ایران سعودی عرب کا سفارتی تعلقات ختم کرنا عالم اسلام کے مفاد میں نہیں

ایران سعودی عرب کا سفارتی تعلقات ختم کرنا عالم اسلام کے مفاد میں نہیں

اہل سنت ایران کی ممتاز دینی شخصیت مولانا عبدالحمید نے سعودی شیعہ عالم دین کی پھانسی اور اس کے بعد رونما ہونے والے واقعات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ایران اور سعودی عرب کے سفارتی تعلقات ختم کرنے کو عالم اسلام کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
’سنی آن لائن‘ کی رپورٹ کے مطابق، شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں آٹھ جنوری دوہزار سولہ کے خطبہ جمعہ کے ایک حصے میں ’نمر باقر النمر‘ کی پھانسی کے حوالے سے اظہارِخیال کرتے ہوئے کہا: سعودی عرب میں شیخ نمر کی پھانسی سے پریشانی پیدا ہوگئی اور جذبات میں اشتعال آیا۔ شیعہ عالم دین نمر باقرالنمر کو قید میں ڈالنے کے بعد مزید شہرت اور پذیرائی حاصل ہوئی۔
انہوں نے مزیدکہا: شیخ نمر کو سزائے موت دیے جانے پر نہ صرف شیعہ برادری میں منفی تاثرات پیدا ہوئے، بلکہ اس سے شیعہ و سنی سمیت سب پریشان و مضطرب ہوئے۔ عالم دین، چاہے شیعہ ہو یا سنی حتی کہ غیرمسلم اور اہل کتاب، تب بھی اس کے قتل سے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ البتہ جو شخص قتل کا ارتکاب کرچکا ہے، اس کا حکم الگ ہے اور اس کے بارے میں شریعت کا حکم جاری ہونا چاہیے۔ اس کے بغیر ایک مذہبی رہنما کو قتل کرکے لوگوں کو اشتعال اور طیش میں نہیں لانا چاہیے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: مذکورہ عالم دین کی پھانسی پر بہت سارے لوگوں اور اداروں نے تنقید کی۔ ہم نے بھی اپنی ناپسندی کا اظہار کیا۔ یہ ممکن تھا کہ سزائے موت کے علاوہ کوئی اور سزا دی جاتی اور حکمت سے کام لیتے ہوئے پھانسی دینے سے گریز کیا جاتا۔
انہوں نے نمرباقرالنمر کی پھانسی کے بعد ملک میں رونما ہونے والے واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: تہران اور مشہد میں سعودی سفارتخانہ اور قونصلیٹ پر حملہ ایرانی قوم کی شان کے خلاف تھا، شریعت، قومی روایات اور بین الاقوامی قوانین کی رو سے سفارتخانوں، قونصل خانوں اور سفارتی عملہ کو ہر ملک میں مکمل امن میں ہونا چاہیے۔ اگر کوئی ملک کسی غلطی کا مرتکب بھی ہو، تب بھی کسی ضدی اور خودرائے ٹولے کو ایک قوم اور ملک کی عزت داو پر نہیں لگانا چاہیے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: لیکن یہ بات واضح ہے تمام اعلی حکام بشمول مرشداعلی ان واقعات پر رضامند نہ تھے اور اس سے انہیں پریشانی لاحق ہوئی۔ امید ہے معزز ذمہ داران اس بارے میں مناسب منصوبہ بندی کریں گے تاکہ کوئی فرد یا گروہ مستقبل میں ایک قوم اور ملک کی عزت اور شہرت خراب کرنے کی جرات نہ کرسکے۔
رابطہ عالم اسلامی کی مجلس شورا کے رکن نے سعودی ایران کشیدگی کے حوالے سے اظہارِخیال کرتے ہوئے کہا: ایران اور سعودی عرب کا سفارتی تعلقات ختم کرنا خطہ اور مسلمانوں کے مفاد میں نہیں ہے، بلکہ اس سے مسلم معاشرے کو نقصان پہنچتاہے۔ ایران اور سعودی عرب کو خطے میں ایک خاص مقام حاصل ہے اور وہ عالم اسلام کے دو اہم ملک شمار ہوتے ہیں جو مسائل اور اختلافات ختم کرنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ لہذا ان دو ملکوں کی کشیدگی میں شدت نہیں آنی چاہیے۔
انہوں نے کہا: مسلم ممالک ایک دوسرے سے تعلقات ختم نہ کریں۔ اس سے قوموں اور عالم اسلام کو نقصان پہنچ جاتاہے۔ اسی لیے ہمیں امید ہے جلد از جلد مذاکرات اور تدبیر سے یہ تعلقات بحال ہوں۔

پھانسی کی سزا میں نظرثانی کی ضرورت ہے
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے بعض ملکوں میں پھانسی کی سزا پر غیرضرروی انداز میں عملدرآمد پر تنقید کرتے ہوئے کہا: پھانسی دینا سخت ترین سزا ہے جو بلاضرورت اچھا کام نہیں ہے۔ اسلامی شریعت میں سزائے موت پر بعض معدود صورتوں میں عملدرآمد ہوتاہے۔ مسلم اور غیرمسلم ممالک جو پھانسی کے قانون پر عمل کرتے ہیں، اپنے قوانین میں نظرثانی کریں۔
انہوں نے کہا: ہر ملک کا قانون نظرثانی کے محتاج ہے اور بوقت ضرورت اس میں تبدیلی لانی چاہیے۔ کسی بھی ملک کا قانون آسمان سے اتری ہوئی وحی نہیں ہے جس میں تبدیلی لانا ممکن نہ ہو۔ یہ سب انسانوں کے فہم کے مطابق بنائے گئے قوانین ہیں اگرچہ وہ لوگ فقیہ و عالم ہی کیوں نہ ہوں۔ چونکہ انسان سے خطا کا سرزد ہونا ممکن ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین