دمشق(العربیہ ڈاٹ نیٹ) شام کے دوسرے بڑے شہر حلب میں صدر بشارالاسد کے خلاف گذشتہ سال مارچ سے جاری احتجاجی تحریک کاسب سے بڑا مظاہرہ کیا گیا ہے جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ہے۔
لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ حلب میں نماز جمعہ کے بعد ہزاروں افراد نے سڑکوں پر آکر صدر بشارالاسد کے خلاف نکالے گئے احتجاجی جلوس میں شرکت کی اوران کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔وہ ان سے اقتدار چھوڑنے اور مظاہرین پر جبروتشدد کی کارروائیاں ختم کرنے کا مطالبہ کررہے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ شام کے دوسرے شہروں میں بھی ہزاروں افراد نے صدر بشارالاسدکی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی ہے۔ حکومت مخالف کارکنان نے حلب کے طلبہ کی حمایت میں ملک بھر میں احتجاجی جلسے جلوسوں اور ریلیوں کی اپیل کی تھی۔جامعہ حلب اور دوسرے تعلیمی اداروں کے طلبہ نے سرکاری سکیورٹی فورسز کی جبروتشدد کی کارروائیوں کے باوجود حلب میں جمعرات کو صدر بشارالاسد کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔
درایں اثناء اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی کوفی عنان کے ترجمان احمد فوزی نے میں کہا ہے کہ کوفی عنان بہت جلد دمشق کے دورے پر روانہ ہونے والے ہیں۔البتہ ابھی اس دورے کی تاریخ طے نہیں کی گئی۔شام کا خصوصی نمائندہ مقرر ہونے کے بعد کوفی عنان کا شام کا یہ دوسرا دورہ ہوگا۔
احمد فوزی نے جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سکیورٹی وجوہ کی بنا پر اس دورے کی تاریخوں کا اعلان کرنے سے گریز کیا اور صرف یہ کہا کہ کوفی عنان شام کے دورے کی دعوت پر غور کررہے ہیں اور یہ دورہ جلد ہوگا۔
گولہ باری جاری
ادھر شام کے مختلف شہروں میں سرکاری سکیورٹی فورسز کی تشدد آمیز کارروائیاں جاری ہیں اور وسطی شہر حمص کے شمال میں واقع قصبے الرستن میں سرکاری فورسز نے شدید گولہ باری کی ہے۔
مقامی کارکنان کے مطابق جمعہ کی صبح الرستن کے رہائشی علاقے میں متعدد گولے آکر گرے ہیں جس کے نتیجے میں آٹھ افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔شامی انقلابی کونسل نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ دارالحکومت دمشق کے علاقے تدامون میں بھی ایک بم دھماکا ہواہے جس کے بعد شدید فائرنگ کی آوازیں سنائی دی ہیں۔

آپ کی رائے