عراق کے صوبہ الانبار کے شہروں میں بڑے احتجاجی جلوس

عراق کے صوبہ الانبار کے شہروں میں بڑے احتجاجی جلوس

عراق کے مغربی صوبے الانبار کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد سخت سیکیورٹی کے باوجود الرمادی شہر میں احتجاجی دھرنا دے رہے ہیں اور وہ وزیراعظم نوری المالکی سے اصلاحات نافذ کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
العربیہ ٹی وی کے مطابق الانبار کی عوامی اور کوآرڈی نیشن کمیٹیوں نے سیکیورٹی کی صورتحال کے پیش نظر عراقی دارالحکومت بغداد کی جامع الامام الاعظم مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے مارچ ملتوی کر دیا ہے۔

مارچ ملتوی کرنے کا اعلان عراق کے سرکردہ دینی رہنماؤں کے ان خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے کہ منصوبے پر عملدرآمد کی صورت میں سیکیورٹی اداروں کے ساتھ جھڑپوں کا امکان ہے۔

عراقی بری فوج کے سربراہ جنرل علی غیدان نے احتجاجی مظاہرے کی کال دینے والی کوآرڈی نیشن کمیٹیوں کے ارکان، صوبے کے پولیس سربراہ، الانبار کے آپریشنل کمانڈر اور سنی ٹرسٹ کے ڈائریکٹر سے ملاقات کی۔ ملاقات کا مقصد مظاہرین کے مطالبات کا جائزہ لیتے ہوئے تمام فریقوں کے لئے مسائل کے حل کی درمیانی راہ تلاش کرنا تھا۔

جنرل غیدان نے بتایا کہ میرے فوجی یونٹس کے پاس مختلف گورنریوں سے بغداد جانے اور واپس آنے والے مظاہرین کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے نفری اور وسائل موجود نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انٹیلی جنس رپورٹس کی روشنی میں ہم نے سترہ اشتہاری ملزموں کو گرفتار کیا ہے جو مظاہروں کو تاراج کرنے کا منصوبہ بنائے ہوئے تھے۔

العربیہ نیوز


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین