میانمار کے صدر تھائین سائین نے منگل کو میانمار کے شورش زدہ علاقے کا دورہ کیا کیونکہ ریاست راکھنی میں فرقہ وارانہ فساد کی نئی لہر شروع ہوگئی ہے۔
پولیس کے مطابق بدھ مت کے پیروکاروں نے 70 کے قریب مکانات کو آگ لگانے کے علاوہ ایک 94 سالہ خاتون کو ہلاک کردیا ہے۔
کیاؤ نینگ کے ایک پولیس افسر کے مطابق منگل کے روز دوپہر کے بعد تھابیاچینگ گاؤں میں فسادات بھڑک اٹھے یہ علاقہ ساحلی شہر تھانڈوےسے بیس کلومیٹر دور ہے۔
پولیس افسر نے بتایا کہ چورانوے سالہ خاتون آئے کئ تیز دھار آلے سے لگائے گئے زخموں کے بعد ہلاک ہوئی جبکہ مجموعی طور پر 70 سے 80 افراد ہلاک ہوگئے۔
واضح رہے کہ علاقے میں ایک سال سے جاری فرقہ وارانہ فسادات کے بعد وزیرِ اعظم کا یہ پہلا دورہ ہے اور اس میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جہاں اتوار کو مسلمانوں کے گھروں کو جلایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ جون دوہزار بارہ میں راکھنی ریاست میں زبردست فسادات شروع ہوئے تھے جو دھیرے دھیرے مسلمانوں کیخلاف مہم میں بدل گئے اور یہ آگ چھوٹے علاقوں اور قصبوں تک پھیل گئی۔ اب تک ان فرقہ وارانہ لڑائیوں میں سینکڑوں افراد مارے جاچکے ہیں اور 140,000 سے زائد لوگ اپنے گھر چھوڑ چکے ہیں جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔
تھائین سائین کو پہلے پہل ملک میں نصف صدی سے جاری فوجی حکومت ختم کرنے پر سراہا گیا لیکن اب ملک میں بد امنی اور مسلمان اقلیتوں کےتحفظ پر سوال اُٹھائے جارہے ہیں۔
ریاستی ترجمان کے مطابق تاہم ہفتے کے روز تھانڈ وے کےعلاقے میں تازہ فسادات اسوقت شروع ہوگئے جب ایک بدھ مت کے ٹیکسی ڈرائیور نے پولیس کو بتایا کہ وہ ایک مسلمان کی دوکان کے آگے گاڑی پارک کررہا تھا کہ دکاندار نے اس کو برا بھلا کہا۔
پولیس نے معمول کی تفتیش کے بعد مسلمان دکاندار کو چھوڑ دیا لیکن اس کے بعد مشتعل ہجوم نے اس کے گھر پر پتھراؤ کیا۔
ینگون سے دوسو ستر کلومیٹر دور راکھنی میں جلاؤ گھیراؤ شروع ہوگا اور فسادات بھڑک اٹھے۔
منگل کے روز تھانڈوے کے تین دیہاتوں میں سینکڑوں مشتعل مظاہرین نے مسلمانوں کے مکانات کو جلادیا اور توڑ پھوڑ کی۔
علاقے کے ایک مسلمان رہائشی نے بتایا کہ اس کے جواب میں بدھ مت کے ماننے والوں کے گھروں
ڈان نیوز

آپ کی رائے