
ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے یورپی ممالک کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ترکی پر تنقید کے بجائے اپنے ہاں بڑھتے ہوئے ‘اسلامو فوبیا’ کا حل تلاش کریں۔
استنبول میں سرکاری ملازمین کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے یورپی حکومتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ ترکی ایسا ملک نہیں جس پر انگلیاں اٹھائی جائیں اور اس سے باز پرس کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ کو چاہیے کہ وہ ترکی پر تنقید کرنے کے بجائے اپنے ہاں بڑھتی ہوئی نسل پرستی اور اسلام مخالف جذبات پر توجہ دے اور ان مسائل کو حل کرے۔ خیال رہے کہ یورپی یونین نے حکومت مخالف ذرائع ابلاغ پر ترک پولیس کے حالیہ چھاپوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے آزادی کے منافی اور یورپی اصولوں سے متصادم قرار دیا تھا۔ ترکی کی پولیس نے رواں ماہ کئی ایسے اخبارات اور ٹی وی چینلز پر چھاپے مارے تھے جو امریکہ میں مقیم بااثر ترک مبلغ فتح اللہ گولن کی تحریک سے منسلک یا ان کے حامی ہیں۔ اپنے خطاب میں ترک صدر نے ملک میں نیا آئین متعارف کرانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا اور کہا کہ ترکی میں آئندہ سال جون میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد اس سمت میں پیش رفت تیز ہو گی۔
اردو ٹائمز

آپ کی رائے