دنیا وآخرت کی کامیابی کا راز محنت ہی میں ہے

دنیا وآخرت کی کامیابی کا راز محنت ہی میں ہے

 

 

 

خطیب اہل سنت زاہدان شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید اسماعیل زہی نے اپنے تازہ ترین خطبہ جمعہ میں محنت و کوشش کی اہمیت واضح کرتے ہوئے انسان کی دنیا و آخرت کی کامیابی کو محنت پر وابستہ قرار دے دیا۔

حضرت شیخ الاسلام نے اپنے10 مئی 2013ء کے بیان کا آغاز قرآنی آیت: «و أن لیس للإنسان إلا ما سعی»  کی تلاوت سے کرتے ہوئے کہا: اللہ تعالی نے دنیا کو محنت و کوشش کا مقام قرار دیا ہے۔ اوپر تلاوت کی گئی آیت سے معلوم ہوتاہے انسان کے پاس موجود واحد دولت محنت ہے جس کا فائدہ اٹھا کر بندہ کامیابی و سعادت حاصل کرسکتاہے۔ دنیوی و اخروی زندگی کیلیے محنت کاریگر ہے؛ انسان کو اپنی روزی کیلیے کوشش کرنی چاہیے اور اللہ تعالی نے اس کے اسباب بھی فراہم کیاہے۔ انسان اپنی جگہ جانور بھی اپنی روزی کیلیے محنت و کوشش کرتے ہیں۔لہذا جس طرح ہم اپنی دنیوی زندگی سنوارنے کیلیے محنت کرتے رہتے ہیں، ہمیں آخرت کی ابدی زندگی کیلیے بھی توشہ تیار کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنی اور معاشرے کے ہر فرد کی اصلاح، ہدایت اور کامیابی کیلیے تلاش کرنی چاہیے۔ اگر ہمیں جنت میں کوئی جگہ چاہیے اور اللہ رب العزت کی رضامندی ہمارا مقصود ہے تو ہمیشہ محنت کریں۔
مہتمم دارالعلوم زاہدان نے مزیدکہا: جس میدان میں بندہ محنت کرے اس کا نتیجہ بھی سامنے آئے گا؛ مادی زندگی ہو یا معنوی دونوں میں محنت بے ثمر نہیں رہے گی۔ دنیا میں ترقی یافتہ ممالک کی مثال لے لیں؛ ان کی قوموں نے دن رات محنت کرکے اپنے ملکوں کو ترقی یافتہ بنایاہے۔ اسی طرح اگر کوئی قوم اللہ کے راستے پر محنت کرے تو اس کی آخرت آباد ہوگی۔ باایمان لوگ محنت سے اپنی آخرت سنوارتے ہیں۔ آج اگر دنیا میں اسلام ہر سو پھیلا ہواہے اور دنیا کے کونے کونے میں لوگ اسلام سے واقف ہیں تو یہ حقیقی مومنوں کی محنتوں کا نتیجہ ہے۔ جو ہاتھ پر ہاتھ رکھ کوئی محنت نہیں کرتے ہیں انہیں دونوں جہاں میں ناکامی نصیب ہوگی۔
بنی اسرائیل کے ایک فرد کی کہانی جس نے ایک سو افراد قتل کرنے کے بعد توبہ کے عزم سے دوسرے علاقے کی طرف جاتے ہوئے انتقال کیا تھا، سناتے ہوئے کہا: محنت و کوشش اللہ تعالی کے دربار میں انتہائی اہم ہے اور اللہ کسی بھی محنت کو بلاثمر نہیں چھوڑے گا۔ بندوں کے حقوق اللہ کے یہاں انتہائی اہم ہیں اور ان کی معافی کا حق صرف انہیں کو ہے، لیکن اگر کوئی سچے دل سے اخلاص کے ساتھ توبہ کرے اور اس کے ذمہ کاسی بندے کا حق ہو تو اللہ تعالی اپنی خاص رحمت سے صاحب حق کو معاف کرنے پر راضی فرمائے گا اور اپنی طرف سے اس کا حق ادا کرکے تائب بندے کی مغفرت فرمائے گا۔ اس حدیث کا مطلب یہی ہے کہ مرتے دم محنت کرکے اپنا ایمان مضبوط بنانا چاہیے۔ تلاوت قرآن اور دیگر نیک کاموں میں لگنا چاہیے، عوام اور مظلوم لوگوں کی خدمت کرنے سے ان کی نیک دعائیں حاصل کریں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے بیان کے پہلے حصے کے آخر میں کہا: جس دل میں اللہ کا عشق و محبت ہو وہ ہرگز چین سے نہیں رہے گا، وہ ہر حال میں کوشش کرے گا برائیوں سے بچ جائے اور نیکیوں سے اپنا توشہ تیار کرے۔ اس دن سے ڈریں جب لوگ نیک اعمال کے بڑے بڑے ذخایر سے اللہ کے سامنے آئیں اور ہمارے پاس شرمندگی و ندامت کے سوا کچھ نہ ہو۔
صحابہ کرام کی شان میں گستاخی حرام اور گناہ کبیرہ ہے
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے اپنے بیان کے ایک حصے میں شام میں “حجر بن عدی” کے مزار کی تخریب و مسمار کے واقعے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: شام میں حجر بن عدی کے مزار کو مسمار کرنے کا واقعہ المناک اور ناگوار تھا؛ آپ بعض مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔
انہوں نے مزیدکہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ کا چہرہ انور براہ راست دیکھا ہے اور ایمان کی حالت میں ان کا دفاع بھی کیا ہے، قیامت تک مسلمانوں کے نزدیک ان کا مقام بہت ہی اونچا ہوگا۔ صحابہ کرام کے احترام پوری امت پر واجب ہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے مزیدکہا: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا احترام -حیا ومیتا- واجب اور ضروری ہے اور خلفائے راشدین، ازواج مطہرات، عشرہ مبشرہ اور اہل بیت سمیت کسی بھی صحابی کی شان میں گستاخی حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔ لہذا ہم حجربن عدی کے مزار کی تخریب کے واقعے کی مذمت کرتے ہیں۔

مولانا عبدالحمید نے آخر میں کہا: اگرچہ ابھی تک ہمیں یقین کے ساتھ معلوم نہیں کس گروہ نے حجربن عدی کا مزار مسمار کیا ہے لیکن بہرحال یہ کسی انتہاپسند گروہ ہی کی کارستانی ہے۔ اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ صہیونی ایجنٹوں نے مسلمانوں کے درمیان اختلاف اور تفرقہ ڈالنے کیلیے یہ اقدام اٹھایاہے اگرچہ اس واقعے کے بعد مسلمانوں کو مزید متحد ہونا چاہیے۔
انصاف اور معقول مکالمہ متعدد عالمی مسائل کا حل ہے
ممتاز سنی عالم دین مولانا عبدالحمید نے انصاف اور عدل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے “منطق اور انصاف پر مبنی مکالمے” کو متعدد عالمی بحرانوں کا واحد علاج قرار دےدیا۔
ہزاروں فرزندان توحید سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا: آج کی دنیا کی سب سے بڑی ضرورت عدل و انصاف کی ہے جو صرف حکومتوں سے متعلق نہیں ہے، بلکہ معاشرے کے تمام افراد پر ضروری ہے اپنی زندگی میں انصاف نافذ کردیں۔ دنیا اور خاص کر مسلمانوں کے متعدد مسائل کا واحد حل مساوات اور منطق پر مبنی باہمی گفتگو اور مکالمہ ہے۔ تمام گروہ چاہے ان کا تعلق اعتدال پسندوں سے ہو یا سخت گیر موقف رکھنے والوں سے، باہمی گفتگو سے اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں۔ دنیا کے بڑے سے بڑے بحران مذاکرات کے ذریعے حل ہوسکتے ہیں۔
عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین کے رکن نے مزیدکہا: نام نہاد دہشت گردی سے مقابلے کے بہانے پر امریکی اور نیٹو فورسز کی افغانستان پر یلغار ناقابل معافی گناہ ہے؛ جیسا کہ اکثر مبصرین اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ عراق پر امریکی سرپرستی میں چڑھائی ایک سنگین غلطی تھی۔ خطے میں پائیدار امن فلسطین کی آزادی ہی سے حاصل ہوسکتاہے۔ پوری دنیا کا امن مسئلہ فلسطین سے وابستہ ہے؛ اگر فلسطینیوں کی بات سنی جاتی اور ان کا ملک مستقل ریاست تسلیم کیاجاتا تو مغربی دنیا سمیت مسلمانوں کے تمام سکیورٹی خدشات دور ہوجاتے اور ان کے مسائل حل ہوجاتے تھے۔ جب قوموں کے مطالبات کو نظرانداز کیا جاتارہا تو انہیں مشتعل کرکے خطرناک ردعمل پر مجبور کیاگیا، خودکش حملے ایسی ہی پالیسیوں کے نتائج ہیں۔ میں ایسے حملوں کیلیے جواز نہیں ڈھونڈرہا، یہ ایک حقیقت ہے جس پر ماہرین متفق ہیں۔ دنیا میں بدامنی کا علاج انصاف کی فراہمی،لوگوں کی شکایات سننے اور انہیں مطمئن کرنے میں ہے۔
اقلیتوں کے حقوق کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: میرا خیال یہ ہے کہ شام، عراق اور بحرین میں مخالفین کی بات سنی جائے اور مذاکرات و مکالمے سے ان کے تحفظات دور کیے جائیں۔ دنیا میں اقلیتوں کی باتوں پر توجہ دینی چاہیے اور ان کے حقوق بلا تفریق مسلک و مذہب انہیں ملنا چاہیے۔
ایرانی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا: اہل سنت والجماعت کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے؛ ایران کے حکام سمجھ لیں ہم اپنے ملک میں اہل تشیع کے بعد دوسری بڑی برادری ہیں جبکہ عالم اسلام میں اکثریت اہل سنت کی ہے۔ امید کی جاتی ہے ایرانی اہل سنت کے خطوط اور شکایات کو شامل تحقیق کیا جائے اور ان کے مسائل حل کرنے کی محنت کرنی چاہیے۔ ہمارے حقوق کو پامال نہ کیا جائے۔
آخر میں حضرت شیخ الاسلام نے تاکید کرتے ہوئے کہا: ہم مکالمے پر یقین رکھتے ہیں۔ اگر کوئی ہماری بات سننے کیلیے تیار ہو تو ہم گفتگو کیلیے تیار ہیں، لیکن اگر ہماری بات ٹال دی جائے تو عرش معلی تک ہم اپنی صدا پہنچائیں گے۔

 

 

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین