کوئٹہ کی انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور تنظیم کے رہنما صبغت اللہ عرف شاہ جی کو جولائی 2024 میں گوادر میں احتجاج کے دوران ایک ایف سی اہلکار کے قتل اور دہشت گردی کے مقدمے میں دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی ہے۔
انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر ایک کوئٹہ کے جج محمد علی مبین نے پیر کو سنائے گئے فیصلے میں دونوں ملزمان کو قتل اور دہشت گردی کے الزامات میں مجرم قرار دیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ دونوں عمر قید کی سزائیں بیک وقت چلیں گی۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ چونکہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے غیر قانونی اجتماع میں فعال شریک تھے اور مقتول ایف سی اہلکار شبیر احمد کے قتل کے مشترکہ مقصد میں شریک تھے لہٰذا دونوں ملزمان کو ‘قتل عمد ‘کا مجرم قرار دیا جاتا ہے۔ عدالت نے دونوں ملزمان کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 ب ، دفعہ 147 اور 148 کے تحت عمر قید کی سزا اور مقتول کے ورثا کو فی کس دو لاکھ روپے ادا کرنے کی سزا سنائی۔
فیصلے کے مطابق معاوضہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید چھ چھ ماہ قید کی سزا بھگتنا ہوگی۔
عدالت نے فیصلہ دیا کہ دونوں ملزمان بی وائی سی کے غیر قانونی اجتماع میں فعال شرکت انسداد دہشتگردی کی دفعہ 6 کے تحت دہشتگردی کی تعریف میں آتی ہے اسی لیے انہیں اسی ایکٹ کی دفعہ 7 اے کے تحت بھی مجرم قرار دیا جاتا ہے اور دونوں کو عمر قید کے ساتھ ساتھ دو دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی جاتی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ دونوں عمر قید کی سزائیں بیک وقت چلیں گی۔
یاد رہے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی اس وقت دیگر مقدمات میں پہلے ہی کوئٹہ کی ڈسٹرکٹ جیل میں مارچ 2025 سے قید ہیں۔
عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ
عدالتی فیصلے کے مطابق ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی نے مقدمے کی کارروائی میں حصہ نہیں لیا اور ٹرائل کا بائیکاٹ کیا۔ عدالت نے کہا کہ دونوں ملزمان کو ویڈیو لنک کے ذریعے متعدد مواقع فراہم کیے گئے تاہم انہوں نے کارروائی میں شرکت سے انکار کیا۔
عدالت نے قرار دیا گیا کہ ملزمان کو دفاع کے لیے سرکاری وکیل مقرر کیا گیا تاہم ملزمان نے سرکاری وکیل سے بھی مشاورت نہیں کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ملزمان کی دانستہ عدم شرکت مقدمے کو روکنے یا مؤخر کرنے کا جواز نہیں بن سکتی۔
ماہ رنگ بلوچ کے اہلخانہ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اس فیصلے کو سیاسی و عدالتی جبر اور عوامی مزاحمت کو دبانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کیا کہا؟
عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کی گئی میڈیکل رپورٹ، عینی شاہدین، مدعی مقدمہ اور تفتیشی افسر کے بیانات ایک دوسرے کی تائید کرتے ہیں اور ان میں ایسا کوئی بنیادی تضاد موجود نہیں جو مقدمے کو متاثر کرے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اگرچہ مقدمہ درج کرنے میں تقریباً سات گھنٹے کی تاخیر ہوئی تاہم حالات کے تناظر میں یہ تاخیر فطری تھی اور اس بنیاد پر استغاثہ کا مقدمہ مشکوک نہیں بنتا۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی نہ تو ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے اور نہ ہی کسی قانونی فریم ورک کے تحت تسلیم شدہ تنظیم۔ فیصلے کے مطابق آئین کا آرٹیکل 16 پرامن اجتماع کا حق دیتا ہے تاہم یہ حق قانون کے تحت عائد معقول پابندیوں سے مشروط ہے اور کوئی اجتماع اس وقت قانونی تحفظ سے محروم ہو جاتا ہے جب وہ پرامن اظہار کی حدود سے نکل کر غیر قانونی شکل اختیار کر لے۔
عدالت کے مطابق ایف سی اہلکار سرکاری فرائض انجام دے رہے تھے۔ انہیں عوامی طور پر ناجائز قبضہ کرنے والے قرار دیا گیا اور کھلے عام انہیں دشمن سمجھتے ہوئے حملے کا ہدف بنایا گیا تو ایسا اجتماع کسی صورت قانون کے تحفظ کا مستحق نہیں رہتا۔ یہ عمل انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔
یہ واقعہ جولائی 2024 میں اس وقت پیش آیا جب بلوچ یکجہتی کمیٹی نے گوادر میں ’بلوچ راجی مچی‘ کے نام سے اجتماع کا اعلان کیا۔ اجتماع سے ایک روز قبل مختلف علاقوں سے جانے والے قافلوں کو روکنے کے لیے بلوچستان کے متعدد اضلاع میں شاہراہیں بند کی گئیں جس کے نتیجے میں مختلف مقامات پر مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
مقدمہ کیا تھا؟
گوادر کے سٹی تھانے میں یہ مقدمہ جولائی 2024 میں ایف سی کے نائب صوبیدار بیت اللہ خان کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔ مقدمے میں قتل، بلوہ، ہنگامہ آرائی، جرم پر اکسانے، لاش کی بے حرمتی اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ سات شامل کی گئی تھیں۔
ایف آئی آر کے مطابق 29 جولائی 2024 کو گوادر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام جاری احتجاج کے دوران ایف سی اہلکاروں کی گشت پر مامور ایک ٹیم الجوہر سکول کے قریب پہنچی جہاں مظاہرین نے سڑک بند کر رکھی تھی۔
استغاثہ کا مؤقف تھا کہ اس موقع پر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اجتماع سے خطاب کر رہی تھیں اور انہوں نے مبینہ طور پر ہجوم کو ایف سی اہلکاروں کے خلاف اشتعال دلایا۔
ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ‘ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ انتہائی اشتعال انگیز تقریر کررہی تھیں جس کی وجہ سے سب لوگ انتہائی غصے میں تھے ہماری گاڑی کو دیکھتے ہی ماہ رنگ بلوچ نے ہماری طرف اشارہ کرتے ہوئے کرتے ہوئے کہا کہ ہماری زمین پر قابض لوگ آرہے ہیں مارو۔‘
ایف آئی آر کے مطابق ’یہ سنتے ہی بی وائی سے کے صبغت اللہ شاہ جی، زاہد حیدر، ملا جمیل،بالاچ قادر ،ابوبکر کلانچی، ملا جمیل اور دیگر افراد اپنے 30 ،40 شرپسند ساتھیوں کے ساتھ مل کر ہماری گاڑی پر پتھروں اور ڈنڈوں سے حملہ کردیا۔‘
استغاثہ کے مطابق حملے کے دوران ایف سی اہلکار شبیر احمد بلوچ اپنے ساتھیوں سے الگ ہو گئے۔ اس دوران مظاہرین کی جانب سے پتھروں اور ڈنڈوں کے وار سے ہونے والے تشدد کے نتیجے میں جان کی بازی ہار گئے۔ ایف آئی آر میں ملزمان پر لاش کی بے حرمتی کرنے اور اسے کچرے کے ڈھیر پر پھینکنے کا الزام بھی لگایا گیا۔
دیگر ملزمان کا کیا بنا؟
اس مقدمے میں ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی کے علاوہ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے چیئرمین بالاچ قادر بلوچ، ابوبکر کلانچی، زاہد حیدر، ملا جمیل اور دیگر افراد کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق بالاچ قادر بلوچ، ابوبکر کلانچی اور زاہد حیدر کا مقدمہ الگ ٹرائل کے لیے منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ ملا جمیل کو مفرور قرار دیا گیا ہے اور ان کے خلاف کارروائی الگ رکھی گئی ہے۔
اس مقدمے میں نعمان اسحاق کو بھی جنوری 2025 میں مدعی نائب صوبیدار کے ضمنی بیان کے ذریعے نامزد کیا گیا تھا اور الزام لگایا گیا تھا کہ خفیہ اطلاع کے مطابق ملزم نعمان نے ایف سی اہلکار کو پتھروں کے وار کرکے قتل کیا تاہم گوادر کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے فروری 2025 میں ناکافی شواہد کی بنیاد پر انہیں بری کر دیا تھا۔
موجودہ فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ بری ہونےوالے ملزم کا معاملہ دیگر ملزمان سے مختلف تھا کیونکہ انہیں واقعے کے 171 روز نامزد کیا گیا تھا اس کے برعکس دیگر ماہ رنگ بلوچ ، صبغت اللہ شاہ جی اور دیگر ملزمان کو وقوعہ کے روز ہی نامزد کیاگیا تھا۔
مارچ 2026 میں بلوچستان ہائی کورٹ کے حکم پر یہ مقدمہ گوادر سے کوئٹہ کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کو منتقل کیا گیا تھا۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی کون ہیں؟
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا تعلق لانگو قبیلے اور بلوچستان کے ضلع قلات سے ہے تاہم ان کا خاندان طویل عرصہ سے کوئٹہ میں رہائش پذیر ہے۔ وہ پیشے کے لحاظ سے میڈیکل ڈاکٹر ہیں۔ انہوں نے بولان میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی ہے۔
صبغت اللہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی رہنماؤں میں شامل ہیں اور تنظیم کے زیر اہتمام ریلیوں، احتجاجی دھرنوں اور عوامی اجتماعات میں فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ وہ شاہ جی کے نام سے معروف ہیں۔
صبغت اللہ کا تعلق بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تربت سے ہے ۔ ان کے والد مولانا عبدالحق بلوچ قومی اسمبلی کے سابق رکن ، بلوچستان کے معروف عالم دین، سیاستدان اور جماعت اسلامی بلوچستان کے سابق امیر رہے ہیں۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان کے ۱۱ جون ۲۰۲۶ء کے خطبہ جمعہ میں ملک…