اسلام دین فطرت ہے اس کے اساسی تصورات عدل واعتدال پر مبنی ہیں یہ وہ عظیم نعمت ہے جو انسانیت کو ایک عظیم تحفہ کے طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عنایت ہو اہے۔ یہ انسانی حیات کے ہر گوشے کا احاطہ کرتا ہے جنہیں اگر دیگر مذاہب میں دیکھیں گے تو انسان کو فضول افکار ونظریات کی بھول بھلیوں میں گم کر دیتے ہیں۔ اور یہ واحد دین ہے جو دیگر ادیان باطلہ اور دوسرے افکار سے کلی طور منفرد بھی ہے اور مختلف بھی ایک ایسا نظام جو ایک صورت میں بندے کو اپنے خالق سے ملاتا ہے تو دوسری صورت میں اسی مخلوق کا رشتہ بندگان خدا سے بھی استوار کرتا ہے۔ بلکہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ایک اعتدالی راہ میں چلانا ہی بہتر عمل ہے۔ جس طرح عمل کے بغیر علم کا ہونا اور انسانیت کے بغیر انسانوں کا ہونا، ایک ادھورا عمل ہے اسی طرح کے حسن اخلاق، خدمت خلق اور صلہ رحمی کے بغیر مسلمان ومومن بھی ادھورا ہے۔ دراصل مغربی افکار اور متشرقین (Orientalists) نے اس بات کو بہت اچھالا کہ قرآنی تعلیمات زیادہ ترجیح اللہ اور بندے کے درمیان رشتہ کو دیتا ہے۔ اگر اس بات کو مانا جائے تو وضاحت ہوتی ہے کہ دنیا ہی وہ جگہ ہے جہاں ان تعلیمات کو عملایا جائے اور مسلمان کے قول کا عملی نمونہ اسکی زندگی ہوتی ہے۔
اسلام نے جہاں زندگی کے گوشوں اور مرحلوں کو سنوارنے کا ہر ایک انتظام مہیا کیا ہے وہاں خدمت خلق پر ایک خاص توجہ دی ہے۔ اسلام نے اس معاملے میں بھی ایک ارفع واعلیٰ تصور پیش کیا ہے۔ آپ ﷺ نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا
’’ جو شخص کسی مومن سے دنیوی تکالیف میں سے کوئی ایک تکلیف دور کردیگا تو اللہ قیامت کے دن کی تکلیف میں سے اسکی تکلیف دور کردے گا۔ جو شخص کسی تنگ دست سے نرمی کا معاملہ کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اسے نرم معاملہ کرے گا۔
دور نبوت سے پہلے ایام جاہلیت میں اہل عرب حسدوبغض اورذاتی غرور میں اتنے مست تھے کہ انسان انسانوں کی غلامی کرتے امیر کو غریب اور طاقتور کو کمزور یہ ہر لحاظ سے برتری حاصل تھی۔ تو بعثت نبوی کے بعد نظام ترتیب دیا جس کی تمثیل نہیں ملتی جبکہ اسلام اور سماجی رشتے پر تجربہ کرتے ہوئے خرم مراد لکھتے ہیں کہ’’ قرآن مجید نے معاشرے کی اصلاح(Social Reform ) کیلئے ایمان کی بنیاد پر معاشرتی تعلقات کو بڑی کامیابی کے ساتھ استعمال کیا ہے۔ ہر جگہ یہ تاکید کی گئی کہ اللہ پر ایمان لاؤ تاکہ بندوں کی خدمت ہو اور آخرت پر ایمان لاؤ تاکہ انسانوں کی خدمت ہو۔ یہی مقاصد ہیں تعلیم قرآنی کے اور خدمت خلق کے تصور کے متضاد تصورات کا خاتمہ قرآن کی ایک ہی آیات نے شدت سے کیا ہے’’ اسلام میں رہبانیت نہیں‘‘۔
حضرت انسؓ اور حضرت عبداللہؓ دونوں کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔
’’ ساری مخلوق خدا کا کنبہ ہے تو خدا کو اپنی مخلوق میں وہ شخص سب سے زیادہ محبوب ہے جو خدا کی مخلوق کے ساتھ بھلائی سے پیش آئے‘‘
اسی نظریہ کو شاعر مشرق نے یوں بیان کیا ہے:
خدا کے بندے تو ہے ہزاروں منوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اسکا بندہ بنوں گا جسکو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا
اللہ تبارک تعالیٰ ایک مالدار کو اس نعمت کے بارے میں یوں ہدایات دیتا ہے کہ اپنے رب کی نعمتوں کا اظہار کرو۔ ایک صورت اظہار کی یہ ہے کہ اللہ کا شکربجالاو اور دوسری سورت یہ ہے کہ اس مال سے محتاجوں کی مدد کی جائے۔ تو یہ صورت زیادہ بہتر ہے۔
اسلامی تعلیمات نے دنیا میں ایسے اور اق رقم کئے کہ غیر مسلم بھی یہ حقیقت تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے کہ اسلام ہی امن کا دین ہے اسکی تعلیمات وحدت اور اخوت کا بہترین نمونہ ہیں۔ جسکی ایک مثال صحابہ نے تب پیش کی جب ہجرت کے بعد مہاجرین مدینہ میں سکونت پذیز ہوئے تو انصار نے من وعن سب کچھ مہاجرین کیلئے پیش کیا۔ جسکی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ انصار نے مہاجرین کیلئے گھروں اور دلوں کے دروازے کھول دئے۔ انہوں نے تو گھروں کا سامان تک یکساں بانٹ دیا۔ چونکہ اسلامی سلطنت کی وسعت کے ساتھ ساتھ میں غزوات اور جہاد کا سلسلہ بھی چلتا رہا تو اس دوران ہزاروں کی تعداد میں صحابہ شہید ہوئے بچے یتیم ہوئے اور عورتوں کو بے حد مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا رہا تھا تو ایسے اوقات میں بھی ہر ایک صحابی کا گھر یتیم خانہ بن گیا۔
پہلی بار انسانی تاریخ نے دیکھا کہ آفاقی تعلیمات نے تمام انسانوں کو ایک درجے اور ایک ہی صف میں کھڑا کردیا۔ مسلمانوں کو کلمہ کے رشتہ سے جوڑ کہ عرب وعجم میں یہ اعلان کردیا کہ امت مسلمہ ایک جسدواحد ہے اگر جسم کے کسی حصے میں زخم ہو تو پورے جسم میں درد ہوتا ہے۔ تو ان تعلیمات کی عملی صورت مکہ سے زیادہ مدینہ میں دیکھنے کو ملی جوکہ پہلی اسلامی ریاست بن گئی۔ جہاں رہبر کائنات نے ایسے ہی تصورات کو مضبوط کیا کہ معاشرے کو سنوارنے کیلئے ہر ایک طبقہ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ یہی مسلمانوں کا شیوہ ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:
’’ اور جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے‘‘
بخاری شریف کی حدیث میں آیا ہے:
’’ بھوکوں کو کھانا کھلاؤ ، مریضوں کی عیادت کرو اور قیدیوں کو چھڑاو‘‘
یہی تعلیمات ہیں جو ایک معاشرے کا معاشی نظام سدھار سکتے ہیں۔ جس معاشرے میں انسانوں کی حق تلفی نہ ہو وہ اللہ کے قریب ہوتا ہے اور انہی تعلیمات کو عملانے کا نام اسلام ہے بندوں کے حقوق کی دائیگی سے جی چرانا یقیناًگناہوں میں شمار ہوتا ہے اور قرآن و سنت میں ان کیلئے وعیدیں آئی ہیں۔ سورۃ المدثر میں اللہ فرماتے ہیں
’’تمہیں کیا چیزیں جہنم میں لے گئی وہ کہیں گے ہم نماز پڑھنے والوں میں نہ تھے اور مسکین کو کھانا کھلاتے نہ تھے‘‘
یہ بات عیاں ہے کہ انسان فطرت ایک انسان سے تقاضا کرتی ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ اخوت وبھائی چارے کے ساتھ پیش آئیں۔ اور خدمت خلق ہی انسانی فطرت کا زیور ہے ڈاکٹر اسرار احمد نے خدمت خلق کے تصور کو مزید اجاگر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں ’’ اللہ ہی زمینوں اور آسمانوں کا مالک ہے اس لحاظ سے انسان کسی چیز پر حق ملکیت نہیں جتا سکتا۔ یہاں تک کہ اسکے ہاتھ ، پاؤں، جسم کے اعضاء سب اللہ کی ملکیت میں ہے اور اللہ نے اگر چہ انسان کیلئے ہر ایک ضرورت کا سامان مہیا کیا ہے لیکن جو کچھ بھی اسکے پاس ہے اور جو زاید ہے اس میں دوسروں کا حق ہے انکا جو مستحق ہو۔ ضرورت مند اور محتاج ہو۔
ہر ایک یتیم بچے کیلئے کئی کئی ہاتھ ایک ساتھ بڑھ رہے تھے۔ بدر کے یتیموں کیلئے جگر گوشہ سول ﷺ حضرت فاطمہؓ اپنے دعوی کو اٹھالیتی اور حضرت عائشہ صدیقہؓ اپنے خاندان اور انصار وغیرہ کی۔ یتیم لڑکیوں کو اپنے گھر لے جاکر دل وجان سے پالیتی۔ ’’حضرت عبداللہ بن عمرؓ ایک صحابی تھے جو کسی تییم بچے کو ساتھ لئے بغیر کبھی کھانا نہیں کھاتے‘‘۔
عصر حاضر میں انہی ہی معیاروں پہ اگر ہم اپنے آپ کو جانچیں گے تو ہمارا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ ہم لوگ تو اسلام کی تعلیمات سے کافی دور ہی نہیں بلکہ انسانیت کی روح سے بھی ناواقف ہیں۔ ہمارے شب وروز اسی فکر میں گذر جاتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ مال کسی طرح حاصل ہو حلال یا حرام طریقے سے غرض کسی بھی طرح دنیاوی ٹھاٹھ باٹھ قائم رہے اور ہمیں امیروں میں لوگ شمار کریں جبکہ اللہ تعالیٰ نے ترغیب دی تھی’’ ہرگز تم نیکی تک نہیں پہنچتے جب تک تم نہ خرچ کرو‘‘
وہ جو تمہیں پسند ہو۔ اگر ہم بھی انہی اسلامی تعلیمات یہ عمل پیرا ہوتے تو کوئی بھی یتیم دست شفقت کو نہیں ترستا۔ خدمت خلق تو انسانیت کا لبادہ ہے ہم تو کبھی اپنوں اور مستحقوں کی حق تلفی سے بھی گریز نہیں کرتے ایسا لگتا ہے کہ ہم جسے
مسلمانو ں کیلئے اسلام محض ایک رسم کہن بن گیا اور ہماری بندگی سے ذوق وشوق، محنت ومعرفت سب چھین گیا۔
رہ گئی رسم اذان روح بلائی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا تلقین غزانی نہ رہی
مبینہ رمضان
بصیرت فیچرس

آپ کی رائے