سابق صدر پر مظاہرین کو ہلاک کرنے اور اپنے دور حکومت میں بدعنوانی کے الزامات ہیں جس کے تحت انھیں سزائے موت سنائی جا سکتی ہے۔
بدھ کو سابق صدر کوقاہرہ کی پولیس اکیڈیمی میں قائم ایک خصوصی عدالت میں پنجرہ نما ویل چیئر پر لایا گیا۔ حسنی مبارک کے بیٹے عالہ اور جمال، سابق وزیر داخلہ حبیب العدلی اور چھ دیگر سابق اہلکار بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
ادھر مصر میں سابق صدر کے حامیوں نے ان کے خلاف مقدمے کی کارروائی شروع ہونے پر احتجاج کیا۔ مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لیے تین ہزار پولیس اور فوجی اہلکاروں کو قاہرہ کی سڑکوں پر تعینات کیا گیا۔ صدر مبارک کے خلاف مصر میں احتجاج کے دوران ساڑھے آٹھ سو افراد ہلاک ہوئے تھے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…