غزہ میں 7 روز کی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد آج دوسرے روز بھی اسرائیلی حملے جاری ہیں۔
غزہ حکام کے مطابق گزشتہ روز سے اسرائیلی حملوں میں 240 فلسطینی شہید اور 650 زخمی ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی فورسز نے خان یونس کو نشانہ بنایا جہاں درجنوں مکانات تباہ ہو گئے۔
جنگ بندی ختم ہونے کے بعد سے اسرائیلی طیاروں کی جانب سے بم باری اور توپ خانے سے گولہ باری کا سلسہ جاری ہے جس میں خواتین اور بچے بھی نشانہ بن رہے ہیں۔
دوسری جانب صحافیوں کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پراٹیکٹ جرنلسٹس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ جنگ میں اب تک 61 صحافی مارے جا چکے ہیں۔
علاوہ ازیں یونیسیف نے کہا ہے کہ غزہ دنیا بھر میں بچوں کے لیے سب سے خطرناک جگہ بن چکا ہے، غزہ میں 7 روزہ جنگ بندی خوفناک خواب کے درمیان بچوں کے لیے امید کی کرن تھی۔
یونیسیف کا مزید کہنا ہے کہ غزہ میں بچوں کو انسانی بنیادوں پر پائیدار جنگ بندی کی ضرورت ہے، فریقین بچوں کی حفاظت اور مدد کو یقینی بنائیں۔
یونیسیف کا یہ بھی کہنا ہے کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق فلسطین اور اسرائیل کے تمام بچے امن اور بہتر مستقبل کے مستحق ہیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا…
قومی مفادات اور ایرانی عوام کی زندگی کو کسی دوسرے ملک یا قوم کے مفادات…