شام سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ہفتے کے روز ملک کے مختلف حصوں میں سرکاری فوج کے ہاتھوں 392 نہتے شہری جاں بحق ہوئے۔ ملہوکین میں 20 بچے اور 20 خواتین بھی تھیں۔ مقامی کوارڈی نیشن کمیٹیوں نے بتایا کہ 220 شہری حمص کے علاقے دیر بعلبہ میں جان کی بازی رہے۔
انسانی حقوق آبزرویٹری کے مطابق ملک کے وسطی علاقے حمص کی دیر بعلبہ کالونی میں دسیوں افراد ہفتے کو علی الصباح سرکاری فوج کی گولیوں کا نشانہ بنے جبکہ رضاکاروں نے بھی قتل عام کی تصدیق کی ہے۔
کوارڈی نیشن کمیٹیوں کے مطابق سرکاری فوج نے ہفتے کی شب حمص کی دیر بعلبہ کالونی پر شبیحہ ملیشیا نے ٹینکوں کے کور میں حملہ کیا جس کے بعد علاقے سے 220 افراد کی نعشیں ملیں۔ شہدا کو تیز دھار آلے سے گلے کاٹ یا آگ لگا کر قتل کیا گیا، تاہم انسانی حقوق کی آبزرویٹری نے بتایا کہ وہ کالونی سے مواصلاتی رابطہ کٹ جانے کی وجہ سے اس ہلاکتوں کو ڈاکومنٹ نہیں کر سکے۔
دیر بعلبہ سے فرار کے بعد مضافاتی علاقے میں پناہ لینے والے ایک شامی کارکن نے ایسی تصاویر جاری کی ہیں کہ جن میں زمین پر پڑی ہوئی ناقابل شناخت نعشیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ رضاکار نے بتایا کہ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے بعض مقامی جنگجوؤں نے سرکاری فوج کے کالونی میں داخلے پر اپنے گھر اور ٹھکانے چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا جس کے باعث خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ نعشیں انہی افراد کی ہیں۔
ادھرشام کی انقلاب جنرل کونسل نے ملک کے مختلف حصوں میں 134 مقامات پر گولا باری مانیٹر کی ہے۔ اس گولا باری میں ہلکے اور بھاری دونوں طرح کے ہتھیار استعمال کئے گئے۔ شامی انقلاب کونسل کی جنرل باڈی نے ادلب میں معرہ النعمان کے مغربی محاذ پر جھڑپوں اور اپوزیشن جنگجوؤں کے ‘الطراف’ چوکی پر حملے کے بعد جیش الحر کی پیش قدمی کی تصدیق کی ہے۔
آخری اطلاعات آنے تک شہر کے مشرقی محاذ اور وادی الضیف کے مغرب میں لڑائی جاری تھی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ

آپ کی رائے