ممتاز عالم دین مولانا عبدالحمید نے بعض مسلم ممالک میں فرقہ واریت اور تنازعات پیدا ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ’اجارہ داری‘ اور ’تنگ نظری‘ کو ان مسائل کے اصل اسباب قرار دیا۔
’سنی آن لائن‘ کی رپورٹ کے مطابق خطیب اہل سنت زاہدان نے چودہ اگست دوہزار پندرہ (اٹھائیس شوال) کے خطبہ جمعہ میں فرقہ واریت اور خانہ جنگی کی فضا کی مذمت کرتے ہوئے کہا: اسلام نے مسلمانوں کو خبردار کیاہے کہ تنازعات اور قبائلی و لسانی تعصب و اختلاف کے شکار نہ ہوجائیں اور ایک دوسرے کو کافر و فاسق پکار کر نہ بیٹھیں۔ بلکہ انہیں متحد رہنے اور اللہ کی رسی (قرآن و شریعت) سختی سے تھام لینے کا حکم دیا گیاہے۔ قرآن وسنت ہمیں بھائی چارہ و اتحاد کی دعوت دیتے ہیں۔
انہوں نے مزیدکہا: افسوس کا مقام ہے مشرق وسطی میں منازعات اور فرقہ واریت کی لہردوڑگئی ہے۔ ان تمام اختلافات و تنازعات کی اصل وجہ تقوی و پرہیزکاری سے دوری ہے جن سے ہمارے دین و دنیا کو نقصان پہنچ رہاہے۔ تفرق و خانہ جنگی سے طاقت ور قومیں کمزور ہوجائیں گی اور کمزور قومیں تباہ و برباد ہوکر رہیں گی۔ ان ہی تنازعات کی وجہ سے بہت سارے مسلم ممالک ترقی سے پیچھے رہ گئے ہیں۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے کہا: میرے خیال میں اگرچہ سامراجی و صہیونی طاقتیں ہمیشہ مسلمانوں کو باہم دست و گریبان کرنا چاہتی ہیں اور ان کے مفادات مسلمانوں کی باہمی لڑائیوں میں ہے، لیکن ان تنازعات کا اصل الزام خود مسلمانوں ہی پر عائد ہوتاہے۔
تفصیلات میں جاتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: تنگ نظری، بعض مخصوص گروہوں اور فرقوں کی طاقت پر اجارہ داری اور تنگ سوچ مسلمانوں کے تنازعات کی اصل وجوہات ہیں۔ جب کسی ملک میں مسلمانوں کا کوئی مخصوص فرقہ یا گروہ طاقت پر اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہے اور دوسروں کو نظرانداز کرے، اسی سے تنازعہ کھڑا ہوتاہے اور قومیں اختلافات کا شکار ہوجاتی ہیں۔
خطیب اہل سنت نے شدت پسندی کو اجارہ داری و تنگ نظری کا منطقی نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا: آج کل دنیا میں جتنی شدت پسندی و انتہاپسندی دیکھنے میں آتی ہے، سب اجارہ دارانہ سوچ اور کوتہ بینی کے نتائج ہیں۔ افسوس سے کہنا پڑتاہے مسلمان غصہ اور طیش میں نظر آتے ہیں اور دوراندیشی کا مظاہرہ نہیں ہوتا۔ اگر عراق، شام، یمن، مصر اور لیبیاسمیت دیگر ممالک جہاں مسلح لڑائیاں عروج پر ہیں دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے تو اب انہیں مشکلات کا سامنا نہ ہوتا۔ میرے خیال میں پہلے درجے میں علاقے کے حکام موجودہ صورتحال کے ذمہ دار ہیں جو اجارہ داری وتنگ نظری میں مبتلا ہیں۔ نیز ان علاقوں کے مسلمانوں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب، فرقہ اور لسانی گروہ سے ہو۔
رابطہ عالم اسلامی کی سپریم کونسل کے رکن نے مذاکرات و مکالمے پر زور دیتے ہوئے کہا: مسلمانوں کو چاہیے توبہ و استغفار کے ساتھ ساتھ فراخدلی و دوراندیشی کا مظاہرہ کریں اور مذاکرات اور باہمی گفت وشنید سے مسائل کا حل نکالیں۔
ایرانی قوم دیگر قوموں کے حالات سے عبرت لیں
اہل سنت ایران کی ممتاز دینی و سماجی شخصیت نے ایرانی قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ایرانی قوم، شیعہ وسنی دونوں کو میری نصیحت ہے کہ دیگر اقوام کے حالات سے سبق حاصل کریں۔ شیعہ وسنی برادریوں کو چاہیے ایک دوسرے کو برداشت کریں اور رواداری کا مظاہرہ کریں تاکہ دیگر اقوام کی طرح مصائب کی دلدل میں پھنس نہ جائیں۔
انہوں نے مزیدکہا: جن کے پاس طاقت زیادہ ہے انہیں کمزوروں اور غیرمحفوظ برادریوں کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔ ایرانی قوم بشمول عیسائی، یہودی، پارسی (زردشتی)، دراویش اور مسلم برادریاں، جن کا تعلق کسی بھی مکتبہ فکر اور سوچ سے ہو، وہ اسی ملک کے باشندے ہیں؛ ان میں سے بعض ہمارے وطنی بھائی ہیں اور بعض دینی و ایمانی بھائی بھی ہیں۔ لہذا ہمیں رواداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور الزام تراشی سے پرہیز کرنا چاہیے۔
صدر شورائے ہماہنگی مدارس اہل سنت سیستان بلوچستان نے مزیدکہا: صوبائی حکام (سیستان بلوچستان کے حکام) جو ہمارے ساتھ رہتے ہیں، اچھی طرح اس حقیقت سے واقف ہیں کہ ہماری مساجد، مدارس، نمازخانے اور مکاتب سے ہرگز اسلامی جمہوریہ ایران اور شیعہ برادری کو کوئی خطرہ در پیش نہیں ہے۔
شیعہ علماء اور مراجع کو مخاطب کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: شیعہ علما و مراجع کرام میری اس بات پر توجہ دیں کہ ایران کی سنی برادری ہرگز ’خطرہ‘ نہیں ہے بلکہ ہم ان کے لیے ’موقع‘ ہیں۔ ہماری راہ تقریب، میانہ روی اور بھائی چارہ ہے۔ ہم انہیں یقین دلاتے ہیں۔ ہمارے خیال میں اتحاد و بھائی چارہ ایک عبادت ہے۔ تنازع و اختلاف کو تقوی کے خلاف سمجھتے ہیں۔ جو فرقہ واریت پھیلانے کے درپے ہوتاہے، وہ تقوی کی راہ سے بھٹکنے والا ہوگا۔
انہوں نے مزیدکہا: کچھ عناصر جھوٹی اور غلط رپورٹس بھیجتے ہیں کہ اہل سنت خفیہ طور پر سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں؛ اللہ جانتاہے کہ یہ تمام رپورٹس جھوٹی ہیں۔ ہمارے پاس آواز اٹھانے کے لیے ایک مختصر ٹربیون موجود ہے اور اپنی حد تک ہم مسلمانوں کو تنازعات سے باز رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اپنے خطاب کے آخر میں شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے تہران میں مسمارشدہ پونک نمازخانے کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا: اہل سنت ایران کے تمام طبقوں کا مطالبہ مرشد اعلی، صدر مملکت اور دیگر خیرخواہ حکمرانوں سے یہی ہے کہ پونک نمازخانے کا مسئلہ حل کردیں۔ شیعہ علمائے کرام بھی اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے اس مسئلے کے حل کے لیے تعاون کریں۔ اس نمازخانے میں اللہ کی عبادت اور نماز کے علاوہ کوئی سرگرمی نہیں تھی۔

آپ کی رائے