Categories: مشرق وسطی

امریکا میں گستاخانہ فلم پر جامعہ الازھر کی شدید مذمت

مصر (العربیہ ڈاٹ نیٹ ) امریکا میں نائن الیون کی گیارہویں برسی کے موقع پر ریلیز کی جانے والی ایک متنازعہ فلم جس میں مبینہ طور اسلام اور پیغمبر اسلام علیہ السلام کی توہین کی گئی ہے کی عالم اسلام میں شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ مصر کی سب سے بڑی دینی درسگاہ جامعہ لازھر نے اسے مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے اور فرقہ واریت پھیلانے کی سازش قرار دیتے ہوئے فلم پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔

 

جامعہ الازھر کا کہنا ہے کہ ‘‘محمد الرسول اللہ کے ٹرائل کا عالمی دن’’ کے نام سے تیار کی گئی یہ فلم کینہ پرور اور بیمار ذہنیت کے لوگوں کی اسلام دشمنی اور تعصب کا ایک واضح ثبوت ہے۔ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں اسلام اور پیغمبر اسلام کی شان میں گھٹیا گستاخانہ حرکات کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

ادھر عوامی جمہوریہ مصر کے مفتی اعظم ڈاکٹر علی جمعہ نے اپنے ایک بیان میں نائن الیون کی برسی کے موقع پرامریکی قبطیوں کی جانب سے گستاخانہ فلم ریلیز کرنے کی شدید مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ اسلام دشمن عناصر اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں سے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات سے کھیل رہے ہیں۔

مفتی اعظم نے مزید کہا کہ آزادی اظہار رائے الگ چیز ہے اور مقدس ہستیوں کی توہین بالکل الگ معاملہ ہے۔ اسلام سمیت دنیا کا کوئی مذہب مخالف مذہب کی شخصیات کی توہین کی اجازت نہیں دیتا اور نہ ہی کوئی مذہب ایسی شرمناک حرکات کو آزادی اظہار تسلیم کرتا ہے۔ یہ انسانی حقوق اور آزادی کا اظہار نہیں بلکہ عالمی حقوق کی سنگین پامالی ہے۔ مٹھی بھر شر پسند عناصر کرڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے کی مکروہ کوشش کر رہے ہیں۔

شیخ علی جمعہ نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور آزادی کے عالمی مبلغین سے مطالبہ کیا کہ وہ شر پسندوں کے ہاتھوں اسلام اور پیغمبر اسلام کی شان میں کی جانے والی گستاخیوں کا سلسلہ بند کرائیں۔ اخلاق باختہ گستاخانہ فلم کے تمام کرداروں کے خلاف عالمی قوانین کے تحت کارروائی کی جائے۔

درایں اثناء مصری محکمہ اوقاف و مذہبی امور نے بھی امریکی قبطیوں کی گستاخانہ فلم کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فلم ‘‘امریکا میں موجود قبطی شرپسندوں کی گندی ذہنیت کی عکاسی کر رہی ہے۔ پیغمبر اسلام علیہ السلام کی شان میں ایسی گستاخی ناقابل معافی جرم ہے۔

خیال رہے کہ امریکا میں گذشتہ روز نائن الیون کی گیارہویں برسی کے موقع پر مصری نژاد قبطیوں کی جانب سے ایک گستاخانہ فلم کے کچھ اجزاء دکھائے گئے تھے اور اس کے ساتھ پوری فلم نشر کرنے کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔ ‘‘محمد کے ٹرائل کا عالمی دن’’ کے عنوان سے ریلیز کردہ اس فلم میں اسلام کو نائن الیون کے واقعات کا موجب اور مسلمانوں کو اس کا ذمہ دار قراردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ فلم میں مصرمیں برپا ہونے والے انقلاب کو بھی منفی پینٹ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

یہ فلم مشہورگستاخ رسول امریکی پادری ٹیری جونزکی مدد سے تیار کی گئی ہے اوراس نے گذشتہ روزاس فلم کو نشر کرنےکا اعلان کیا تھا۔ تاہم عالمی دباؤ اور عالم اسلام کی جانب سے ممکنہ طورپر شدید رد عمل کے خوف سے امریکی انتظامیہ نے فی الحال مکمل فلم نشر کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ البتہ فلم کے کچھ شارٹس دکھائے گئے ہیں۔
 

قبطی حلقوں سے بھی فلم پر پابندی کا مطالبہ
درایں اثناء امریکی پادریوں اور قبطیوں کی اسلام مخالف فلم کے ردعمل میں نہ صرف عالم اسلام میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے بلکہ خود مصر اور دوسرے ممالک میں موجود قبطیوں کی نمائندہ تنظیموں نے بھی فلم پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔

مصری اخبار ‘‘الیوم السابع’’ کی رپورٹ کے مطابق امریکی پادری ٹیری جونز کی جانب سے گستاخانہ فلم نشر کرنے کے اعلان کے فوری بعد مصر اور دنیا بھرکی 120 قبطی تنظیموں نے گستاخانہ فلم کی مذمت کی اورامریکی انتظامیہ سے اسے نشر کرنے سے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکی اور مصری قبطیوں کی جانب سے جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا میں گستاخانہ فلم کی تیاری سے وہ مکمل طورپرلا علم تھے۔ وہ اس طرح کی گھٹیا کاموں کی حمایت نہیں کرتے ہیں۔ ہمیں جیسے ہی اس متنازعہ فلم کے بارے میںپتہ چلا ہے ہم نے فوری طور پر امریکی انتظامیہ سے فلم کی تشہیر اور اس کی پیشکش روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ وہ کسی بھی مذہب اور اس کی برگزیدہ شخصیات کی شان میں توہین کی حمایت نہیں کرتے، چاہے یہ توہین ان کے ہم مذہب اور ہم خیال لوگوں کی جانب سے ہی کیوں نہ کی گئی ہو۔ مصری میڈیا کو قبطیوں کی جانب سے موصولہ مذمتی بیان پر امریکا کے صفوت حنا، ابراہیم شفیق، کینیڈا کے سامی عبدالمسیح، فرانس کے شنودہ توفیق، آسٹریلیا کے میرنا صدیق جیسے اہم قبطی رہ نماؤں کے دستخط ثبت ہیں۔

 

modiryat urdu

Recent Posts

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

7 hours ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago