اسلام آباد (العربیہ ڈاٹ نیٹ) پاکستان کے وزیر داخلہ عبدالرحمان ملک کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن کی تین بیواٶں پر ملک میں غیر قانونی داخلے کے الزام میں فرد جرم عاید کر دی گئی ہے۔
پاکستانی حکام نے شمال مغربی شہر ایبٹ آباد میں 2مئی 2011ء کو امریکی نیوی کی سیلز ٹیم کی چھاپہ مار کارروائی میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد ان کی تین بیواٶں اور کم سے کم دس بچوں کو حراست میں لے لیا تھا اور اس وقت بھی انھیں کسی خفیہ ٹھکانے میں زیر حراست رکھا جا رہا ہے۔
وزیر داخلہ عبدالرحمان ملک نے اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں غیر قانونی داخلے کے الزام میں صرف بالغوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ انھیں اپنے دفاع کے لیے وکیل کی خدمات حاصل کرنے اور اس اقدام کے خلاف عدالت جانے کا حق حاصل ہے۔
عبدالرحمان ملک نے کہا کہ اسامہ بن لادن کے بیوی بچوں کو پانچ کمروں پر مشتمل ایک گھر میں رکھا جا رہا ہے اور وہاں انھیں ہر طرح کی مناسب سہولتیں حاصل ہیں۔اگر ان کی مائیں رضا مند ہوں تو وہ اپنے آبائی ممالک کو جانے کے لیے بھی آزاد ہیں۔
اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کی تحقیقات کرنے والے ایبٹ آباد کمیشن نے گذشتہ سال ان کی بیواٶں اور بیٹیوں کے بیانات ریکارڈ کیے تھے۔یہ کمیشن القاعدہ کے سربراہ کی سالہا سال سے پاکستان میں موجودگی، ان کے امریکیوں کے ہاتھوں قتل اور اس کے مضمرات کے حوالے متعلقہ افراد اور اداروں کے نمائندوں کے بیانات ریکارڈ کر رہا ہے.
جنوری میں اسامہ بن لادن کے یمنی برادر نسبتی زکریا السادہ نے اپنی بہن امل السعادہ کو پاکستان کی جانب سے غیر معینہ مدت کے لیے حراست میں رکھنے کے خلاف احتجاج کیا تھا اور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔
زکریا السادہ نے “العربیہ” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی حکام نے ان تینوں خواتین سے تحقیقات کا عمل مکمل کرلیا ہے لیکن اس کے باوجود انھیں اپنی حراست میں رکھا ہوا ہے اور انھیں رہا نہیں کیا جا رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ القاعدہ کے لیڈر کی تینوں بیواٶں، ان کے بچوں اور پوتے پوتیوں کو پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک مکان میں قابل رحم حالات میں رکھا جا رہا ہے۔ اس مکان میں سورج کی روشنی نہیں پہنچتی اور تمام زیر حراست افراد بڑے بُرے نفسیاتی حالات میں رہ رہے ہیں جبکہ میری بہن کی ٹانگ میں لگا زخم ابھی تک ٹھیک نہیں ہوا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی نیوی سیلز کی چھاپہ مار کارروائی کے دوران انتیس سالہ امل السادہ ٹانگ میں گولی لگنے سے زخمی ہو گئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں یمنی سفارت خانے سے ملنے والی معلومات کے مطابق وزیر داخلہ عبدالرحمان ملک اسامہ بن لادن کے خاندان کی رہائی میں رکاوٹ ہیں اور انھوں نے اس کا کوئی جواز بھی پیش نہیں کیا۔
پاکستانی حکام نے گذشتہ سال کہا تھا کہ اسامہ بن لادن کی تین بیواٶں اور ان کے بچوں کو ان کے آبائی ممالک کے حوالے کر دیا جائے گا۔ اسامہ کی ایک بیوہ کا تعلق یمن اور دو کا سعودی عرب سے ہے۔پاکستان نے ان خواتین اور بچوں کی واپسی کے لیے ان دونوں ممالک سے رابطے کیے تھے لیکن ان دونوں ممالک نے سرکاری طور پر ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا تھا جس سے یہ ظاہر ہو کہ وہ اسامہ کی بیواٶں اور ان کے بچوں کو قبول کرنے کو تیار ہیں۔

آپ کی رائے