ممتاز دینی ادارہ، عین العلوم گشت سراوان، کے مہتمم شیخ الحدیث مولانا محمدیوسف حسین پور دامت برکاتہم نے اپنے بیان کا آغاز سورت الفتح کی آخری آیات کی تلاوت سے کرتے ہوئے ’صحابہ کرام‘ کے مقام کے بارے میں گفتگو کی۔
اکیسویں تقریب ختم بخاری و دستاربندی دارالعلوم زاہدان کے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا: تلاوت کی گئی آیات میں اللہ تعالی نے نبی کریمﷺ کی بعثت کا مقصد بیان فرمایاہے۔ اللہ سبحانہ وتعالی نے دین حق اور کامل ہدایت کے ساتھ آپ ﷺ کو بھیجا تاکہ دیگر ادیان پر اسلام غالب آجائے۔ تمام مورخین و دانشوروں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جس دور میں نبی اکرمﷺ مبعوث ہوئے پوری دنیا جہل ونادانی کے اندھیرے میں تھی۔ انسانیت ہر جہت سے ذلت و خواری کا شکار تھی۔ عیسائی و یہودی اور حجاز کے عرب سب کفر و شرک کا ارتکاب کررہے تھے اور گہری گمراہی میں مبتلا تھے۔
حضرت شیخ الحدیث نے مزیدکہا: ایسے بحرانی حالات میں آپﷺ مبعوث ہوئے۔ آپﷺ نے تئیس سال تک مسلسل جد وجہد کی تاکہ اسلام کا بول بالا ہو۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس دوران میں صرف جزیرۃ العرب مکمل طور پر دائرہ اسلام میں داخل ہوا۔ لیکن آپﷺ کے وصال کے بعد ایک شورش بپا ہوئی اور کئی قبائل نے بغاوت کا علم بلندکیا۔ مانعین زکات اور مسیلمہ کذاب کے گروہ نے اسلام کو کمزور کرنے کی سرتوڑ کوششیں کیں لیکن خلفائے راشدین نے ان کی سازشوں کو ناکام بنادیا۔
مولانا حسین پور نے وفات النبیﷺ کے بعد اٹھنے والی بغاوت کوکچلنے میں خلفائے راشدین کے اہم کردار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: جب تمام مسلمان نبی کریمﷺ کے فقدان کے غم میں تھے اور انہیں سخت پریشانی کا سامنا تھا حضرت ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ نے تمام فتنوں کو ختم کرنے کیلیے کمرہمت باندھ لی۔ آپؓ نے مرتدین اور مانعین زکات کو کسی لچک کے بغیر سیدھا کرکے تمام اسلام دشمن عناصر کو واضح پیغام دیا۔ اللہ تعالی نے خلیفہ اول اور اس کے ساتھی صحابہؓ کے ذریعے تمام فتنوں کو ختم کرایا۔ یہ وہی کردار ہے جو قرآن پاک میں اس کی تشریح آئی ہے: « وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا»
صحابہ کرام نے دنیا میں وہ کام کیا جو نبی کریمﷺ نے حجاز میں کیا اور اس طرح اسلام غالب دین بن گیا۔ حق کا بول بالا ہوگیا اور مسلمانوں کو بالادستی حاصل ہوگئی۔
آخرمیں عین العلوم گشت کے سرپرست نے کہا: اللہ تعالی نے جو وعدہ انبیائے کرامؑ کو دیا تھا وہی وعدہ صحابہ رسولﷺ کو دیا؛ اللہ نے زمین پر انہیں خلافت عطا فرمائی اور ان کے ذریعے دنیا میں اپنا پسندیدہ دین ناٖفذ کرایا۔ اللہ تعالی نے خلفائے راشدین کے توسط سے ’اقامہ دین‘ کی مہم کو کامیاب کرایا۔
SunniOnline.us

آپ کی رائے