ہوٹل پر ہونے والے اس خوفناک حملے کے نتیجے میں افریقی یونین کے 3فوجیوں سمیت8 افراد ہلاک ہوگئے۔ دھماکے کے بعد زمین پر ایک بڑا گڑھا پڑاگیا جس میں مبینہ خودکش حملہ آورکا تن سے سر جدا پڑاتھا۔
دریں اثناء صومالیہ میں اسلامی شریعت کے نفاذ کے لئے بر سرپیکار مسلح تنظیم الشباب نے اس حملے سمیت 2دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
دونوں دھماکوں کے فوراً بعد صومالی صدر نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے ایسی کارروائیاں ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتیں جبکہ ہماری سب سے پہلی اور اولین ترجیح سیکورٹی کے مسئلے کو حل کرناہے۔
برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ دارالحکومت موغادیشو کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب انتہائی محفوظ خیال کئے جانے والے علاقے میں بدھ کو صومالیہ کے صدرشیخ حسن محمد اور دورے پر آئے ہوئے کینیا کے وزیرخارجہ سام اونگیری مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس کررہے تھے کہ اس دوران ایک خودکش دھماکا ہوا تاہم صومالی صدر اور کینیا کے وزیرخارجہ اس میں محفوظ رہے لیکن اس کے نتیجے میں افریقی یونین کے 3فوجی اور5 دیگر افراد ہلاک ہوگئے۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار