اطالوی پارلیمانی کمیشن نے مجوزہ قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت خواتین پر عوامی مقامات پر اپنا چہرہ نقاب میں چھپانے پر پابندی عائد ہوگی۔
قانون کے مطابق برقعہ ، نقاب یا ایسا کوئی بھی کپڑہ جو چہرہ چھپائے ممنوع ہوگا۔
کمیشن کے مطابق عوامی مقامات پر چہروں کو چھپانا سیکیورٹی نکتہ نظر سے خطرہ ہے، جو خواتین اس قانون کی خلاف ورزی کریں گی ان پر جرمانہ عائد کیا جائے گا، جبکہ خواتین کو زبردستی نقاب پہننے پر مجبور کرنے والے افراد کو 1 سال قید کی سزا دی جاسکے گی۔
اس قانون کو اطالوی وزیراعظم سلویو برلیسکیونی کی قدامت پسند جماعت کے رکن نے پیش کیا۔
اسلامی تنظیموں نے اس پابندی کو غیرمنصفانہ اور فرد کی آزادی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اب یہ قانون جلد حتمی منظوری کے لئے پارلیمان کے ایوان زیریں میں پیش کیا جائے گا جہاں حکمران جماعت اسے منظور کرانے کے لئے تیار ہے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…