شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے عالم اسلام کی تبدیلیوں اور بعض مسلم ممالک میں بدامنی کی نئی لہر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انتہاپسندی و شدت پسندی کی بنیادی وجہ سے مقابلے پر زور دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان، ایران، نے اپنے تیرہ جون کے خطبہ جمعے میں کہا: آج کل دنیا کے مختلف ملکوں میں بدامنی و تشدد کا بازار گرم ہے۔ شیعہ وسنی سب انتہاپسندی سے نالاں ہیں اور سب کو نقصان پہنچاہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ کچھ لوگ تشدد کے ہتھے نہ چڑھ جائیں۔
عالم اسلام میں جاری مشکلات و مسائل کے حل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ممتاز سنی عالم دین نے کہا: ان تمام تنازعات کی کوئی نہ کوئی وجہ ہے؛ مثلا تکفیر اور شدت پسندی کی کچھ وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے ’علت‘ سے مقابلہ کرنا چاہیے تاکہ ’معلول‘ خودبخود ختم ہوجائے۔ موجودہ مشاجرات وتنازعات سے نجات کا واحد راستہ باہمی مکالمہ اور ایک دوسرے کے حقوق کو تسلیم کرنا ہے۔ جب ہم ساتھ بیٹھیں گے، ایک دوسرے کو تسلیم کریں گے اور اپنے حقوق کا خیال رکھیں گے تو مسائل حل ہوں گے۔
دارالعلوم زاہدان کے مہتمم وشیخ الحدیث نے مزیدکہا: تشدد اور دوسروں کو قتل کرنا ہرگز کوئی مناسب حل نہیں ہے؛ لڑائی اور تشدد سے مزید تشدد پیدا ہوتاہے۔ شام، عراق اور دیگر ملکوں میں جب تمام گروہ اور جماعتیں اکٹھی ہوکر ساتھ بیٹھیں گی اور مذاکرہ ومکالمہ کریں گی تو تنازعات کا تصفیہ ہوگا۔ مسلمانوں کو چاہیے خود اپنے مسائل حل کریں۔ عالمی طاقتیں صرف اپنے مفادات کے پیچھے ہیں اور ان کے لیے صرف اسرائیل کا امن اہم ہے۔ مسلمانوں کے تنازعات سے اسرائیل اور عالمی طاقتیں اچھی طرح فائدہ اٹھاتی ہیں۔
خطے میں ایران کے اثرورسوخ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: خطے میں جاری تنازعات کے حل کے لیے ایران کو آگے ہونا چاہیے۔ تمام بااثر مسلمان ملکوں کو اختلافات ختم کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے کوشش کرنی چاہیے اور محنت سے متنازع گروہوں کو مذاکرات کے میز پر لانا چاہیے۔ اسلامی جمہوریہ ایران سے توقع یہی ہے کہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرے۔ مسلم علما اور دانشوروں کو بھی اپنی قوت اور اثرورسوخ کی حدتک کردار ادا کرنا چاہیے۔ ہم بھی مسلمانوں کے تنازعات کے حل کے لیے دعا کرتے ہیں اور اپنی حدتک تعاون کے لیے تیار ہیں تاکہ مسائل گفت وشنید اور منطق سے حل ہوجائیں۔
ایرانی قوم نے ایک سال قبل میانہ روی ومکالمے کو ترجیح دی
خطیب اہل سنت زاہدان نے صدر روحانی کے انتخاب کی پہلی سالگرہ کے حوالے سے کہا: آج سے ایک سال قبل ایرانی قوم کی اکثریت نے صدارتی انتخابات میں شرکت کی اور اپنے بجا اور درست انتخاب سے پوری دنیا کو حیرت میں ڈالا۔ کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ قوم ڈاکٹر روحانی کو ووٹ دے گی۔
انہوں نے مزیدکہا: گزشتہ سال چودہ جون کو ایرانی ووٹروں نے اپنی راہ انتخاب کیا؛ مسٹر روحانی کو ووٹ دینے کا مطلب تھا قوم میانہ روی اور مکالمے کو ترجیح دیتی ہے۔ انتخابات سے پہلے تمام امیدواروں نے اپنے پروگرامز کا اعلان کیا لیکن عوام نے صدر روحانی کو ووٹ دے کر یہ مطالبہ پیش کیا کہ امتیازی سلوک ملک سے ختم ہوجائے اور تمام لسانی ومذہبی برادریاں اپنے حقوق حاصل کریں۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: صدرمملکت اور ’تدبیروامید‘ کی حکومت سے ہماری درخواست یہی ہے کہ مسائل کو مکالمہ اور قوت کے ساتھ حل کریں اور انتخابی مہم کے دوران دیے گئے وعدوں پر عمل کریں۔ اس حوالے سے صدرممکت کی ذمہ داری بہت سنگین ہے۔ عوام کو بھی چاہیے حکومت اور صدر کی حمایت کریں تاکہ وہ اپنے مقاصد حاصل کرکے وعدوں کو آسانی سے جامہ عمل پہنائیں۔
صدر شورائے مدارس اہل سنت سیستان وبلوچستان نے نیوکلیئر مسئلے پر حکومت کی حمایت پر زور دیتے ہوئے کہا: قوم عالمی طاقتوں سے مذاکرات کے مسئلے پر حکومت کے ساتھ ہے۔ جب ہم ایٹمی اسلحے کی تلاش میں نہیں ہیں تو ہم کیوں اس کی سزا بگتیں اور پابندیوں کے دلدل میں پھنس کر ہم کیوں کمزور ہورہے ہیں؟ لہذا شفافیت اور تدبیر سے پابندیاں ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس مسئلے میں ایرانی قوم حکومت کے ساتھ ہے۔
تفتان میں شیعہ زائرین پر حملہ چونکا دینے والا واقعہ تھا
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے ایک حصے میں پاکستان کے سرحدی شہر تفتان میں شیعہ زائرین پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک چونکا دینے والا واقعہ قرار دیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا: ان افراد کو کیوں قتل کیاگیا اور ان کا جرم کیا تھا جس کی بنا پر ان کا قتل ضروری ٹھہرا؟ کیا انہوں نے کسی کو قتل کیا تھا کہ انہیں اس طرح قتل کرنا ضروری تھا؟ کون انہیں مارنے کا فتوا دے سکتاہے؟ وہ صرف زائر تھے جو آیت اللہ خمینی کی سالگرہ کے موقع پر ایران آئے تھے؛ اگر یہ کوئی برا کام ہے تو حملہ آوروں سے اس کا کیا تعلق؟ وہ خود جوابدہ ہوں گے۔ ہم دوسروں کے اعمال کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ اللہ تعالی ایسے نادان لوگوں کو ہدایت فرمائے، اگر ناقابل ہدایت ہیں تو ہمیں ان کے شر سے محفوظ فرمائے۔
آخر میں تہران یونیورسٹی کے معروف پروفیسر ڈاکٹر صادق زیباکلام کی موجودی پر مولانا نے مسرت کا اظہار کیا اور انہیں ملک کے اچھے دانشوروں میں شمار کیا۔

آپ کی رائے