اطالوی پارلیمانی کمیشن نے مجوزہ قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت خواتین پر عوامی مقامات پر اپنا چہرہ نقاب میں چھپانے پر پابندی عائد ہوگی۔
قانون کے مطابق برقعہ ، نقاب یا ایسا کوئی بھی کپڑہ جو چہرہ چھپائے ممنوع ہوگا۔
کمیشن کے مطابق عوامی مقامات پر چہروں کو چھپانا سیکیورٹی نکتہ نظر سے خطرہ ہے، جو خواتین اس قانون کی خلاف ورزی کریں گی ان پر جرمانہ عائد کیا جائے گا، جبکہ خواتین کو زبردستی نقاب پہننے پر مجبور کرنے والے افراد کو 1 سال قید کی سزا دی جاسکے گی۔
اس قانون کو اطالوی وزیراعظم سلویو برلیسکیونی کی قدامت پسند جماعت کے رکن نے پیش کیا۔
اسلامی تنظیموں نے اس پابندی کو غیرمنصفانہ اور فرد کی آزادی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اب یہ قانون جلد حتمی منظوری کے لئے پارلیمان کے ایوان زیریں میں پیش کیا جائے گا جہاں حکمران جماعت اسے منظور کرانے کے لئے تیار ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…