جب کہ دنیا ایک بستی کی صورت اختیار کرچکی ہے، فساد اور نقض امن کے ایسے ایسے تکنیکی اسباب پیدا ہوچکے ہیں کہ ایک چھوٹی سے حرکت پوری انسانیت کی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی طرح معاشرتی اور معاشی حوالے سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ایسے تکنیکی طور طریقے وجود میں آچکے ہیں کہ اگر ان کو صحیح انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ انسانی آسودگی کا باعث بن سکتے ہیں۔ سوشلزم، کمیونزم اور کیپٹل ازم کی صورت میں اس آسودگی کے حصول کیلیے بہت سے تجربات کئے جاچکے ہیں لیکن ان سب کی ناکامی نے یہی بات واضح کی ہے کہ یہ سب نظام اسلام کے برخلاف فطرت کے اصولوں کو مکمل طور پر انداز کرتے ہیں۔ ان تجربات کی ناکامی پر ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ان نظاموں کے مؤیدین دین فطرت یعنی اسلام کی طرف مائل ہوتے اور اس کے جامع نظام کا مطالعہ کرتے لیکن ستم بالائے ستم یہ کہ یہ لوگ اسلام کا مجموعی مطالعہ کرنے کے بجائے ایک وہ مسائل مثلاً حدود و قصاص و غیرہ کو لیکر اس کو بدنام کرنے کے درپے ہوگئے۔ اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ محض تعصب کی بنا پر لوگوں کو اسلام کے نظام سے دور رکھنے کی کوشش کررہے ہیں اور ان کو اصل حقائق تک پہنچنے سے روک رہے ہیں۔ اسلام کے اصولوں میں یہ بات شامل ہے کہ اجتماعی امن پیدا ہو اور ہر خاص و عام کے مابین ایسا معاشی توازن پیدا ہو کہ انسان تو کجا کوئی جانور تک بھی بھوکا نہ رہے چاہے وہ جنگلوں اور بیابانوں میں ہی کیوں نہ رہتا ہو۔
اجتماعی امن اور آسودگی کے حصول کیلئے اور زندگی کے ہر میدان میں ترقی کے حصول کیلئے اسلام نے بہترین اور منصفانہ اصول وضع کئے ہیں۔ مثلاً تجارت کا میدان لے لیں کہ اسلام نے سود، قمار، جوا، چور بازاری اور ذخیرہ اندوزی جیسے وہ تمام کام ممنوع قرار دیئے ہیں جو کسی بھی درجہ میں لوگوں کے استحصال کا سبب بنتے ہیں اور منافع بخش تجارت کے ایسے ضوابط دیئے ہیں جو معاشی استحکام اور ترقی کا باعث بنتے ہیں اور یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ کوئی شخص بھی کسی دوسرے کا استحصال نہ کرسکے۔ اسی مقصد کیلئے اسلام میں جہاد کو عبادت گردانا گیا ہے تا کہ جو دنیا ظلم وستم کی چکی میں پس رہی ہو اسے اس ظلم سے نجات دلائی جائے تا کہ لوگ اپنے کھانے کمانے اور مالکانہ حقوق رکھنے میں مکمل طور پر آزاد ہوں اسی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس نامہ مبارک میں اشارہ فرمایا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسری کی جانب بھیجا تھا کہ:
’’انی ادعوکم من عبادۃ عباداللہ الی عبادۃ اللہ‘‘ الحدیث
ترجمہ: ’’میں تم کو اللہ کی بندوں کی بندگی کو چھوڑ کر اللہ کی بندگی اختیار کرنے کی طرف بلاتا ہوں‘‘۔
کسی ملک کی ترقی کا راز اس ملک کی امن و امان کی صورتحال پر ہے کہ وہاں لوگوں کی جان، مال اور عزت محفوظ ہو اور امن و امان کے حصول کے لیے اسلام میں دوچیزوں پر زور دیا گیا ہے ایک تو یہ کہ لوگوں میں احتساب کا احساس اور خدا خوفی عقیدے کی شکل اختیار کرلے جیسا کہ فرمایا کہ ’’اما من خاف مقام ربہ و نھی النفس عن الھوی فان الجنۃ ھی الماوی‘‘
دوسری چیز یہ کہ لوگوں میں قانون کا خوف بھی موجود ہو اسی لئے قرآن پاک میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کی ضرورت بیان کرتے ہوئے ان کے سفروں کا ذکر کیا ہے فرمایا:
’’… عَلِمَ أَن سَيَكُونُ مِنكُم مَّرْضَى وَآخَرُونَ يَضْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِن فَضْلِ اللَّهِ وَآخَرُونَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ… ‘‘ (سورۃ مزمل: ۲۰)
ترجمہ: ’’جانا کہ کتنے ہوں گے تم میں بیمار اور کتنے اور لوگ پھریں گے ملک میں ڈھونڈتے اللہ کے فضل کو اور اکتنے لوگ لڑتے ہوں گے اللہ کی راہ میں‘‘۔
یعنی کہ تمہیں دو قسم کے سفر در پیش ہوں گے ایک تجارت کا اور دوسرا سفر بغرض جہاد۔
اور ارشاد فرمایا کہ:
’’ لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ* إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاء وَالصَّيْفِ ‘‘ (سورۃ قریش: 1-2)
ترجمہ: ’’اس واسطے کے مانوس رکھا قریش کو، مانوس رکھنا انکو سفر سے جاڑے کے اور گرمی کے‘‘۔
کہ خشکی کے دوسفر ہیں جن میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں اور ان کی کامیابی کیلئے یہ ضروری ہے کہ نہ تو رستے میں جرائم پیشہ لوگوں کا خطرہ ہو اور نہ ہی اہل خانہ کے بارے کسی قسم کا خوف دامن گیر ہو۔ اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا کہ:
’’ فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ ‘‘
ترجمہ: ’’سوچاہے کہ بندگی کریں اس گھر کے رب کی‘‘۔
اپنے مرکز سے بھی رابطہ استوار رہے اور اللہ تعالی کی عظمت اور وحدت ہمہ وقت دل میں قائم رہے تا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تجارت اور سفر گناہ کا سبب بن جائیں۔چنانچہ معلوم ہوا کہ حقیقی ترقی کیلئے امن ناگزیر ہے اور اس مقصد کیلئے اسلام جہاں اخلاقی ہدایات اور قانونی راہنمائی دیتا ہے وہیں اس امن کو ختم کرنے والوں کیلئے تادیبی طریقہ کار بھی متعین کرتا ہے تا کہ اس امن کو دوام حاصل ہو اور حدود کی سزائیں اسی پروگرام کا حصہ ہیں۔ چنانچہ نقص امن کا باعث بننے والے چند لوگوں کا ان سزاؤں کی زد میں آنا ظلم نہیں بلکہ عین انصاف ہے۔ (جاری)
تحقیق و تحریر: مولانا ابوالفتح محمدیوسف، سابق رکن اسلامی نظریاتی کونسل
مجلہ اجتہاد ، دسمبر ۲۰۱۲

آپ کی رائے