کوئٹہ(جنگ نیوز) سپريم کورٹ کوئٹہ رجسٹري ميں بلوچستان امن و امان اور لا پتہ افراد کے حوالے سے کيس کي سماعت جاري ہے اور چيف جسٹس افتخار محمد چوہدري کي سربراہي ميں لارجر بينچ سماعت کر رہا ہے.
سماعت کے دوران چيف جسٹس نے پرنسپل سيکريٹري ، سيکريٹري دفاع ،داخلہ کے نہ آنے پر اظہاربرہمي کرتے ہوئے ريمارکس ديئے کہ ايجنسيوں پر سيريس الزامات ہيں اوروفاق دلچسپي نہيں لے رہا. انہوں نے اپنے ريمارکس ميں کہا کہ ايف سي کے خلاف 80فيصد الزامات ہيں.
چيف جسٹس نے ڈپٹي اٹارني جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 4 ماہ سے آرہے ہيں ليکن آپ بے بس ہيں، زمين سے لائيں، آسمان سے لائيں، لاپتاافراد بازياب کريں. اس موقع پر ڈپٹي اٹارني جنرل ملک سکندر نے اپنے مستعفي ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ميں گردش ايام کي وجہ سے ڈپٹي اٹارني جنرل بنا.
چيف جسٹس نے ريمارکس ديئے کہ يہ آپ کے گردش ايام نہيں، يہ لاپتا افراد کے لواحقين کي گردش ايام ہيں جو باہر بيٹھے ہيں، آپ تو اپنے بچوں سے ملکر آرہے ہيں جبکہ باہر لوگ چيخ رہے ہيں. اس پر ڈپٹي اٹارني جنرل ملک سکندر کا کہنا تھا کہ اب ميں عدالت ميں 5منٹ بعدوکيل کي حيثيت سے پيش ہونگا.

آپ کی رائے