نیویارک / لندن(ثناءنیوز ) امریکی کارپوریٹ سیکٹر کی ‘لالچ’ کے خلاف آواز اٹھانے والے سماجی کارکنوں نے وال اسٹریٹ پر دوبارہ دھرنے کا اعلان کیا ہے. ادھر برطانوی شہر مانچسٹرمیں ہزاروں افراد نے بجٹ کٹوتیوں کے خلاف مظاہرے میں حصہ لیا۔
امریکی اقتصادی مرکز نیویارک میں ‘Occupy Wall Street’ نامی تحریک سے وابستہ نوجوان گزشتہ 3ہفتوں سے فعال ہیں۔ نیو یارک پولیس 700 مظاہرین کو اس الزام پر حراست میں لے کر رہا کر چکی ہے کہ انہوں نے وال اسٹریٹ پر مظاہرے کا اجازت نامہ نہیں لیا تھا۔ مظاہرے کے منتظمین نے اعلان کیا ہے کہ اب کل وال اسٹریٹ پر ایک بار پھر دھرنا دیا جائے گا۔
عرب دنیا کے حالیہ جمہوری انقلابات سے متاثرہ امریکی نوجوانوں کی اس تحریک میں بڑے امریکی تجارتی اداروں اور امریکی سیاست میں ان کے اثر ورسوخ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بے روزگاری اور مہنگائی سے تنگ آئے ہوئے ان نوجوانوں کا موقف ہے کہ امریکی حکومت بڑے مالیاتی اداروں کو بیل آوٹ پیکجز دے رہی ہے اور عوام کا کوئی خیال نہیں رکھا جا رہا۔
خبر رساں ادارے رائٹرزکے مطابق امریکی کارپوریٹ سیکٹر کے خلاف عوامی احتجاجات کا سلسلہ نیویارک سے نکل کر اب دارالحکومت واشنگٹن، بوسٹن، شکاگو، سان فرانسسکو ‘لاس اینجلس اور نیو میکسیکو شہر تک پھیل چکا ہے۔
ادھر برطانیہ میں مزدور اتحاد سے تعلق رکھنے والے قریب 35 ہزار افراد نے حکومت کی جانب سے بجٹ میں کٹوتیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ نوکریوں اور انصاف کے مطالبے والے اس مظاہرے کے لیے مانچسٹرشہر کا انتخاب کیا گیا تھا، جہاں وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی قدامت پسند جماعت کنزرویٹوپارٹی نے اپنا سالانہ اجلاس شروع کیا ہے۔

آپ کی رائے