اسلام آباد (العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں) پاکستانی وفاقی کابینہ کے رکن اور وزیرِ ریلوے حاجی غلام احمد بلور نے دلآزار امریکی فلم کے پروڈیوسر کو گستاخِ رسول قرار دیتے ہوئے اسے قتل کرنے والے کو ایک لاکھ ڈالرز کا انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔
خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاورمیں ہفتے کے روز ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلورنے اعلان کیا کہ وہ دلآزار فلم کے خالق کو قتل کرنے والے شخص کو ایک لاکھ امریکی ڈالر انعام میں دیں گے۔ اُن کا کہنا تھا کہ گستاخِ رسول کو اگر طالبان اور القاعدہ والے بھی کیفرِ کردار کو پہنچائیں گے تو وہ انعام کی رقم انہیں دیں گے۔
مسٹر بلور کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ صاحب حیثیت لوگ گستاخ رسول کو قتل کرنے والے کے لیے بڑے انعامات کا اعلان کریں۔ وفاقی وزیرِ ریلوے کا کہنا تھا اگر قتل پراکسانا جرم ہے تو وہ اس جرم کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس جرم پر کوئی انہیں عالمی عدالت سے سزا دلوانا چاہے تو وہ بخوشی تختہ دار سے لٹک کر نعرہ تکبیر لگائیں گے۔
واضح رہے کہ بلورکا تعلق پشاور کے قدیم کاروباری گھرانے سے ہے۔ ان کے بھائی بھی پارلیمنٹ کے رکن اور سرگرم کاروباری شخصیت ہیں۔
گزشتہ روز امریکی فلم کے خلاف احتجاج کے دوران پشاور میں تین سنیماؤں کو نذرِ آتش کردیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ سنیما بلور خاندان کی ملکیت تھے۔
قاتل کے لیے بھاری انعام کا اعلان کرنے والے وفاقی وزیر کا سیاسی تعلق ترقی پسند اور بائیں بازو کی حامی سمجھی جانے والی حکومت کی اتحادی عوامی نیشنل پارٹی سے ہے۔ صوبہ خیبر پختونخواہ میں اسی جماعت کی حکومت ہے۔
گزشتہ کئی برسوں سے خیبر پختونخواہ دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ ان کی جماعت طالبان اورالقاعدہ کو دہشت گرد قرار دیتی ہے۔
’اسلام مخالف فلم ساز کے قتل پر انعام کی مذمت‘
بی بی سی: پاکستان کے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے حکمران اتحاد میں شامل عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور وفاقی وزیر ریلوے کی جانب سے پیغمبرِ اسلام کے بارے میں توہین آمیز فلم بنانے والے فلم ساز کے قتل کرنے پر انعام دینے کے اعلان کی مذمت کی ہے۔
وزیر اعظم ہاؤس کے ترجمان شفقت جلیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر ریلوے کے بیان سے حکومت کا’قطعاً کوئی تعلق نہیں‘ ہے۔
وفاقی وزیر ریلوے غلام احمد بلور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ جو شخص متنازع فلم ساز کو جو بھی قتل کرے گا وہ اسے ایک لاکھ ڈالر انعام دیں گے۔
وزیراعظم کے ترجمان کے مطابق’وزیر ریلوے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ہیں اور وزیراعظم آئندہ کے اقدام کے لیے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ سے بات کریں گے، وزیر ریلوے کے خلاف کسی کارروائی سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن ابھی وہ اپنے عہدے پر کام کرتے رہیں گے۔‘
پاکستان کی مرکزی حکومت میں اتحادی جماعت عوامی نیشنل عوامی پارٹی کا بھی کہنا ہے کہ ان کی جماعت سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر غلام احمد بلور کا متنازع فلم ساز کو قتل کرنے والے کو انعام سے متعلق بیان پارٹی پالیسی نہیں ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر اور مرکزی ترجمان زاہد خان نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی کا موقف ہے کہ حکومت کو اقوام متحدہ میں یہ مسئلہ اٹھانا چاہیے اور توہینِ مذہب کے حوالے سے قانون سازی پر زور دینا چاہیے۔ اے این پی ترجمان نے کہا کہ وفاقی وزیر برائے ریلوے لام احمد بلور نے یہ بیان ذاتی حیثیت میں دیا ہے۔
اس کے علاوہ اے این پی کی ممبر قومی اسمبلی بشریٰ گوہر نے کہا کہ یہ پارٹی پوزیشن نہیں ہے اور یہ غلام احمد بلور کا خالصتاً ذاتی بیان ہے۔
اس سے قبل سنیچر کو پشاور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ کسی کو قتل کرنے کی ترغیب کرنا ایک جرم ہے لیکن جو بھی اس فلم بنانے والے کو قتل کرے گا اس کو ایک لاکھ ڈالر انعام دوں گا۔
وفاقی وزیر نے مغربی ممالک سے مطالبہ کہ پیغمبرِ اسلام کے خلاف فلمیں بنانے کے خلاف قوانین بنائے جائیں۔ ’ایسے ممالک جہاں اس قسم کی فلمیں بنائی جاتی ہیں میں ان کو کہتا ہوں کہ خدارا آزادی اظہارِ رائے اپنی جگہ لیکن اس حوالے سے قوانین بنائیں۔‘
واضح رہے کہ پیغمبرِ اسلام کے بارے میں امریکہ میں توہین آمیز فلم بنانئے جانے کے خلاف پاکستان سمیت کئی اسلامی ممالک میں احتجاج جاری ہیں۔
حکومتِ پاکستان نے جمعہ کو ’یومِ عشقِ رسول‘ منانے کے لیے ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا تھا اور ملک کے مختلف شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ جمعہ کی صبح سے ہی شروع ہو گیا تھا اور نمازِ جمعہ کے بعد ان میں شدت آ گئی تھی۔ ان مظاہروں میں پاکستان بھر میں انیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

آپ کی رائے