شیخ الاسلام مولاناعبدالحمید کے سفرحج پرپابندی

شیخ الاسلام مولاناعبدالحمید کے سفرحج پرپابندی

ممتازسنی عالم دین شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید کے متوقع سفرحج پر ایرانی سکیورٹی اداروں نے پابندی عائدکردی۔

خطیب اہل سنت زاہدان مولاناعبدالحمیدکے دفترکی آٖفیشل ویب سائیٹ نے رپورٹ دی ہے کہ ایرانی حکام نے حضرت شیخ الاسلام کے پاسپورٹ تین سالوں تک اپنے قبضے میں رکھنے کے بعد اس سال وعدہ کیاتھا انہیں حرمین شریفین کی زیارت اور حج کے روحانی سفرکی اجازت دیں گے؛ لیکن ایسے وقت میں ان کاپاسپورٹ واپس دلوایا گیا جب حج ویزا کے اجرا کا وقت ختم ہوچکاتھا۔

رپورٹ کے مطابق مولاناعبدالحمیدکوبعض صوبائی سکیورٹی حکام نے تہران پہنچنے کاکہاتھا تاکہ ان کاپاسپورٹ واپس دیاجائے لیکن جب بدھ سترہ اکتوبر کو مولاناعبدالحمید تہران پہنچے تو کئی گھنٹوں تک ان کا پاسپورٹ نہیں دیاگیا یہاں تک کہ پوری دنیامیں تمام سعودی سفارتخانوں اور قونصل خانوں نے حج ویزا کے اجرا کا سلسلہ باقاعدہ بندکردیا۔

مولاناعبدالحمیداسماعیلزہی اور بعض دیگر سرکردہ سنی شخصیات کے پاسپورٹس کو تین سال قبل ایرانی سکیورٹی حکام نے اپنے قبضے میں لیکر ان کے باہرملک جانے پر پابندی عائد کردی تھی۔ اس دوران ممتازسنی شخصیات نے انتھک کوشش کی تاکہ کم ازکم حج کے مبارک سفر پرجانے کی اجازت حاصل کرسکیں لیکن انہیں روک دیاگیا۔

رپورٹس کے مطابق عالمی اتحادبرائے علمائے مسلمین کے رکن مولاناعبدالحمید جمعہ انیس اکتوبر دوہزاربارہ کو مقامی وقت کے مطابق رات کے 20.45بجے زاہدان ایئرپورٹ پہنچے جہاں سینکڑوں شہریوں نے ان کاشاندار استقبال کیا۔ استقبال کے لیے آنے والے شہریوں نے حضرت شیخ الاسلام کو دیکھتے ہی ایئرپورٹ کی حدودمیں’اللہ اکبر‘ کے فلک شگاف نعرے لگائے۔بعدمیں ان کا قافلہ جامع مسجدمکی پہنچا جہاں آپ نے دعاکی تاکہ حرمین شریفین میں حاضر حجاج کے ثواب میں شریک ہوں۔حضرت شیخ الاسلام کی زیارتِ حرمین پر پابندی نے عوام کو سخت پریشان کیا ہے جس سے ان کے جذبات مجروح ہوچکے ہیں۔

یادرہے زاہدانی عوام کی بڑی تعداد اس حال میں ایئرپورٹ جمع ہوچکی تھی کہ عوام کو باقاعدہ ان کی فلائیٹ کے وقت کے بارے میں اطلاع نہیں دی گئی تھی، لیکن ذمے دار شہریوں نے اپنے قائد کے سفرحج پرممانعت کے خلاف احتجاج کوضروری سمجھا اور اللہ اکبر کے پرسوزنعروں سے حرمین سے اپنے عشق کا اظہارکیا۔

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین