شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ کے علاقے درگاہ منڈی کے قریب گاڑی پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈر عصمت اﷲ شاہین بیٹنی تین ساتھیوں سمیت جاں بحق ہو گئے۔
دو افراد فائرنگ سے زخمی ہوئے، حکیم اﷲ محسود کے ڈرون حملے میں مارے جانے کے بعد عصمت اﷲ شاہین ٹی ٹی پی کے عبوری امیر بھی رہے۔ سرکاری ذرائع نے عصمت اﷲ شاہین کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے‘ خاندانی ذرائع کے مطابق ان کے ساتھ جاں بحق ہونے والے گارڈ اور ڈرائیور تھے۔ عصمت اﷲ شاہین کا تعلق ٹانک سے تھا۔ ان کے حافظ گل بہادر کے ساتھ ذاتی مراسم تھے جبکہ حافظ گل بہادر کا حکومت کے ساتھ امن معاہدہ بھی قائم ہے۔ گزشتہ برس امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد عصمت اللہ شاہین بیٹنی نے نئے امیر کے تقرر تک تحریک طالبان پاکستان کی مرکزی شوری کے امیر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں تھیں۔ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے ان کی ہلاکت کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔ ایک نجی ٹی وی کے مطابق خاندانی ذرائع نے عصمت اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ عصمت اللہ شاہین ایف سی کے خلاف کارروائیوں اور ٹانک میں ہونے والے حملوں میں ملوث رہا ہے۔ 2009ءمیں اس نے کراچی میں حملے کی ذمہ داری قبول کی جس میں 43 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ حکومت پاکستان نے عصمت اللہ شاہین کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر کی تھی۔ وہ انتہائی سخت گیر اور انتہا پسند کمانڈر تھے۔ وہ 2008ءمیں تحریک طالبان میں شامل ہوئے تھے۔ ادھر میرانشاہ میں ہی سکیورٹی فورسز کے کیمپ پر نامعلوم سمت سے 3 راکٹ داغے گئے تاہم حملے میں کوئی جانی نقصان نہیںہوا۔ ذرائع کے مطابق میرانشاہ میں سکیورٹی فورسز کے کیمپ پر رات گئے تین راکٹ گرے، نامعلوم سمت سے فائر کئے گئے راکٹ حملے میںکوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ادھر لوئر کرم ایجنسی کے علاقے خاون کنڈو میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں سات شدت پسند ہلاک اور 5 زخمی ہو گئے۔
نوائے وقت

آپ کی رائے