پُر تشدد مظاہروں کے خوف سے اردن میں اسرائیلی سفارتخانہ بند

پُر تشدد مظاہروں کے خوف سے اردن میں اسرائیلی سفارتخانہ بند

(العربیہ ڈاٹ نیٹ) اسرائیلی حکومت نے اردن میں فلسطینیوں کی حمایت اور اسرائیل کے خلاف پر تشدد مظاہروں کے خدشات کے پیش نظر عمان میں متعین اپنے سفیر اور دیگر سفارتی عملے کو واپس بلا لیا ہے۔
“العربیہ” ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز اسرائیلی میڈیا کے ذریعے سامنے آنے والی اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ تل ابیب نے عمان میں اپنا سفارت خانہ ہفتہ وار تعطیلات سے دو روز قبل ہی بند کر دیا ہے۔
عبرانی اخبار “ہارٹز” کے مطابق اُردن میں سفارت خانہ بند کرنے اور تمام سفارتی عملہ واپس بلانے کے احکامات براہ راست وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو اور وزیر خارجہ ایویگڈور لائبرمین نے دیے تھے، جس کے بعد سفارت خانہ بند کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدھ کو عمان میں امریکی سفارت خانے کے سامنے کوئی 70 افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر مظاہرین نے اسرائیل اور امریکا کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور امریکی و اسرائیلی پرچم بھی نذر آتش کیے گئے۔ مظاہرین اردن میں تعینات اسرائیلی سفیر کی بے دخلی کا مطالبہ کر رہے تھے۔
خیال رہے کہ عمان میں اسرائیلی سفارت خانے میں جمعرات اور جمعہ کو ہفتہ وار تعطیلات ہوتی ہیں اس ہفتے، منگل سے ہی صہیونی سفارت خانہ بند کر دیا گیا تھا۔
اُردن میں اسرائیلی سفارت خانہ ایک ایسے وقت میں بند کیا گیا ہے جب مصر میں گذشتہ جمعہ کو مشتعل مظاہرین نے قاہرہ میں صہیونی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا تھا۔ مظاہرین نے سفارت خانے کی چار دیواری گرا کر اس کا محاصرہ کر لیا تھا، جس پر سیکیورٹی فورسز کو مداخلت کر کے اسرائیلی سفارتی حملے کو بہ حفاظت باہر نکالنا پڑا تھا۔
یہ امر واضح رہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس کی جانب سے اس ماہ کے آخر میں فلسطینی ریاست کے لیے اقوام متحدہ سے رجوع کے موقع پر اردن اور فلسطین میں بڑے پیمانے پر فلسطینی ریاست کی حمایت اور اسرائیل کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا امکان دیکھا جا رہا ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین