ہر اختلاف برا نہیں
فساد کے معنی ہیں حالت کا اعتدال شرعی سے نکل جانا اور یہ افتراق ہی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ کبھی اتفاق سے فساد ہوتا ہے پس ایسا اتفاق بھی مذموم ہے۔
قرآن کا ایک لقب فرقان بھی ہے جس سے معلوم ہوا کہ قرآن ہمیشہ جوڑتا ہی نہیں بلکہ کبھی جوڑتا ہے اور کبھی توڑتا ہے جو لوگ حق پر ہوں ان کے ساتھ وصل کا حکم ہے اور جو باطل پر ہوں ان کے ساتھ فصل کا حکم ہے۔
نا اتفاقی اس واسطے مذموم ہے کہ یہ دین کو مضر ہے اور اگر دین کو مفید ہو گو دنیا کو مضر ہو تو وہ مذموم نہیں چنانچہ ایک نا اتفاق وہ ہے جس کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اختیار فرمایا تھا کیا اس نا اتفاقی کو کوئی مذموم کہہ سکتا ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مقابلہ میں جو کفار تھے ان میں باہم اتفاق و اتحاد کامل تھا مگر کیا اس اتفاق کو کوئی محمود کہہ سکتا ہے ہرگز نہیں بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تو اس اتفاق کی بنیاد اکھاڑ کر پھینک دی تھیں کیونکہ یہ خلاف حق پر تھا۔ (ملفوظات کمالات اشرفیہ ص۳۶، ص۲۷)
اختلاف کے محمود مذموم ہونے کا معیار
خوب سمجھ لو کہ اتفاق صرف اسی وقت مطلوب و محمود ہے جبکہ دین کو مفید ہو اور اگر اتفاق دین کو مضر ہو اور نا اتفاقی دین کو مفید ہو تو اس وقت نا اتفاقی ہی مطلوب ہوگی۔ (ملفوظات کمالات اشرفیہ ص۲۶)
اختلاف کی وجہ سے فریقین اور پوری جماعت سے بدگمان ہونا صحیح نہیں
میں یہ نہیں کہتا کہ اس اختلاف میں مولویوں کی خطا نہیں بلکہ ضرور ہے مگر آپ کی اتنی شکایت ضرور کروں گا کہ اس اختلاف کی وجہ سے سب کو چھوڑ دینا بے ترتیب اور غلط رائے ہے بعض لوگ علماء کو رائے دیتے ہیں کہ سب مولویوں کو متفق ہوجا نا چاہئے۔ نا اتفاقی بری چیز ہے تو میں پوچھتا ہوں کہ کیا نا اتفاقی علی الاطلاق جرم ہے یا اس کے لئے کوئی قید بھی ہے۔ اگر نا اتفاقی علی الاطلاق جرم ہے اور اس کی وجہ سے ہر فریق مجرم ہوتا ہے تو عدالت کو چاہئے کہ جب اس کے پاس کوئی مدعی دعویٰ پیش کرے تو تحقیق مقدمہ کے قبل ہی مدعی اور مدعی علیہ دونوں کو سزا دیا کرے کیونکہ دعویٰ اور انکار سے دونوں میں نا اتفاقی کا ہونا ثابت ہوگیا اور نا اتفاقی علی الاطلاق جرم ہے تو مدعی اور مدعی علیہ دونوں مجرم ہوئے۔ اگر عدالت ایسا کرے تو سب سے پہلے آپ ہی مخالف ہونگے اور شور و غل مچائیں گے کہ یہ کون سا انصاف ہے۔
پس علماء کی باہم اتفاقی اور اختلاف سے آپ کا سب کو مجرم بنانا اور ہر فریق سے یہ کہنا کہ دوسرے سے اتفاق کر لو غلط رائے ہے۔ بلکہ اول آپ کو تحقیق کرنا چاہئے کہ حق پر کون ہے ناحق پر کون ہے؟ پھر جو ناحق پر ہو اسے مجرم بنایئے اور اس کو اہل حق کے ساتھ اتفاق کرنے پر مجبور کیجئے ورنہ اہل حق کو دوسروں کے ساتھ مجبور کرنے کے تو یہ معنی ہونگے کہ وہ حق کو چھوڑ کرنا حق طریق اختیار کرلیں اور اس کو کوئی عاقل تسلیم نہیں کرسکتا۔ مولویوں کی شکایت ہم کو بھی ہے مگر صرف ان کی جو ناحق پر ہیں۔ (ملفوظات کمالات اشرفیہ ص۸۱)
حق کا تقاضہ
فرمایا کہ مقتضائے حق یہی ہے کہ جب دو جماعتوں یا وہ شخصوں میں اختلاف ہو تو اول یہ معلوم کیا جائے کہ حق پر کون اور ناحق پر کون۔ جب حق متعین ہوجائے تو صاحب حق سے کچھ نہ کہا جائے اور صاحب باطل کو اس کی مخالفت سے روکا جائے چنانچہ نص ہے۔ ’’فقاتلوا التی تبغی حتی تفیء الی امر اللہ‘‘۔ (التبلیغ اسباب الفتنہ، ص۱۳۷ ج۱۰۔ ملفوظات کمالات اشرفیہ ص۲۷)
فیصلہ کرنے اور صلح کا طریقہ
فرمایا اصلاح کے معنی یہ ہیں کہ حکم الہی کے موافق فیصلہ کیا جائے اور یقیناً(مجبورا) صاحب حق کو دبانا حکم اللہ کے خلاف ہے۔ پس صلح کرانے کا طریقہ یہ نہیں جو آج کل رائج ہے کہ دونوں فریق کو کچھ کچھ دبایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ جس کا حق ہوتا ہے اس کو بھی دبایا جاتا ہے بلکہ صلح کرانے کا طریقہ یہ ہے کہ جو ناحق پر ہو اس کو دبایا جائے کیونکہ صاحب حق کو دبانا اضرار (نقصان پہنچانا) اور غیر صاحب حق کو دبانا اضرار نہیں بلکہ اس میں تو اس کو اضرار سے روکنا ہے چنانچہ ارشاد ہے۔ ’’و ان طائفتان من المومنین اقتتلوا‘‘۔ مطلب یہ ہے کہ بنیاد پر صلح کراؤ اور اگر اس پر راضی نہ ہو تو سب مل کر غلط بنیاد کو ڈھادو۔ (ملفوظات اشرفیہ ص۸۱)
اگر مدرسہ میں اختلاف ہوجائے تو کیا کریں؟
ارشاد فرمایا کہ جب کسی معاملہ میں لوگ تم سے بھگڑا کریں تو تم رطب یا بس سب اس کے حوالہ کرکے خود علیحدہ ہوجاؤ۔ حضرت رحمہ اللہ نے فرمایا میرا عمر بھر کا یہی معمول ہے۔ حضرت رحمہ اللہ نے اپنے معمول پر ایک حدیث سے بھی استدلال فرمایا ہو جو جامع صغیر میں رزین سے مرفوعا روایت کی گئی ہے کہ:
’’نعم الرجل الفقیہ ان احتیج الیہ نفع و ان استغنی عنہ اغنی نفسہ‘‘
بہت اچھا وہ مرد فقیہ ہے کہ اگر لوگ اس کی ضرورت محسوس کریں تو ان کو نفع پہنچائے اور اگر لوگ اس سے استغناء برتیں تو یہ بھی ان سے استغناء کا معاملہ کرلے۔
اور فرمایا کہ اس لئے آج کل دارالعلوم دیوبند کی سرپرستی سے بھی استعفاء دے دیا۔ مجھے جھگڑوں اور سوال جواب میں پڑنے کی کہاں فرصت ہے۔ (مجالس حکیم الامت ص۱۹۰)
تحفۃ العلماء جلد اول ص۹۰۔۹۱، مطبوعہ دارالشاعت کراچی ۲۰۰۷
مرتب: حضرت مولانا مفتی زید مظاہری ندوی

آپ کی رائے