نیویارک(ڈی ڈبلیو) اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے شام کے لیے خصوصی مندوب کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ ادھر شام میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور گزشتہ روز بھی مزید کم ازکم پچاس افراد ہلاک کر دیے گئے۔
اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے شام کے لیے خصوصی مندوب کوفی عنان نے نیو یارک میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہےکہ شام کے حوالے سے سلامتی کونسل میں مستقل اختلافات کی وجہ سے وہ اپنا کام جاری نہیں رکھ سکتے۔ انہوں نے شام کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صدر بشار الاسد یا ان کی اپوزیشن کو کسی سیاسی حل پر مجبور کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ سلامتی کونسل کے ایماء پر ہی شام میں صدر بشار الاسد اور اپوزیشن کے مابین مصالحت کی غرض سے نوبل امن انعام یافتہ کوفی عنان کو فروری میں خصوصی مندوب نامزد کیا گیا تھا۔ تاہم بعد میں شام میں قیام امن کے لیے پیش کی جانے والی تجاویز پر سلامتی کونسل میں اختلافات پیدا ہونے شروع ہو گئے۔ چین اور روس کی جانب سے شام کے حوالے سے پیش کی جانے والی تین قراردادوں کو ویٹو کیا جا چکا ہے۔
اس صورتحال میں اپنے عہدے سے الگ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کوفی عنان نے زور دیا کہ شام میں قیام امن کے لیے عالمی برادری کا متحد ہونا ناگزیر ہے ورنہ شام مزید تباہی کی طرف جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلد یا بدیر شامی صدر بشار الاسد کو اقتدار سے الگ ہونا پڑے گا۔ انہوں نے امریکی اور روسی صدور پر زور دیا کہ وہ شام کے حوالے سے اپنے اختلافات دور کرتے ہوئے اس ملک کو بدترین خانہ جنگی سے بچا لیں۔
کوفی عنان کے چھ نکاتی پروگرام کے تحت شام میں فائر بندی کے معاہدے کی نگرانی کرنے کے لیے اپریل میں تین سو امن مبصرین بھی تعینات کیے گئے تھے۔ تاہم بعد ازاں شامی صدر کی حامی افواج اور باغیوں کے مابین مسلح تصادم شروع ہو گیا اور فائر بندی کے اس معاہدے پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے جمعرات کو نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کوفی عنان کے استعفے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عنان اپنے عہدے کی مدت میں توسیع نہیں چاہتے۔
بان کی مون نے کہا کہ کوفی عنان نے انہیں اور عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نبیل العربی کو اپنے استعفے سے مطلع کر دیا ہے۔ بان کی مون نے کہا کہ اقوام متحدہ کی کوشش ہے کہ وہ جلد ہی کسی دوسری شخصیت کو ان ذمہ داریوں کے لیے منتخب کر لے۔ گزشتہ چھ ماہ سے اس عہدے پر تعینات کوفی عنان اکتیس اگست کو اس عہدے سے الگ ہو جائیں گے۔
امریکا نے کوفی عنان کے استعفے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ظاہر ہو گیا ہے کہ روس اور چین شامی صدر بشار الاسد کے خلاف مناسب کارروائی میں تعاون کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔
ادھر شامی شہر حلب میں قبضے کے لیے ملکی فوج اور باغیوں کے مابین لڑائی کا سلسلہ جاری ہے۔ خبر رساں ادارے اے پی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ جمعرات کو باغیوں نے ٹینکوں کے ساتھ حکومتی ایئر بیس پر حملہ کیا۔ بتایا گیا ہے کہ باغیوں نے یہ ٹینک حکومتی دستوں سے ہی چھینے تھے۔
دوسری طرف خبر رساں ادارے روئٹرز نے بتایا ہے کہ حماء میں گزشتہ روز ملکی فوج کی ایک کارروائی کے نتیجے میں کم ازکم پچاس افراد ہلاک ہو گئے۔ ہلاک شدگان میں اکیس افراد کا تعلق ایک ہی گھرانے سے تھا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق حلب، حماء اور دمشق کے علاوہ دیگر کئی علاقوں میں بھی باغیوں اور ملکی فوج کے مابین جھڑپیں جاری ہیں۔

آپ کی رائے