سابق صدر پر مظاہرین کو ہلاک کرنے اور اپنے دور حکومت میں بدعنوانی کے الزامات ہیں جس کے تحت انھیں سزائے موت سنائی جا سکتی ہے۔
بدھ کو سابق صدر کوقاہرہ کی پولیس اکیڈیمی میں قائم ایک خصوصی عدالت میں پنجرہ نما ویل چیئر پر لایا گیا۔ حسنی مبارک کے بیٹے عالہ اور جمال، سابق وزیر داخلہ حبیب العدلی اور چھ دیگر سابق اہلکار بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
ادھر مصر میں سابق صدر کے حامیوں نے ان کے خلاف مقدمے کی کارروائی شروع ہونے پر احتجاج کیا۔ مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لیے تین ہزار پولیس اور فوجی اہلکاروں کو قاہرہ کی سڑکوں پر تعینات کیا گیا۔ صدر مبارک کے خلاف مصر میں احتجاج کے دوران ساڑھے آٹھ سو افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…