ہندوستان: فساد زدہ علاقوں میں کرفیو میں نرمی

ہندوستان: فساد زدہ علاقوں میں کرفیو میں نرمی

 

 

 

ہندوستانی ریاست اترپردیش کے فسادات سے متاثرہ شہر مظفرنگر میں حالات میں کچھ بہتر نظر آرہے ہیں جہاں پر کل بدھ کو کرفیو میں پانچ گھنٹے کی نرمی کی گئی، جبکہ ضلع باغپت میں ایک فرقہ ورانہ تصادم میں ایک پولیس کانسٹیبل زخمی ہوگیا۔

ضلعی مجسٹریٹ کوشل راج شرما کا کہنا ہے کہ مظفر نگر میں حالات مکمل کنٹرول میں ہیں اور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
آئی جی اسپیشل ٹاسک فورس اشیش گپتا نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ کوٹ ولی، سول  لائنز اور نئی منڈی کے علاقوں میں دوپہر 12سے چار بجے تک کرفیو میں نرمی کی گئی تھی جس میں ایک گھنٹے کی توسیع کردی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ضلع باغپت کے گاؤں ترتھال میں ہندو مسلم جھڑپ کے دوران ایک دوسرے کی جانب پتھراؤ کیا گیا جس سے ایک کانسٹیبل  کے سر پر زخم آئے ہیں۔
یاد رہے کہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے ضلع باغپت کےعلاقوں کوٹ والی، سول لائنس اور نئی منڈی میں ہندو مسلم فسادات کی وجہ سے ہفتے کے روز کرفیو نافذ کیا تھا، جبکہ منگل کے روز اس میں ڈھائی گھنٹے کی نرمی کی گئی تھی۔
ہندوستانی ریاست اترپردیش کے مغربی شہر مظفر نگر میں ان فسادات میں اب تک 34 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ میرٹھ سے اطلاعات ہیں کہ وہاں  پر دو افراد ہلاک ہوئے اور ایک ایک ہلاکت ہاپڑ، باغپت، سہارنپور اور شاملی میں ہوئی ہیں۔
آگرہ میں سماج وادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادیو نے الزام عائد کیا ہے کہ کچھ سیاسی جماعتیں مظفرنگر اور اس سے متاثرہ علاقوں میں صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہی ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اب بھی ہم نے سبق نہ سیکھا تو اس قسم کے واقعات دوبارہ ہوں گے، کیونکہ ایسے لوگ جن کو اترپردیش کے لوگوں پر اعتماد نہیں ہے وہ اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔

ڈان نیوز

 

 

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین