ممتاز سنی عالم دین شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہاہے ایران کو متعدد بحرانوں کا سامنا ہے اوراس کثیرالقومی ملک میں جہاں متعدد مسالک وخیالات کے پیروکار رہتے ہیں کسی مخصوص جماعت، مسلک اور نسل کی حکمرانی قومی مفادات کے خلاف ہے۔
ایرانی بلوچستان کے ساحلی شہر ’چابہار‘ کی جامع مسجد میں یکم دسمبر 2012ء میں ہزاروں شہریوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزیدکہا: مجھ سمیت تمام سنی علمائے کرام نے چابہار میں رونما ہونے والے خودکش حملوں کی شدید مذمت کی ہے؛ ہمارا خیال ہے اپنے حقوق کو پرامن طریقوں سے مطالبہ کرنا چاہیے، ہم تشدد اور رہزنی کے مخالف ہیں۔ لیکن اس بات کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم اپنے آئینی اور جائز حقوق سے دستبردار ہوں گے!
ایران میں متعدد مسالک و جماعتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں؛ تجربہ سے ثابت ہوا ہے یہاں کسی خاص گروہ کا سکہ دیر تک نہیں چل سکتا۔ موجودہ مسائل و بحرانوں کے تناظر میں ملک کو مزید اتحاد ویکجہتی کی ضرورت ہے۔ قومی اتحاد فراخدلی و دوراندیشی ہی سے حاصل ہوسکتاہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے ایرانی اہل سنت کے وجود کو ریاست ایران کیلیے ’بہترین موقع‘ قرار دیتے ہوئے کہا: حکام کو چاہیے اپنے سنی ہم وطنوں کی صلاحیتوں سے استفادہ کریں؛ ان کے اپنے علاقوں میں بھی اور مرکزی شہروں میں بھی انہیں خدمت کا موقع فراہم کریں۔ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ایرانی سنی برادری کے تھوڑے افسران اور ذمے دار افراد نے دیانتداری سے کام کیاہے۔ سنی برادری کا وجود حکام کیلیے موقع ہے اور اس سے ان کا امتحان بھی ہوگا۔
انہوں نے مزیدکہا: ایرانی اہل سنت اپنے دین ’اسلام‘ سے محبت کرتے ہیں اور اپنے وطن کے وفادار ہیں۔ سنی قوم اپنے وطن کی عزت و سربلندی چاہتے ہیں۔ اہل سنت ایران کا خیال ہے شیعہ وسنی برادریوں کو بھائی چارہ اور امن سے ایک دوسرے کے ساتھ رہنا چاہیے۔ انہیں ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے اور انصاف و عدل کا نفاذ ضروری ہے۔ جہاں تک ہمارے لیے ممکن ہو ہم خطے کے امن کیلیے کوشش کریں گے اور کسی کو انتشار پھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
فلسطین کی نئی کامیابی بہادر قوم کے ’تولدِ نو‘ ہے
اپنے عہدساز بیان کے ایک حصے میں عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین کے رکن نے کہا: فلسطین کو دنیا کے اکثر ملکوں نے اقوام متحدہ میں ’غیررکن مبصر ریاست‘ کے طور پر تسلیم کیاہے جو اس بہادر قوم کیلیے نئی پیدائش ہے۔ یہ واقعہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
انہوں نے مزیدکہا: فلسطینیوں کی مکمل کامیابی کا راز رجوع الی اللہ میں ہے؛ ’حماس‘ کے سرکردہ رہنما خالدمشعل سے ایک ملاقات میں بندہ نے ان سے گزارش کی تھی کہ فلسطینی قوم کو اجتماعی طور پر اللہ کی طرف لوٹ جانا چاہیے۔ انہیں مساجد، سڑکوں اور پارکوں سمیت ہرجگہ باجماعت نماز کا اہتمام کرنا چاہیے۔ یوں ان کی کامیابی جلد سے پایہ تکمیل تک پہنچے گی۔
چابہاری عوام کو مخاطب کرتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام نے کہا: چابہار کے معزز شہریو! آج پوری دنیا خاص کر مشرق وسطی اور مسلم ممالک میں لوگ بیدار و ہوشیار ہوچکے ہیں۔ امیدہے اللہ تعالی انصاف پسند اور اسلام دوست تحریکوں کو کامیابی سے ہمکنار فرمائے۔ یہ انتہائی اچھی خبر ہے کہ اب مصر میں خواتین اینکرپرسنز حجاب کے ساتھ ٹی وی میں ظاہر ہوسکتی ہیں اور وہاں کے نئے آئین کی بنیاد اسلامی قوانین و شریعت قرار پاچکی ہے۔ اگر شرعی قوانین کا نفاذ اچھے طریقے سے عمل میں لایاجائے تو یہ سب کیلیے فائدہ مند ہوگا۔ اسلامی قوانین میں جمہوریت اور مکمل آزادی پائی جاتی ہے۔
اپنے عوامی خطاب کے آخرمیں مہتمم دارالعلوم زاہدان نے کہا: اللہ سبحانہ وتعالی ہی نے حسنی مبارک اور قذافی جیسے آمروں کو تخت سے تختہ تک پہنچادیا اور اس طرح انہیں نشانِ عبرت بنادیا کہ ان کے وہم و گمان کے کسی کونے میں بھی نہیں آیاتھا۔

آپ کی رائے