یوکرین میں پولیس کی جانب سے صدارتی محل کا کنٹرول چھوڑے جانے کے بعد حکومت مخالف مظاہرین نے صدر کی رہائش گاہ اور دفاتر کی عمارتوں میں داخل ہوگئے ہیں۔
مظاہرین نے صدارتی محل کے باہر اپنے پہرے دار تعینات کر دیے ہیں جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ مظاہرین کے ساتھ ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ انھیں صدر کے دفاتر میں داخل ہونے سے کسی نہیں روکا اور یہ عمارتیں بظاہر خالی معلوم ہوتی ہیں۔
صدر وکٹر یانوکووچ کے بارے میں غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ وہ دارالحکومت کیئف چھوڑ چکے ہیں اور روسی سرحد کے قریب واقع شہر خرکیئف جا چکے ہیں۔
حزب مخالف کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے صدر یانوکووچ کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر مستعفی ہو جائیں۔ ان رہنماؤوں نے کہا کہ ملک میں انتخابات 25 مئی سے پہلے پہلے ہونے چاہییں۔
سنیچر کی صبح جب پارلیمان کا اجلاس شروع ہوا تو سپیکر والڈامیئر رئیبک نے کہا کہ ان کی صحت ٹھیک نہیں ہے اس لیے وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔
اجلالس میں حزب مخالف کی جماعت اُدر پارٹی کے رہنما نے کہا:’عوام کے مطالبات کی روشنی میں ہم رہنماؤوں کو ایک قرارداد منظور کرنی چاہیے جس میں صدر یانو کووچ سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا جانا چاہیے۔‘
جمعے کے روز سیاسی بحران کو ختم کرنے کے لیے صدر يانوکووچ اور اپوزیشن کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط ہونے کے باوجود ہزاروں افراد دارالحکومت کیئف میں سڑکوں پر جمع ہو گئے تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ انھیں صدر پر اعتماد نہیں ہے۔
اس معاہدے کے تحت ملک میں ایک اتحادی حکومت بنائی جائے گی جس کی زیر نگرانی رواں برس دسمبر میں ملک میں عام انتخابات کرائے جائیں گے۔
کیئف میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار گیون ہیوٹ کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے معاہدہ پر دستخط کرنے والے رہنماؤں کو غدار قرار دیا۔
نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو شبہ ہے کہ اِس معاہدے پر عمل درآمد نہیں کرایا جائے گا۔
دوسری جانب کئی مظاہرین نے دھمکی دی ہے کہ اگر صدر وکٹر یانوکووچ نے سنیچر کی صبح تک استعفیٰ نہیں دیا تو وہ صدر کے خلاف ایکشن لیں گے۔
وائٹ ہاؤس نے یوکرین میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے سمجھوتے کا خیر مقدم کیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق امریکہ اور روس کے صدور نے اس بات پر متفق ہیں کہ معاہدے پر تیزی سے عملدرآمد کی ضرورت ہے۔
امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صدر اوباما نے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن سے ٹیلی فون پر بات کی۔
ترجمان کے مطابق ولادی میر پوتن نے براک اوباما کو بتایا کہ روس معاہدے پر عملدرآمد کا حصہ بننا چاہتا ہے۔
امریکہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر یوکرین میں تشدد جاری رہا تو وہ حکومت کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے لیے تیار ہے۔
یوکرین کی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان یہ معاہدہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کی ثالثی کے نتیجے میں ملک میں شروع ہونے والے تشدد کے تقریباً تین ماہ بعد عمل میں آیا۔
یوکرین کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ پرتشدد جھڑپوں میں اب تک 77 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
بی بی سی اردو

آپ کی رائے